’نئی صبح طلوع ہو چکی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری نے ساہیوال میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ریاست کے تینوں ادارے مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ اپنے اپنے محور میں کام کریں تو پاکستان کی وہ صورتحال نہ ہو جو اس وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کی تحریک ضرور کامیاب ہوگی، اس میں دیر ہے لیکن اندھیر نہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر کے اختتام کے وقت کہا کہ اب ایک نئی صبح طلوع ہو چکی ہے۔ چیف جسٹس کا قافلہ اب ملتان سے صرف پینتیس کلومیٹر دور ہے۔ یہ قافلہ سنیچر کی صبح تقریباً سوا سات بجے لاہور سے ملتان کے لیے بذریعہ سڑک روانہ ہوا تھا اور اٹھائیس گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے بعد بھی ابھی سفر باقی ہے۔ سفر کے دوران راستے میں آنے والے شہروں میں چیف جسٹس کا زبردست استقبال کیا گیا۔ ساہیوال میں بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے چیف جسٹس کو خوش آمدید کہا۔ ساہیوال میں انہوں نے چار مئی کو احتجاجی مظاہرے میں پولیس کے ہاتھوں زخمی ہونے والے وکلاء سے بھی ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔ چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ وکلاء کی تحریک کا مقصد پاکستان کو ’سکیورٹی ریاست سے فلاحی ریاست‘ بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک کا مقصد عوام کی فلاح ہے اور یہ کہ ملک کو ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچھے ججوں کی تقرری بھی عوام کی فلاح کے لیے ضروری ہے اور اس عمل میں وکلاء کو شامل کیا جانا چاہیے۔ چیف جسٹس کا اس سے پہلے پتوکی اور اوکاڑہ میں بھی زبردست استقبال کیا گیا تھا۔ اوکاڑہ میں ان کے استقبال کے لیے وکلاء اور عوام کی اتنی بڑی تعداد موجود تھی کہ ہجوم سے گزرتے ہوئے انہیں ڈِسٹرکٹ بار تک پہنچنے میں چار گھنٹے لگے۔ لاہور سے نامہ نگار علی سلمان نے بتایا کہ اوکاڑہ میں چیف جسٹس کی آمد سے پہلے پولیس نے اوکاڑہ کی بے نظیر روڈ پر لگے مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے دوالگ الگ کیمپ اکھاڑ لیے تھے اور شہر کے مختلف علاقوں سے سیاسی جاعتوں کے بینر اور پوسٹر اتار دیے تھے۔ لیکن چیف جسٹس کے پہنچنے سے کچھ دیر پہلے کارکنوں نے اپنے کیمپ دوبارہ لگالیے اور شہر کو بھی دوبارہ سیاسی پوسٹروں اور بینروں سے بھر دیا۔ شہر میں پیپلز پارٹی مسلم لیگ نواز کے جھنڈے بڑی تعداد میں نظر آرہے تھے۔ پتوکی میں استقبال اگرچہ چیف جسٹس کا پتوکی میں قیام یا خطاب کا پروگرام نہیں تھا لیکن استقبالی ہجوم میں شامل وکلاء بضد تھے کہ وہ سڑک کنارے بنائے گئے پنڈال میں آئیں۔ اس موقع پر وکلاء ان کی گاڑی کے آگے لیٹ گئے اور اصرار کیا کہ چیف جسٹس کی گاڑی پنڈال کی جانب موڑی جائے۔ چیف جسٹس کی گاڑی پنڈال کے اندر لیجائی گئی لیکن ہجوم کی وجہ سے وہ گاڑی سے باہر نہیں نکل سکے اور خاصی دیر کی جد و جہد کے بعد قافلے نے دوبارہ ملتان کا رخ کیا۔ پتوکی میں سیاسی جماعتوں کے رہنما یا کارکنوں کی تعداد قدرے کم تھی جبکہ عام شہری ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے۔ اس سے قبل چیف جسٹس جمعہ کی شب ہوائی جہاز کے ذریعے اسلام آباد سے لاہور پہنچے تھے جہاں ان کا سینکڑوں وکلاء سمیت سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں نے پرتپاک استقبال کیا۔ چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری کے قافلے میں وکلاء کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ ان کی گاڑی اس بار پاکستان بارکونسل کے رکن کاظم خان چلا رہے ہیں۔ ملتان میں تیاریاں سنہ انیس سو اکاسی میں تشکیل پانے والی ملتان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی دعوت پر یہ کسی بھی چیف جسٹس آف پاکستان کا دوسرا دورہ ہوگا۔ چیف جسٹس کو لائرز کنونشن میں مدعو کیا گیا ہے جس کے لئے دعوت نامے پورے پنجاب کی ایک سو نو ڈسٹرکٹ اور تحصیل بار ایسوسی ایشنز کو ارسال کیے گئے ہیں۔ ان میں ہائیکورٹ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اور سول کورٹس کے جج صاحبان بھی شامل ہیں۔
لیکن دوسری طرف نو مارچ کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ملک کے مختلف حصوں میں جو دورے کیے ہیں یا جن تقریبات میں شرکت کی ہے ان میں پشاور، لاہور، سکھر اور حیدرآباد میں تو ہائیکورٹ اور ماتحت عدلیہ کے جج صاحبان شریک ہوئے لیکن ایبٹ آباد اور فیصل آباد میں جج صاحبان کی حاضری نظر نہیں آئی۔ دیکھنا یہ ہے کہ ملتان میں ہونے والے لائرز کنونشن میں چیف جسٹس کی آمد پر جج صاحبان کی شرکت کی روایت کا کیا ہوتا ہے۔ ملتان ایک اہم شہر ہے اور وکلاء کی طرف سے چیف جسٹس کی بحالی کی جو تحریک جاری ہے اس میں وکلاء اور سیاسی حلقے دونوں اس دورے کو اہمیت دے رہے ہیں۔
ملتان میں چیف جسٹس کے استقبال کے لئے ملتان ہائیکورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار کی انتظامیہ نے جو پروگرام ترتیب دیے ہیں، ان کے مطابق ملتان بار کی استقبالیہ کمیٹی کے اراکین ڈیڑھ سوگاڑیوں کے جلوس کے ساتھ وکلاء چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا استقبال ملتان کے نواحی علاقہ پل رانگو پر کریں گے اور پھر انہیں جلوس کی صورت میں ہائیکورٹ ملتان بینچ لایا جائے گا، جہاں ایک بڑا پنڈال قائم کیا گیا ہے۔ ملتان بار کے سیکرٹری رانا نوید کے مطابق ہائیکورٹ ملتان بینچ کی عمارت کے لان میں قائم پنڈال میں ساڑھے پانچ ہزار کرسیاں لگائی جا رہی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ بار ایسوسی ایشن کے لان اور پارکنگ پر بھی شرکاء کے بیٹھنے کا بندوبست کیا جا رہا ہے، جبکہ وکلاء اور لوگوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر ایس پی چوک سے کے ایف سی چوک اور کھوسہ چیمبر سے کے ایف سی چوک تک سڑک ٹریفک کے لئے بند ہو گی۔ ملتان میں حکومت مخالف سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز، ایم ایم اے، تحریک انصاف اور دیگر جماعتیں اور ان کے مقامی کارکن اور قائدین کی طرف سے بھی چیف جسٹس کا پرجوش استقبال کرنے کی تیاریاں کی گئی ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی اور این جی اوز کی طرف سے عوام کو چیف جسٹس کے استقبال کے لئے مدعو کرنے اور رائے عامہ ہموار کرنےکے لئے کئی دن پہلے سے شہر کے مختلف علاقوں میں کیمپ بھی لگائے گئے ہیں۔ یہ دورہ ملتان کی ضلعی انتظامیہ کے لئے بھی ایک امتحان ہے۔ چیف جسٹس کے حال ہی میں مختلف شہروں میں ہونے والے دوروں میں لوگوں کی شرکت ، جلوسوں اور تقریب کی طوالت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے اپنا لائحہ عمل ترتیب دیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری ملتان میں ہونے والے لائرز کنونشن میں کس موضوع پر گفتگو یا خطاب کریں گے، اس کا اعلان چیف جسٹس کے وکلاء اور ملتان بار کے عہدیداروں، دونوں کی طرف سے نہیں کیا گیا۔ صدر بار حبیب اللہ شاکر کے مطابق ’چیف جسٹس ملتان میں اپنے خطاب سے پہلے خود ہی بتائیں گے کہ انہوں نے کس موضوع پر بات کرنی ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||