BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سوال ہے احتساب کون کرے گا‘

اعتزاز کے بعد ملک قیوم دلائل دے رہے ہیں

سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری احتساب سے بالا تر نہیں ہیں لیکن عدالت کے سامنے صرف یہ سوال ہے کہ چیف جسٹس کا احتساب کونسا ادارہ کرے گا۔

منگل کے روز وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم نے عدالت کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ چیف جسٹس بھی ایک جج ہوتے ہیں اور ان کے احتساب کرنے کا اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کو ہی حاصل ہے۔

سرکاری وکیل ملک قیوم نے جب اپنے نقطے کو واضح کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 203 کا حوالہ دیا جس کے تحت وفاقی شرعی عدالت تشکیل دی گئی ہے تو بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن نے کہا کہ یہ آرٹیکل چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے کہنے پر شامل کیا گیا تھا۔ جسٹس خلیل الرحمن نے کہا کہ وفاقی شریعت عدالت کو ججوں کو ادھر اًًدھر کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ جسٹس ناصر اسلم زاہد، جسٹس خلیل الرحمن خان، جسٹس میاں محبوب اور دوسرے ججوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سب کے سامنے ہے اور وفاقی شرعی عدالت کے ججوں کو آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی (او ایس ڈی) بھی بنایا جا سکتا ہے۔

جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ اسلام کی تشریح کرنے والے ججوں کو تو پانی کی مشکیں بھرنے پر بھی لگایا جا سکتا ہے جبکہ انگریزی قانون کے تحت کام کرنے والے ججوں کو آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت تحفظ حاصل ہے۔

جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل دو سو تین 1973 کے اصلی آئین میں شامل نہیں تھا۔

وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم نے کہا کہ آئین ججوں کو ہٹانے سے متعلق تو تحفظ فراہم کرتا ہے لیکن معطلی سے متعلق کوئی تحفظ نہیں ہے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ کیا حکومت کے وکیل کہہ رہے ہیں کہ جج کو معطل کیا جا سکتا ہے۔ اس پر حکومتی وکیل نے کہا کہ جب وہ اس نکتے پر پہنچیں گے تو تب ہی اس کے بارے میں اپنا نکتہ نظر بیان کریں گے۔

جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ 1973 کے بعد تین چیف جسٹسوں کو فارغ کیا جا چکا ہے جبکہ چوتھے کا معاملہ چل رہا۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ چیف جسٹس یعقوب علی خان، جسٹس انور الحق، اور سعید الزمان صدیقی کو نکالا جا چکا ہے جبکہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا معاملہ ابھی چل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ججوں کی ایک بڑی تعداد کو آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت نہیں بلکہ دوسرے طریقوں سے ہٹایا جا چکا ہے۔

جسٹس محمد نواز عباسی نے کہا کہ جب حکومت جج کو ہٹانا چاہتی ہے تو اسے آرٹیکل 209 کی ضرورت نہیں ہوتی اور اس کے پاس جج کو ہٹانے کے کئی طریقے ہیں۔

عدالت کے استفسار پر کہ کیا کسی چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر ہونے سے وہ معطل ہو جاتا ہے تو حکومتی وکیل نے کہا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری ابھی تک چیف جسٹس آف پاکستان ہیں۔

جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ وہ کیسے چیف جسٹس ہیں جن کے پاس نہ گاڑی ہے نہ جھنڈا ہے جبکہ ان کا دفتر سیل ہو چکا ہے۔

ملک قیوم نے کہا کہ ان سوالات کے جواب تو وفاقی وزیر قانون وصی ظفر ہی دے سکتے ہیں لیکن ان کے ذاتی خیال میں چیف جسٹس کو ’غیر فعال” نہیں بنایا جانا چاہیے تھا۔

ایک موقع پر سرکاری وکیل نے کہا کہ یہ عدلیہ کا قصور ہے کہ وہ ہر ڈکٹیٹر کا حکم مان لیتی ہے۔ جسٹس رمدے نے کہا ’آرڈر تو ڈنڈے سے منوائے جاتے ہیں”۔

منگل کے روز جب کارروائی شروع ہوئی تو عدالت نے وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم سے دریافت کیا کہ کیا ان کے پاس کوئی ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ حکومت نے ظفر نقوی کو ایڈوکیٹ آن ریکارڈ مقرر کیا ہے۔ تیرہ رکنی فل کورٹ نے پیر کے روز حکومتی ایڈوکیٹ آن ریکارڈ چودھری اختر علی معطل کر دیا تھا۔

عدالت نے اعلان کیا کہ اب وہ جمعہ کے روز چیف جسٹس کی آئینی درخواست کی سماعت نہیں کریں گے اور ہفتہ میں چار روز تک مقدمے کی سماعت ہوا کرے گی۔

مقدمے کی سماعت کل بھی جاری رہے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد