عدلیہ ہی قصوروار نہیں:جسٹس رمدے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی فل کورٹ کے سربراہ جسٹس خلیل رحمان رمدے نے کہا ہے کہ پاکستان کی عدلیہ ہی ملک کے تمام مسائل کی ذمہ دار نہیں ہے۔ تیرہ رکنی فل کورٹ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن نے کہا :’مان لیا کہ ہم اتنے اچھے لوگ نہیں لیکن ہم ہی ملعون اور قابل طعنہ زنی نہیں۔‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت کے دوران جب اعتزاز احسن نے عدالت سے کہا کہ مولوی تمیزالدین مقدمے کے بعد یہ سب سے اہم مقدمہ ہے جو پاکستان کی تاریخ کی سمت متعین کرے گا اس وکیل اور ججوں کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ ہر کوئی کہتا ہے کہ جسٹس منیر نے پاکستان کا بیڑا غرق کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس منیر نے ایوب خان کے اقتدار پر قبضے کو جائز قرار دیا لیکن جب ایوب خان نے آئین بنا لیا تو کسی نے اسے رد نہیں بلکہ سب نے اسے قبول کر لیا اور اسی کے تحت انتخابات میں حصہ لیا اور کوئی وزیر بنا اور کوئی اپوزیشن لیڈر۔اس پر اعتزاز احسن نےلقمہ دیا کہ کہ کچھ جج بھی بنے۔
جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جنرل مشرف کے ’مارشل لا‘ کو تین سال کے لیے جائز قرار دیا لیکن لوگوں نے انہیں پانچ سال مزید دے دیئے۔ ’ایسے لگتا ہے کہ لوگوں نے سپریم کورٹ کو ڈانٹ پلائی کہ آپ نے صرف تین سال کیوں دیئے۔‘ اعتزاز احسن نے کہا اس حمام میں ہم سب ننگے ہیں اور ترجیحات کچھ بھی ہوں پاکستان کی فوج، عدلیہ، مذہبی جماعتیں اور سیاستدان شامل ہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر فوج کے خلاف بات کی جائے تو تئیس سال قید ہو سکتی ہے اور جاوید ہاشمی کی مثال سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدلیہ کے خلاف بات کی جائے تو سمری ٹرائل کے بعد چھ مہینے کے لیے جیل جانا پڑتا ہے۔ مذہبی جماعتوں کے خلاف بات کی جائے تو فتویٰ آ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سارا کا سارا گند سیاسی جماعتوں کی دہلیز پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اعتزاز احسن کے دلائل کے دوران بینچ میں شامل ایک اور جج جسٹس نواز عباسی نے کہا کہ سیاست دان بگاڑ پیدا کرتے ہیں اور عدالتیں ٹھیک کرتی ہیں۔ جسٹس نواز عباسی کے جواب میں اعتزا احسن نے معنی خیز انداز میں کہا کہ وہ چھ مہینے سے ڈرتے ہیں اس لیے اس پر کچھ نہیں کہیں گے۔ اعتزاز احسن نے سپریم جوڈیشل کونسل میں شامل تین ججوں پر اعتراضات کے حوالے سے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی جج پر تعصب کا الزام لگایا جائے تو اس کو مقدمہ نہیں سننا چاہیے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کی طرف سے سپریم جوڈیشل کونسل میں شامل تین ججوں جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس افتخار حسین چودھری پر اعتراض اٹھایا گیا ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ ججوں پر عموماً دو قسم کے اعتراض کیئے جاتے ہیں، اول یہ کہ سائل کہے کہ جج سے انصاف کی توقع نہیں ہے اور دوسرا یہ کہ کسی مقدمے میں جج کا ذاتی مفاد وابستہ ہو۔
انہوں نے سپریم کورٹ کے ججز کیس کا حوالہ دیا تو جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ ایسے فیصلوں کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی اگر اس کو لکھنے والا خود ہی اس کی خلاف ورزی کرنا شروع کر دے۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ ججز کیس کی سب سے پہلی خلاف اس کو تحریر کرنے والے جج نے ہی کی تھی اور شاید اسی وجہ سے سپریم کورٹ کے لمبے لمبے فیصلے لوگوں کو متاثر نہیں کر پاتے۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ اگر کسی جج کو کہا جائے کہ اس سے انصاف کی توقع نہیں ہے تو جج کو خود ہی وہ مقدمے سننے سے انکار کر دینا چاہیے لیکن یہ کچھ جج کے ضمیر کا مسئلہ ہے۔ اس موقع پر جسٹس ایم جاوید بٹر نے کہا کہ حساس نوعیت کے معاملات کو جج کے ضمیر پر نہیں چھوڑا جا سکتا اور اس پر عدالت کو فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ اعتزاز احسن نے ججوں کے تعصب کے حوالے اپنے دلائل کو آگے بڑھاتے ہوئے بینظیر بھٹو مقدمے کا حوالہ دیا تو جسٹس محمد نواز عباسی نے کہا کہ جس بینچ نے بینظیر بھٹو اور آصف زرداری کے مقدمے کا فیصلہ کیا اور ان کے فیصلے کی وجہ سے سپریم کورٹ کے ایک جج کو استعفی دینا پڑا اور پھر اسی بینچ کے چار جج چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ اس مقدمے کی تفیصلات میں نہیں جانا چاہتے کہ وہ ٹیپ کیسے سامنے آئیں اور اس وقت کچھ جج حکومتی عہدیداروں کے ساتھ کیا باتیں کر رہے تھے وگرنہ اسی کمرہ عدالت میں بیٹھے کچھ لوگوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اعتزاز احسن ملک قیوم کا حوالہ دے رہے تھے جن کو سپریم کورٹ نے بینظیر بھٹو مقدمے میں متعصب جج قرار دیا تھا جس کی بنیاد پر انہیں استعفی دینا پڑا اور اب وہ وفاقی حکومت کے وکیل ہیں۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے اعتزاز احسن کو کہا کہ وہ اس مقدمے کو چھوڑ کر آگے بڑھیں۔ جسٹس ایم جاوید بٹر نے کہا کہ ایسی بھی مثالیں ہیں کہ جج نے اس بنیاد پر مقدمہ سننے سے انکار کر دیا کہ وہ انہوں نے کسی حکومتی عہدیدار کے ساتھ ڈنر کیا تھا۔ اس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ انہوں نے تو کچھ ججوں کے سرکاری وکیلوں کے ساتھ لنچ کی بات ہی نہیں ہے۔ اس موقع پر جب جسٹس محمد نواز عباسی نے کہا کہ کچھ کہنے کی کوشش کی تو اعتزاز احسن نے کہا کہ ’ آپ کیوں سٹپٹا جاتے ہیں حالانکہ سید شریف الدین پیرزادہ کو خیال رکھنا چاہیے تھا کہ وہ ان ججوں کے ساتھ لنچ نہ کریں جن کے سامنے ان کے موکل کا مقدمہ ہے۔‘ جسٹس محمد نواز عباسی اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر چیف جسٹس کو مقدمے سے پہلے صدر پرویز مشرف کے وکیل سید شریف الدین پیرزادہ کے ساتھ اسلام آباد کلب میں لنچ کرتے دیکھا گیا تھا۔ اس موقع پر جب ملک قیوم نے سید شریف الدین پیرزادہ کے حوالے کچھ کہنا چاہا تو اعتزاز احسن نے کہا کہ عجیب بات ہے کہ شریف الدین پیرزادہ کی موجودگی میں ملک قیوم کی جانب سے بول رہے ہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ جب ریکارڈ کی بات آئے گی تو پھر پارسائی کے دعوؤں کو قبول نہیں کر سکتے۔ اعتزاز احسن نے کہا سید شریف الدین پیرزادہ کی عمر کا لحاظ اپنی جگہ لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ پبلک ریکارڈ کو دوبارہ سے پڑھا جانا ضرروری ہے تاکہ یہ پتہ لگ سکے کہ کس نے فوجی آمروں کا ساتھ دیا اور کس نے فوجی حکمرانوں کی حمایت میں ججوں سے حلف دلوائے۔ چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ جسٹس جاوید اقبال کو چیف جسٹس کے مقدمے کے ساتھ ذاتی مفاد وابستہ ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ دوسرے دو ججوں سے متعلق الزامات عدالت میں پڑھ کر نہیں سنائیں گے اورججوں کو ان کی پٹیشن ضرور پڑھنی چاہیے۔ اعتزاز احسن نے جسٹس جاوید اقبال کے علاوہ جسٹس عبدل الحمید ڈوگر اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس افتخار حسین چودھری پر تعصب کا الزام عائد کر رکھا ہے۔ اعتزاز احسن نے جب سپریم جوڈیشل کونسل کی بند کمرے میں کارروائی سے متعلق دلائل شروع کیے تو جسٹس رمدے نے کہا کہ اب کیا رہ گیا ہے۔ اعتزاز احسن نے سپریم جوڈیشل کونسل کے رولز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ صرف اور صرف پرائیوٹ شکایت سے متعلق ہیں اور اگر جج خود کہہ رہ اس مقدمہ کی سماعت کھلی عدالت میں ہونا چاہیے تو پھر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ اعتزاز احسن نے کہا عدالت کو بتایا کہ بدھ کے روز اپنے دلائل مکمل کر لیں لیکن اگر اس میں کامیاب نہ ہوئے تو جمعرات کے روز ہر صورت میں ختم کر لیں گے۔ مقدمے کی سماعت بدھ کے روز بھی جاری رہے گی۔ | اسی بارے میں ’تمیزالدین کیس کا حوالہ نہ دیں‘22 May, 2007 | پاکستان ’شرارت کرو گے تو جج بنا دوں گا‘23 May, 2007 | پاکستان مزید ’لاپتہ‘ واپس، مقدمہ چلتا رہے گا25 May, 2007 | پاکستان ’سڑکوں پر خون بہہ رہا ہے اور ۔۔۔‘25 May, 2007 | پاکستان ’خلیفہ سے سوال ہوسکتا تومشرف سے کیوں نہیں‘29 May, 2007 | پاکستان ’خفیہ اداروں کے سربراہ دباؤ ڈالتے رہے‘29 May, 2007 | پاکستان آئینی پٹیشن، باقاعدہ سماعت شروع11 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||