مقدمہ نہیں بحران ہے: جسٹس رمدے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی فل کورٹ سے کہا ہے کہ اگر ان کو بحال کردیا جاتا ہے تو وہ تمام تلخیاں بھلا کر عدلیہ کو متحد، متحرک اور مضبوط کرنے کی کوشش کریں گے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی طرف سے یہ بات ان کے وکیل اعتزاز احسن نے بدھ کے روز سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بینچ کے سامنے کہی جو چیف جسٹس کی آئینی درخواست کی سماعت کر رہا ہے۔ اعتزاز احسن نے بدھ کے روز دلائل شروع کرتے ہوئے کہا کہ وہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی ہدایت پر عدالت کو بتانا چاہتے ہیں کہ اگر وہ بحال ہو گئے تو وہ عدالت میں خوشگوار تعلقات کو بحال کریں گے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ ان کے مؤکل چاہتے ہیں کہ ان کے مقدمے کا فیصلہ موجودہ عدالت ہی کرے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ ان کے مؤکل دلی طور پر نو مارچ اور تیرہ مارچ کو بھلا کر عدلیہ کو مربوط اور متحرک دیکھنا چاہتے ہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ گزشتہ روز انہوں نے اپنے مؤکل کی ہدایت پر دو ججوں سے متعلق الزامات عدالت میں پڑھ کر نہیں سنائے تھے۔
اس موقع پر جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے کہا یہ ’کیس‘ نہیں ’کرائسس‘ ہے یعنی مقدمہ نہیں بحران ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت نقصان ہو چکا ہے اور اب کچھ نہ کچھ افہام وتفہیم کی فضا پیدا ہونی چاہیے۔ اعتزاز احسن نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی سماعت کرنے کی مجاز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتی۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے اس آئین کے آرٹیکل دو سو نو کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ چیف جسٹس ہی سپریم جوڈیشل کونسل کی سربراہی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس پانچ رکنی کونسل میں شامل باقی چار جج تو تبدیل کیا جا سکتا ہے، لیکن چیف جسٹس کے بغیر یہ مکمل نہیں ہوتی۔ اعتزاز احسن نے مزید کہا کہ چیف جسٹس کے خلاف فیصلہ کرنے کا اختیار صرف اور صرف فل کورٹ کو ہے۔ تاہم موجودہ ریفرنس کے مندرجات پر اظہار خیال کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ ریفرنس خفیہ اداروں کی رپورٹ پر مرتب کیا گیا ہے اور خفیہ اداروں کی رپورٹوں پر ریفرنس نہیں بنایا جا سکتا۔ جسٹس نواز عباسی نے اعتزاز احسن سے استفسار کیا کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی سماعت نہیں کر سکتی تو کیا یہ باقی ججوں سے امتیازی سلوک نہیں ہو گا۔
اعتزاز احسن نے جواباً کہا کہ ایسا کرنا ہرگز امتیازی نہیں ہو گا اور انہوں نے اس سلسلے میں وزیر اعظم اور وزراء کو ہٹائے جانے کے لیے قانونی طریقہ کار کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا وزیر اعظم کو ہٹانے کے لیے پوری قومی اسمبلی کو تحریک عدم اعتماد منظور کرنی پڑتی ہے جبکہ ایک وزیر کو ہٹانے کے لیے قومی اسمبلی یا پارلیمان کے پاس نہیں جانا پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح صدر کے خلاف مواخذِہ کی تحریک سینیٹ اور قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں پیش کی جاتی ہے۔ جسٹس افتخار چودھری کے وکیل نے سجاد علی شاہ کیس (ملک اسد علی کیس) کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ اس کیس میں عدالت یہ کہہ چکی ہے کہ چیف جسٹس کے بارے میں فیصلہ فل کورٹ ہی کرے گی۔ آئین کی دفعہ دو سو نو کا حوالے دیتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ اس میں چیف جسٹس کو ہٹانے کا طریقہ کار نہیں دیا گیا اور ایسا آئین بنانے والوں کا صرف نظر یا غلطی نہیں بلکہ ایسا جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں جہاں کوئی فورم سربراہ کے بغیر مکمل نہ ہوتا ہو اور سربراہ کے خلاف ہی کیس پیش ہو جائے تو پھر سربراہ سماعت میں بیٹھتا تو ہے لیکن اپنے ہی خلاف فیصلہ نہیں کرسکتا۔ انہوں نے یہاں پر امریکہ کی سپریم کورٹ کا ہمدان بنام رمز فیلڈ کیس کے فیصلہ کا حوالہ بھی دیا جس میں کہا گیا تھا کہ انتہائی ضرورت پڑنے پر یا دوسرے لفظوں میں نظریہ ضرورت کے تحت کسی فورم کا سربراہ اپنے ہی خلاف پیش ہونے والے کیس کی سماعت کی سربراہی تو کر سکتا ہے لیکن فیصلہ نہیں کر سکتا۔
قائم مقام چیف جسٹس کےتقرر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ الجہاد کیس میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ قائم مقام چیف جسٹس کا تقرر نوے دن کے لیے ہو سکتا ہے جبکہ موجودہ صورت حال میں قائم مقام چیف جسٹس کی تقرری کو ایک سو بارہ دن ہو چکے ہیں۔ چیف جسٹس کے وکیل نے صدر مشرف کے چیف آف سٹاف، ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلیجنس اور ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلیجنس کی طرف سے جمع کرائے جانے والے حلفیہ بیانوں پر اپنی بحث کے دوران کہا کہ ان کے مؤکل، چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے پوری ذمہ داری کے ساتھ حلف نامہ جمع کرایا ہے جبکہ حکومت کی جانب ان عہدیداروں نے حلفیہ بیان جمع کرائے ہیں جو مقدمے کے فریق ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مؤکل کو حلفیہ بیان داخل کراتے اس بات کا بخوبی علم تھا کہ وہ کٹہرے میں کھڑے ہونے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر عدالت محسوس کرے کہ چیف جسٹس کو بطور گواہ پیش ہونا چاہیے تو وہ بصد خوشی کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ جہاں تک چیف جسٹس کے خلاف موجودہ ریفرنس کا تعلق ہے وہ بدنیتی پر مبنی ہے اور وہ ریفرنس نہیں بلکہ بغاوت تھی۔ جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کہا کہ اگر اعتزاز احسن کی بات مان لی جائے کہ چیف جسٹس کے خلاف آئین کے آرٹیکل دو سو نو کے تحت ریفرنس دائر نہیں ہو سکتا تو پھر ان کو اسی آرٹیکل کا تحفظ بھی ختم ہو جائے گا اور انتظامیہ ایک آرڈر سے چیف جسٹس کو برخاست کر سکے گی۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس کو آرٹیکل 179 کا تحفظ حاصل ہے جس کے تحت سپریم کورٹ کے جج کو پینسٹھ سال کی عمر تک نہیں نکالا جا سکتا۔
اعتزاز احسن نے صدر جنرل پرویز مشرف کے نو مارچ کے بعد انٹریوز اور سرکاری عہدیداروں کے حلفیہ بیانات میں دی گئی معلومات کا موازانہ کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ حلفیہ بیانات جھوٹ کا پلندہ ہیں اور عدالت ان کو رد کر دے۔ تیرہ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن نے اعتزاز احسن سے کہا کہ وہ اپنا وقت کیوں ضائع کر رہے ہیں عدالت ان حلفیہ بیانات کو دیکھنا بھی نہیں چاہتی۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر عدالت حلفیہ بیانات کو نہیں دیکھنا چاہتی تو وہ اس پر مزید دلائل نہیں دیں گے۔ چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے دس روز کے مسلسل دلائل کے بعد بدھ کے روز اپنے دلائل ختم کیے تو عدالت نے حکومت کے وکلاء کو دلائل شروع کرنے کی دعوت دی۔ وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم نے عدالت سے مقدمے کو پیر تک ملتوی کرنے کی درخواست کی۔ ملک قیوم نے کہا کہ چونکہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری وکلاء کی دعوت پرجمعرات کے روز سپریم کورٹ بلڈنگ میں آ رہے ہیں اور ان حالات میں وہ سرکاری وکلاء غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے وفاقی حکومت کے وکیل سے کہا کہ چیف جسٹس کے سپریم کورٹ بلڈنگ میں آنے سے انہیں کیا فرق پڑے گا۔ جسٹس رمدے نے کہا:’ کہ کیا سرکاری وکلاء کی عزت کو خطرہ ہے۔‘ اعتزاز احسن نے التو کی درخواست کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے۔ ملک قیوم نے کہا کہ وہ حکومت سے اعتزاز احسن کی اس پیشکش کہ فل کورٹ ہی چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی سماعت کرے، سے متعلق اپنے حکومت سے ہدایت لینا چاہتے ہیں۔ اس پر اعتزاز احسن نےکہا کہ انہوں نے ایسی کوئی پیشکش کی ہی نہیں ہے۔اعتزاز احسن نے کہا کہ ان کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کے خلاف کارروائی کا اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کو نہیں بلکہ فل کورٹ کو ہے لیکن موجودہ ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے اور وہ سماعت کے قابل نہیں ہے۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا چیف جسٹس کے وکیل اپنی پیشکش سے بھاگ رہے ہیں۔ عدالت نے جب حکومت کی درخواست پر مقدمے کی کارروائی پیر تک ملتوی کرنے پر رضامندگی ظاہر کی تو چیف جسٹس کے وکلاء جن میں اعتزاز احسن ، حامد خان اور طارق محمود نے آپس مشورے کے بعد عدالت سے کہا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نہیں آئیں گے اور عدالت کو اپنی کارروائی نہیں روکنی چاہیے۔ وفاقی حکومت کے وکیل نےکہا کہ چیف جسٹس اگرسپریم کورٹ بلڈنگ میں نہیں بھی آتے تب بھی مقدمے کو پیر تک ملتوی کر دیا جائے۔ عدالت نے وفاقی حکومت کے وکیل کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے کی کارروائی کل بھی جاری رہے گی۔ | اسی بارے میں عدلیہ ہی قصوروار نہیں:جسٹس رمدے26 June, 2007 | پاکستان ’عدلیہ پر کوئی دباؤ نہیں ہے‘15 June, 2007 | پاکستان مزید ’لاپتہ‘ واپس، مقدمہ چلتا رہے گا25 May, 2007 | پاکستان آئینی پٹیشن، باقاعدہ سماعت شروع11 June, 2007 | پاکستان ’ کونسل میں مداخلت نہیں‘21 May, 2007 | پاکستان ’خفیہ اداروں کے سربراہ دباؤ ڈالتے رہے‘29 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||