سرحد: آٹھ لاپتہ افراد کی واپسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد میں خفیہ ایجسنیوں کی جانب سے مبینہ طور اٹھائے جانے والے آٹھ افراد کو رہا کردیا گیا ہے۔ صوبہ سرحد میں کمیشن کے پروگرام کوآرڈینیٹر عمران خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان افراد کو گزشتہ ایک ہفتے کے دوران رہا کیا گیا ہے۔ انکے مطابق رہا ہونے والوں میں تین افغان مہاجرین حضرت اللہ، فضل اللہ اور سمیع اللہ بھی شامل ہیں جنہیں بائیس نومبر دوہزار چھ کو کوہاٹ کے گھوٹکئی مہاجر کیمپ سے مبینہ طور پر اٹھالیا گیا تھا۔ یہ تینوں افراد آپس میں رشتہ دار ہیں اوروہ ایک مقامی دینی مدرسے میں زیرتعلیم تھے۔ ان افراد کے علاوہ لاپتہ ہونے والے حضرت محمد کو بھی رہا کر دیا گیا۔ پروگرام کوآرڈینیٹر کے بقول رہا پانے والوں میں نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل سے تعلق رکھنے والے تین دوست خیال جمال، ثقلین اور نثار بھی شامل ہیں جنہیں پندرہ جنوری دوہزار سات کو درہ آدم خیل سے پشاور آتے وقت مبینہ طور پر غائب کر دیا گیا تھا۔ اسکے علاوہ پندہ جنوری دوہزار ساتھ کو مبینہ طور پر غائب ہونے والےحضرت محمد بھی اپنے گھر پہنچ چکے ہیں۔ پشاور میں واقع مدرسہ اقراء روضتہ الاطفال کے مہتمم قاری سبحان اللہ کو بھی رہا کردیا گیا ہے لیکن ان کی صحت سخت خراب ہے۔ مدرسے کے ایک استاد محمد معصوم نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ قاری سبحان اللہ کو گردوں میں شدید تکلیف ہے اور وہ بات بھی بمشکل کر پا رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کیا ان کی یہ حالت کسی تشدد کے نتیجے میں ہوئی ہے۔
پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کے مرکزی نائب صدر کامران ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ بظاہر ان افراد کی رہائی کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں مبینہ طور پر جبری گمشدگیوں سے متعلق سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس، اغواء شدہ افراد کے اہل خانہ کا احتجاج اور سول سوسائٹی کا دباؤ ان افراد کی رہائی کے اسباب بنے ہیں۔ کامران ایڈوکیٹ کے بقول’ ان افراد سے ہمارا رابطہ تاحال نہیں ہوسکا ہے لیکن اس سے قبل جن افراد کو رہائی ملی تھی انہوں نے خوف کی وجہ سے کچھ بتانے سے گریز کیا تھا۔‘ حکومت کا کہنا ہے کہ ان افراد کے غائب کیے جانے میں خفیہ ایجنسیوں کا کسی قسم کا کوئی ہاتھ نہیں ہے اور انکی بازیابی کے لیے حکومت سطح پر کوششیں کی جاری ہیں جس کی وجہ سے اب تک کئی افراد اپنے گھروں کو واپس پہنچ چکے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے‘11 May, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد کیس، سماعت ملتوی04 May, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد: عدالت پالیسی بنائےگی27 April, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد کا مقدمہ، سماعت ملتوی10 April, 2007 | پاکستان گمشدہ لوگوں پر بی بی سی کا پروگرام02 July, 2006 | پاکستان ’ہمارے کارکن غائب ہیں‘05 December, 2006 | پاکستان گمشدہ بلوچوں کا معمہ حل نہ ہو سکا01 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||