BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 May, 2007, 08:39 GMT 13:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاپتہ افراد کیس، سماعت ملتوی

لاپتہ افراد: فائل فوٹو
جج نے لواحقین کو بھی مشورہ دیا ہے کہ صبر کا مظاہرہ کریں
پاکستان کی سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی نہ ہونے کے برابر ہے اور عدالت لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ایک کمشن مقرر کرنے پر غور کر رہی ہے۔

جمعہ کو عدالت کو بتایا گیا کہ ہیومن رائٹس کمیشن کی طرف سے مہیا کی جانے والی فہرست میں سے باون افراد کو رہا کر دیا گیا ہے جبکہ دس افراد کو مختلف مقدمات کا سامنا ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن کے وکیل فخرالدین جی ابرہیم نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ حکومت سے جواب طلب کرے کہ جن افراد رہا کیاگیا ہے ان کو غیر قانونی حراست میں کیوں رکھا گیا۔

فخرالدین جی ابراہیم نے عدالت کو بتایا کہ تربت میں واقع فرنٹئیر کور کے ہیڈکوارٹر میں زیرحراست نو سالہ بچے کو عدالت کے حکم کے بعد رہا کر دیا گیا ہے البتہ حکومت کی نمائندگی کرنے والے ڈپٹی اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر نے بتایا کہ کسی سرکاری ایجنسی نے نو سالہ بچے کو گرفتار نہیں کیا تھا۔

لاپتہ افراد کی رہائی کے لیے بنائی کئی کمیٹی کی سربراہ آمنہ جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے وزارت داخلہ میں ایک ریڈ بک بنا کر رکھی ہے اور اپنے شہریوں کو پکڑ کر ان پر سر کی قیمت وصول کر رہی ہے اور عدالت یہ پتہ کرائے کہ سر کی قیمت کون وصول کر رہا ہے۔

عدالت نے لاپتہ افراد کے لواحقین کے بار ہا مطالبے کے باوجود آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلجنس کے ڈائریکٹر جنرل کو نوٹس جاری نہیں کیا اور کہا کہ اگرچہ تھوڑا سہی لیکن حکومت لاپتہ افراد کو ڈھونڈنے میں کامیابی ہو رہی ہے۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ لوگوں کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ پاکستان کو جن حالات کا سامنا ہے ان میں قانون نافذ کرنے والوں کے لیے مشکل صورتحال ہے لیکن سپریم کورٹ لاپتہ افراد کے مقدمے کو منتطقی انجام تک پہنچائے گی۔

ہیومن رائٹس کمیشن کی طرف سے عدالت کو مہیا کی جانے والی فہرست میں سے اب بھی ایک سو دس (110) لوگوں کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔ ہیومین رائٹس کمشن کے سیکرٹری جنرل سید اقبال حیدر نے کہا کہ لاپتہ افراد کی فہرست لمبی ہو رہی ہے اور مزید لوگ ان سے رابطہ کر رہے ہیں۔

ہیومن رائٹس کمشن کے علاوہ لاپتہ افراد کی رہائی کمیٹی نے بھی عدالت کے سامنے ایک سو سات افراد کی فہرست پیش کر رکھی ہے جو اب بھی لاپتہ ہیں۔

جمعہ کو لاپتہ افراد کے متعلق درخواستوں کی شنوائی کے دوران جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ عدالت پوری کوشش کر رہی ہے کہ ان لوگوں کو رہا کرایا جائے اور اس کے لیے وہ عدالت سے باہر بھی کوشش کر رہے ہیں۔

لااپتہ افراد
لاپتہ ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ ان کی بازیابی کے لیے احجاج کرتے رہتے ہیں

سپریم کورٹ میں ایک لاپتہ شخص کو سٹریچر پر کمرہ عدالت میں لایا گیا جس کو عدالت کے حکم پر ہسپتال میں داخل کر دیا گیا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ اس شخص کا نام سعود میمن ہے اور اس کو امریکی ایجنسی ایف بی آئی نے 2005 میں جنوبی افریقہ سے گرفتار کر کے گوانتاناموبے کے جیل خانے میں ڈھائی سال تک رکھنے کے بعد آئی ایس آئی کے حوالے کر دیا ہے۔

سعود میمن کے ورثا نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ حکم جاری کریں کہ سعود میمن کا میڈیکل چیک اپ کیا جائے تاکہ اس کی صحت کی موجودہ حالت کا درست پتہ چل سکے۔

سعود میمن کے ایک بھائی نے بتایا کہ حراست کے دوران تشدد کے باعث سعود ممین اپنی یاداشت کھو چکا ہے۔

عدالت نے حکم جاری کیا کہ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال سے سعود میمن کا مکمل میڈیکل چیک کرایا جائے اور میڈیکل رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی جائے۔

لاپتہ افراد مقدمے میں سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہونے والے دو ڈپٹی اٹارنی جنرل مستفعی ہو چکے ہیں جبکہ ایک ڈپٹی اٹارنی جنرل عدالت کی معاونت کرنے سے معذرت کر چکے ہیں۔ جعمہ کے روز جب عدالت کی کارروائی شروع ہوئی تو ایک نئے ڈپٹی اٹارنی جنرل عدالت کے سامنے موجود تھے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر نے عدالت کو بتایا کہ وہ مقدمہ جیتنے کے لیے نہیں بلکہ اس لیے عدالت کے سامنے موجود ہیں کہ انصاف کی فراہمی میں مدد مہیا کر سکیں۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ عدالت نیک خواہشات سے زیادہ اچھے نتائج میں دلچسپی رکھتی ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل طارق محمود کھرکھر نے عدالت کو بتایا کہ پچھلی پیشی پر عدالت نے حکم جاری کیا تھا کہ فیصل فراز کے بارے میں رپورٹ دی جائے لیکن فیصل فراز کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔

فیصل فراز کی ماں نے عدالت کو بتایا کہ ان کے بیٹے کو ایجنسیوں نے اٹھایا اور وہ انہیں کی تحویل میں ہے۔

اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کرائسس مینجنمنٹ سیل کے ایک اہلکار کرنل جاوید اقبال لودھی کو عدالت کے سامنے پیش کیا جنہوں نے عدالت کو بتایا کہ اسد عثمان کسی سرکاری ادارے کی تحویل میں نہیں ہے۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ سرکاری اداروں کو تمام لاپتہ افراد کو ڈھونڈ نکالنا ہوگا۔

فیصل فراز کی بوڑھی ماں نے عدالت کو بتایا کہ اس کے فرمانبردار بیٹے کو لاہور سے راولپنڈی جاتے ہوئے غائب کیا گیا اور ابھی تک انہیں نہیں بتایا جا رہا کہ اس کا قصور کیا ہے اور وہ کس کی تحویل میں ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے ایک اور لاپتہ شخص عمران منیر کے بارے بتایا کہ اسے غیر ملک کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں ملٹری کورٹ کے سامنے مقدمے کا سامنا ہے۔

تین سال سے لاپتہ عتیق الرحمن کے والد نے عدالت کو بتایا کہ ان کے بیٹے کو ایبٹ آباد سے اس دن گرفتار کیا تھا جس دن اس کی شادی ہونی تھی۔ عتیق الرحمن اٹامک انرجی کمیشن میں سائنٹیفک آفیسر تھا۔

عدالت نے حکم جاری کیا کہ اگلی پیشی پر سرحد انسپکٹر جنرل پولیس اور سپرنٹنڈنٹ پولیس ایبٹ آباد عدالت میں پیش ہو کر بتائیں کہ عتیق الرحمن اتنے عرصے سے کیوں لاپتہ ہے۔

ایک اور لاپتہ شخص قاری سیف اللہ کے بارے ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ قاری سیف اللہ کسی حکومتی ادارے کے پاس نہیں ہے لیکن ان کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ پنجاب میں کسی شدت پسند تنظیم کے پاس ہے۔

قاری سیف اللہ کے وکیل حشمت جبیب نے عدالت میں اس وقت کے وزیر اطلاعات شیخ رشید کا بیان بڑھ کر سنایا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ قاری سیف اللہ کو دبئی سے گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کیا گیا۔

نعیم نور خان کے بارے میں حکومتی وکیل نے کہا کہ وہ حکومت کے پاس نہیں ہے اور نہ ہی انہیں پتہ ہے کہ وہ کہاں ہے۔

عدالت نے مقدمے کی سماعت آئندہ جمعہ 11 مئی تک ملتوی کردی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد