مزید ’لاپتہ‘ واپس، مقدمہ چلتا رہے گا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وہ بازیاب ہونے والے ’لاپتہ افراد‘ کا مقدمہ ختم نہیں کر رہی بلکہ مزید کارروائی کے لیے معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد سے متعلق از خود نوٹس لیتے ہوئےحکومت سے جواب طلب کر رکھا ہے۔ سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے لاپتہ افراد کی سماعت شروع کی تو ڈپٹی اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ افراد میں سے مزید پانچ گھر واپس پہنچ چکے ہیں۔ لاپتہ افراد کے مقدموں کی سماعت کرنے والے بینچ کے ایک ممبر جسٹس فلک شیر نے کہا کہ سپریم کورٹ لاپتہ افراد سے متعلق معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور ان مقدموں پر مزید کارروائی ہو گی۔ جب حکومت کے وکیل نے گوانتاموبے میں قید رہنے والے سعود میمن کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی تو ان کے وکیل شوکت عزیز صدیقی نے عدالت سے کہا کہ سعود میمن تو اب مر چکا ہے لیکن عدالت کو چاہیئے کہ وہ مقدمے کو ختم نہ کرے بلکہ ان کی ہلاکت کے ذمہ دار افراد کا پتہ لگایا جائے۔ سعود میمن کو سٹریچر پر سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا تھا جس پر عدالت نے حکم جاری کیا تھا کہ ان کا میڈیکل کروایا جائے کہ سعود میمن کی حالت ایسی کیوں ہوئی۔ چھیالیس سالہ سعود میمن اٹھارہ مئی کو کراچی میں وفات پا گئے تھے۔ ان کے خاندان نے الزام لگایا تھا کہ سعود میمن کو 2004 میں جنوبی افریقہ سے ایف بی آئی نے گرفتار کر کے گوانتاموبے قید میں رکھا جس کے بعد اسے آئی ایس آئی کے حوالے کر دیا گیا جس کے اہلکار اسے گھر کے قریب پھینک کر چلے گئے۔
خاندان کا الزام ہے کہ حراست کے دوران تشدد سے سعود میمن کے جسم کے متخلف اعضا ناکارہ ہو چکے تھے اور اس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی۔ حکومت کےوکیل نے عدالت کو بتایا کہ مزید پانچ افراد گھر پہنچ چکے ہیں اور اس طرف ہیومین رائٹس کمیشن کی اڑتالیس لوگوں کی فہرست میں سے اٹھانوے آزاد ہو چکے ہیں۔ رہائی پانے والوں میں قاری عبد الرحمن ، سیف اللہ اختر، حاجی داؤد مینگل، یاسر عرفات، اور قاری سبحان اللہ شامل ہیں۔ لاپتہ افراد کے مقدمے میں عدالت کی معاونت کرنے والے ایک وکیل نے عدالت کو بتایا کہ قاری سیف اللہ کو دو سال آٹھ مہینے کے بعد رہا کیا گیا ۔ وکیل حشمت حبیب نے عدالت کے سامنے کہا کہ قاری سیف اللہ کو رہا کرتے وقت کہا گیا تھا کہ ان کو ایف بی آئی کی دسترس سے باہر رکھنے کے لیے حراست میں رکھا گیا تھا۔ پچھلی سماعت کے موقع پر حکومت نے تسلیم کیا تھا کہ دس ماہ سے لاپتہ عمران منیر اس کی حراست میں ہے اور ان پر غیر ملک کے لیے جاسوسی کا الزام ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ عمران منیر کی بہن کی ان سے ملاقات کرائی گئی ہے لیکن ان کے والد کو اجازت نہیں دی گئی۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دیا کہ عمران منیر کے والد اور ان کی بہن کی ان سے ملاقات کرائی جائے۔ عمران منیرکے والد کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کا قصور یہ ہے کہ اس نے آئی ایس آئی کے ایک برگیڈیئر کی ایک رشتہ داروں خاتون کے ساتھ تعلقات بڑھا لیے تھے جس کی وجہ سے ان پریہ مصیبت نازل ہوئی ہے۔ |
اسی بارے میں سرحد: آٹھ لاپتہ افراد کی واپسی24 May, 2007 | پاکستان سابق ڈی آئی جی عدالتی تحویل میں19 May, 2007 | پاکستان پرل کیس: اہم ملزم کا انتقال18 May, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد کے لیے مظاہرے14 May, 2007 | پاکستان لاپتہ فرد: ’ISI کے ظلم کا شکار‘11 May, 2007 | پاکستان ’خفیہ اداروں کو جواب دینا ہوگا‘26 March, 2007 | پاکستان سندھی رہنما پولیس تحویل میں17 March, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||