BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 June, 2007, 07:09 GMT 12:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مرضی کا فیصلہ نہیں لیا جا سکتا‘

عدلیہ خودمختار
News image
 کوئی بھی ججوں سے اپنی پسند کا فیصلہ نہیں لے سکتا۔
جسٹس رمدے
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کی درخواست کی سماعت کرنے والے فل بنچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمان رمدے کا کہنا ہے کہ عدالت سے اپنی مرضی کا فیصلہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

تیرہ رکنی فل کورٹ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے چیف جسٹس کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن نے چھٹے روز بھی اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج اپنے چیف جسٹس کو بچانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔

چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ ’ان دی لائن آف فائر‘ کے کچھ حصے وہ پڑھ کر سنائے کہ جس میں جنرل پرویز مشرف کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کو کہلوا دیا تھا کہ’میں جنرل جہانگیر کرامت نہیں ہوں‘۔

اعتزاز احسن نے کہا ’نو مارچ کو کسی اور شخص نے صدر مشرف کو کہا کہ میں جہانگیر کرامت نہیں ہوں‘۔ چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ عدالت کوفوج کی مثال پر عمل کرتے ہوئے اپنے چیف جسٹس کو بچانے کے لیے اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ اگر کسی جج کے خلاف ریفرنس دائر کیا جاتا ہے تو اس دوران اسے عدالتی ذمہ داریاں نبھانے سے نہیں روکا جا سکتا۔

اس پر بینچ کے رکن جسٹس فقیر محمد کھوکر نے کہا کہ اگر چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس آئے اور اس پر کام کرنے کی پابندی نہ ہو تو کیا وہ اپنی مرضی کا بینچ تشکیل نہیں دے گا۔

جسسٹس فقیر کھوکر کے ریمارکس پر بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ چیف جسٹس اپنی مرضی کا بینچ بنا کر اپنے حق میں فیصلہ کروا سکتے ہیں جبکہ چیف جسٹس جسٹس افتخار چودھری کا تو پہلے روز سے یہ مؤقف ہے کہ وہ اپنے آپ کو احتساب سے بالا تر نہیں سمجھتے اور ان کے مقدمے کا فیصلہ تمام ججوں پر مشتمل فل کورٹ کرے۔

 نو مارچ کو کسی اور شخص نے صدر مشرف کو کہا کہ میں جہانگیر کرامت نہیں ہوں۔
اعتزاز احسن

اس موقع پر بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمان رمدے کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ججوں سے اپنی پسند کا فیصلہ نہیں لے سکتا اور یہ کہنا کہ چیف جسٹس مرضی کا بینچ بنا کر اپنے حق میں فیصلہ کروا سکتے ہیں ججوں پر عدم اعتماد کا اظہار ہے ۔

جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کہا کہ ان کا مطلب یہ تھا کہ جج خود ہی اپنے خلاف الزام میں فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہو تو یہ انصاف کے اصولوں سے متصادم ہے۔

جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ ملک کےصدر کے بارے میں فیصلہ کرنے کی مجاز ہے تو وہ ملک کے چیف جسٹس کے بارے میں فیصلہ کیوں نہیں کر سکتی۔ جسٹس رمدے کا کہنا تھا کہ فاضل جج نے اس حوالے سے جو کچھ کہا ہے وہ ان کی طرف سے وہ الفاظ واپس لیتے ہیں۔ تاہم اس موقع پر ریمارکس دینے والے جج جسٹس فقیر کھوکر خاموش رہے۔

چیف جسٹس کے وکیل نے جب عدالت سے کہا کہ جج کو کام کرنے سے روکنے کا مطلب اس کو عہدے سے ہٹانے کے مترادف ہے تو جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کہا کہ جب کسی عہدیدار کو ہٹا دیا جائے تو وہاں ایک اسامی پیدا ہو جاتی ہے جبکہ موجودہ مقدمے میں کوئی اسامی پیدا نہیں ہے۔

جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ اگر اسامی پیدا نہیں ہوئی تو قائم مقام چیف جسٹس کیسے مقرر کر دیا گیا ہے۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ اگر کسی جج کو کام سے روک دیا جائے تو وہ جج نہیں رہتا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ کام سے روکے جانے والا جج اگر وکلاء کے تقریب میں بھی نہ جائے تو کیا کرے۔’اگر خدانخواستہ کسی اور جج کے ساتھ بھی چیف جسٹس والا سلوک ہوا تو وکلاء ان کی بھی اتنی ہی عزت افزائی کریں گے‘۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر عدالت نےصدر جنرل مشرف کے وکیل سید شریف الدین پیرزادہ کی بات مان لی تو شاید ان کو (اعتزاز احسن) کو ایک بس کی ڈرائیونگ کرنی پڑے۔

صدر جنرل پرویز مشرف کے وکیل نے سپریم کورٹ کے سامنے ملائیشیا سپریم کورٹ کی ایسا فیصلہ رکھا تھا جس میں ان ججوں کو ہٹا دیا گیا تھا جنہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی میں مداخلت کی تھی۔

جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے اعتزاز احسن سے کہا کہ آپ احتیاطً ایک بس کی بکنگ کرا دیں اور جتنے زیادہ ہوں گے مزا آئے گا۔

مقدمے کی سماعت جمعرات کو بھی جاری رہے گی۔

جسٹس افتخار کیس
’غیر فعال‘ چیف جسٹس کیس میں کب کیا ہوا
جسٹس افتخار جسٹس کا بیانِ حلفی
جسٹس افتخار کے بیانِ حلفی کا مکمل متن
فیصل آباد: تیاریاں
چیف جسٹس کے لیے وکلاء چشم براہ
 جسٹس افتخار کے ساتھ بدسلوکی’یہ ہاتھ کس کا ہے‘
جسٹس افتخار کے بال کس نے کھینچے؟
وکلاء کا احتجاجوکلاء کے مظاہرے
کراچی اور بلوچستان میں وکلاء کا احتجاج
افتخار چودھری20 ویں چیف جسٹس
جسٹس افتخار 2011 تک کے لیے چیف جسٹس تھے
 جسٹس افتخارفیصلے کے محرکات
آخر جنرل مشرف نے ایسا کیوں کیا؟
اسی بارے میں
300 سے زائد کارکن گرفتار
15 June, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد