’فیصلہ بیس جولائی تک متوقع‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت کرنے والے تیرہ رکنی فل کورٹ بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے بدھ کواعلان کیا ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ بیس جولائی تک کر دیا جائے گا۔ جسٹس خلیل الرحمن نے حکومتی وکلاء ملک قیوم، سید شریف الدین پیرزادہ اور اٹارنی جنرل کو کہا ہے کہ وہ اپنے دلائل اس انداز میں دیں کہ مقدمہ اگلے جمعے (بیس جولائی) سے پہلے ختم ہو جائے۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ وہ عدالت کو یقین دلاتے ہیں کہ سرکاری وکلاء انیس جولائی تک اپنے دلائل ختم کر لیں گے جس کے بعد چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن کو جوابی دلائل کے لیے ایک دن مل جائے گا۔ تیرہ رکنی فل کورٹ نے چودہ مئی سے چیف جسٹس کی آئینی درخواست کی سماعت روزانہ شروع کر رکھی ہے اور اب تک مسلسل اڑتیس دن مقدمے کی سماعت ہو چکی ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ وہ چیف جسٹس کی آئینی درخواست کے علاوہ کسی اور درخواست کی سماعت نہیں کر رہا۔ چودہ مئی کو سماعت شروع کرنے کے بعد عدالت نے چیف جسٹس کے علاوہ اسی معاملے سے متعلق تئیس دوسرے درخواست گزاروں کو ان کی درخواستوں کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل دینے کی اجازت دی تھی لیکن بعد میں فیصلہ کیا گیا کہ وہ صرف چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی درخواست کو سنیں گے۔ وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم نے مسلسل ساتویں روز اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جب کسی جج کے خلاف ریفرنس دائر ہو چکا تو اس کو کام کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔ ملک قیوم نے جب امریکی ریاست ٹیکساس کے ایک کاونٹی جج کے مقدمے کا حوالہ دیا تو جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ وفاقی حکومت کے وکیل ایک کاونٹی جج جو پاکستان کے سول جج کے برابر ہوتا ہے کا حوالہ دے رہے ہیں جبکہ عدالت کے سامنے مقدمہ چیف جسٹس آف پاکستان کا ہے۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ وہ امریکی عدالت کے فیصلے کا حوالہ ججوں کے رتبے کے مطابق نہیں بلکہ ایک اصول کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر جج پر بدعملی کا الزام لگے تو پھر اسے کام سے روکا جا سکتا ہے۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ وہ پاکستان کے پہلے فوجی حکمران ایوب خان کی ڈائریوں کا بھی حوالہ دیں گے جن میں انہوں نے لکھا ہے کہ پاکستانی جج ایک ایسی مخلوق ہے جو ہر کسی کا احتساب کرنا چاہتی ہے لیکن وہ اپنا احتساب نہیں چاہتی۔ تیرہ رکنی عدالت کے سربراہ خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہے کہ نو مارچ کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو کام سے روکے جانے کے بعد چوبیس مارچ تک اٹھائے گئے اقدامات کو کیسے قانونی تحفظ دیا جا سکتا ہے۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ صدر اور سپریم جوڈیشل کونسل کسی جج کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنے کا مجاز آئینی ادارہ ہے۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ چیف جسٹس کو کام سے روکنے والے دو احکامات اور ان کو جبری رخصت پر بھیجنے کے حکم میں سے کسی ایک کو بھی جائز قرار دے تو اس سے وفاقی حکومت کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ اسے عدلیہ کی آزادی کا تحفط کرنا ہے نہ کسی مخصوص فرد کا تحفظ کرنا ہے۔ ملک قیوم نے کہا کہ سپریم کورٹ جب یہ قرار دے سکتی ہے کہ ججوں کی تعیناتی کے لیے صدرِ پاکستان کی چیف جسٹس کے ساتھ مشاورت کو ماننا صدر کے لیے لازم ہے تو پھر عدالت یہ کیوں نہیں مان سکتی کہ صدر کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش کو ماننا لازم ہے۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ عدالت کو اچھی طرح معلوم ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کتنا اہم ادارہ ہے جس کو صدر کی طرف سے ’احکامات‘ بھیجے جاتے ہیں۔ | اسی بارے میں ’عدلیہ ہی ذمہ دار نہیں‘27 June, 2007 | پاکستان مقدمہ نہیں بحران ہے: جسٹس رمدے27 June, 2007 | پاکستان سپریم کورٹ میں حکومت کی معافی 02 July, 2007 | پاکستان ’سوال ہے احتساب کون کرے گا‘03 July, 2007 | پاکستان ’ایڈوائس وزیر اعظم ہی کی تھی‘04 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||