’گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ آف پاکستان میں مبینہ طور پر لا پتہ ہونے والےافراد کی بازیابی سے متعلق دائر درخواست کی سماعت جاری ہے لیکن لوگوں کے غائب ہونے کا سلسلہ بظاہر نہیں رکا ہے اور انسانی حقوق کمیشن کے مطابق گزشتہ پانچ ماہ کے دوران صوبہ سرحد میں خفیہ ایجنسیوں نےآٹھ افراد کو مبینہ طور پر اٹھا لیا ہے۔تاہم حکومت نے اس سلسلے میں کچھ کہنے سے اجتناب کیا ہے۔ صوبہ سرحد میں انسانی حقوق کمیشن کے پروگرام کوآرڈینیٹر عمران خان نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبے میں گزشتہ پانچ ماہ کے دوران جن افراد کو مبینہ طور پر اٹھالیا گیا ہے ان میں سید ناصر علی شاہ، قاری سبحان اللہ، شیر افضل، حضرت اللہ، محمد رحمن، خیال محمد، ثقلین اور نثار شامل ہیں۔ صوبہ سرحد میں مبینہ طور پر غائب ہونے والے افراد کے اہل خانہ نے انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کو اقوام متحدہ کے جبری طور پر غائب کیے جانے والے افراد سے متعلق فارم پر کرکے معلومات فراہم کی ہیں۔
انسانی حقوق کمیشن کو فارم میں فراہم کردہ معلومات کے مطابق پشاور کے رہائشی بتیس سالہ حضرت اللہ کو جنوری دوہزار سات کو پشاور میں بورڈ کے مقام سے اٹھالیاگیا تھا اور خاندان والوں کے مطابق انہوں نے موبائل فون پر ان سے رابطے کی بارہا کوشش کی تاہم دوسری طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہو رہا تھا۔ پر اسرار طور پر غائب ہونے والوں میں پشاور کے گل بہار کے علاقے میں واقع مدرسہ اقراء روضۃ القرآن کے چالیس سالہ مہتمم قاری سبحان اللہ بھی شامل ہیں۔ انکے گھر والوں کا کہنا ہے کہ رواں سال پندرہ جنوری کی رات دو بجے گل بہار پولیس کے ہمراہ وردی اور سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے گھرآ کر قاری سبحان اللہ کو حراست میں لیا تاہم چند گھنٹے بعد انہیں رہا کردیا گیا لیکن کچھ دیر کے بعد پولیس نے دوبارہ آکر انہیں تھانے لے گئے اور وہ تاحال لاپتہ ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن کے مطابق نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل سے تعلق رکھنے والے تین رشتہ دار خیال محمد، ثقلین اور نثار بھی گزشتہ ڈھائی مہینے سے مبینہ طور پر غائب ہیں ۔ انکے اہل خانہ کا دعوی ہے کہ تئیس فروری کے روز ان تینوں افراد کو دو گاڑیوں میں سوار سی آئی ڈی کے اہلکاروں نے سکیم چوک پشاور سےمبینہ طور پر اٹھالیا تھا۔خاندان والوں کے مطابق ان میں سے ثقلین کو دوبئی کا ویزہ مل گیا تھا اور وہ تینوں ٹکٹ لینے جارہے تھے کہ انہیں راستے ہی میں اٹھا لیا گیا۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ خیبر ایجنسی میں واقع کارخانو مارکیٹ میں ایک کریانہ سٹور میں کام کرنے والےشیر افضل کو بائیس مارچ کو خاصہ دار فورس نے حراست میں لیا تھا اور معلومات کے مطابق انہیں بعد میں پشاور میں خفیہ ایجنسیوں کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ انسانی حقوق کمیشن کی فہرست میں شامل چھبیس سالہ ناصر علی شاہ کو چودہ اپریل کے دن اکوڑہ خٹک میں قائم معروف’مدرسہ حقانیہ‘ کے سامنے واقع اسلامی کتب کی ایک دکان سے گرفتار کیا گیا تھا۔اہل خانہ کادعوی ہے کہ ’گرفتاری کے بعد جب موٹروے پولیس کوبتایا گیا تو انہوں نے وائرلس پر آگے اطلاع دی جنہوں نےگاڑی کو روکا مگرگاڑی میں سوار افراد نے شناختی دستاویزات دکھا کرخود کو خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کے طور پر متعارف کرایا جس پر موٹر وے پولیسں نے گاڑی کو آگےجانے کی اجازت دیدی۔،
انسانی حقوق کمیشن کے پاس جمع کرائے گئے فارم میں ناصرعلی شاہ کے والد نےدعویٰ کیا ہے کہ جب انہوں نے اس سلسلے میں نوشہرہ پولیس کے اعلی اہلکار سے ملاقات کی تو انہوں نے یہ کہہ کر رپورٹ درج کرنے سے انکار کردیا کہ گرفتاری سے متعلق انہیں بھی بے خبر رکھا گیا ہے اور پوچھنے پرانہوں نے بتایا کہ ’ناصر علی شاہ کو آئی ایس آئی والوں نے اٹھا لیا ہے۔‘ کمیشن کے مطابق محمد رحمن پشاور میں ایک چائے فروش کے ہاں مزدور تھے اورگھر والوں کے مطابق انہیں دکان جاتے وقت لوکل بس سے اتارلیا گیا تھا جسکے بعد ان کا کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔ انسانی حقوق کمیشن کے صوبائی سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ پر اسرار طور پر لاپتہ ہونے والے افراد میں سے قاری سبحان اللہ کی بیوی کے علاوہ کسی کے خاندان والوں نے پولیس کے ساتھ رپورٹ درج نہیں کرائی ہے اور نہ ہی عدالت سے رجوع کیا گیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ لاپتہ افراد سے متعلق کوائف اکٹھا کرنے کے دوران ان کے اہل خانہ خوف کی وجہ سے معلومات فراہم کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔
غائب ہونے والے ایک شخص کے رشتہ دار نے فارم میں لکھا ہے کہ انہیں علاقے کے لوگوں نے مشورہ دیاتھا کہ ’ یہ آئی ایس آئی کا معاملہ ہے اسکا تعاقب نہ کرو ، نہیں تو تمہیں بھی اٹھا لیا جائے گا۔‘ فارم میں درج معلومات سے مبینہ طور پر غائب ہونے والوں میں زیادہ ترافراد کا تعلق مذہبی گھرانوں سے معلوم ہوتا ہے اور فارموں کے ساتھ جو تصاویر چسپاں کی گئی ہیں ان میں وہ باریش ہیں۔ ان لاپتہ افراد کے سلسلے میں صوبہ سرحد کے سیکریٹری داخلہ اور لاپتہ افراد کے کیسز سے نمٹنے والے متعدد افسران سے ملنے کی کوشش کی گئی مگر یہی جواب ملتا رہا کہ ’صاحب میٹنگ میں ہیں‘ یا پھر یہ بتایا جاتا کہ’ فلاں صاحب کے پاس جاؤ یہ کیسز وہی ڈیل کرتے ہیں‘۔ جب متعلقہ افسر کے پاس پہنچتا تو وہ کسی اور افسر کا نام لیکر وہاں بھیج دیتے لیکن مختلف دفاترکے چکر کاٹنے کے باوجود اس سلسلے میں کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ واضح رہے کہ پاکستان میں لاپتہ افراد سے متعلق انسانی حقوق کمیشن کی درخواست سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت ہے اور کمیشن نے مبینہ طور پر غائب ہونے والے ایک سو اڑتالیس افراد کی فہرست سپریم کورٹ میں جمع کرادی ہے تاہم حکومت کا کہنا کہ ان میں سے چھپن افراد کا پتہ چل گیا ہے۔ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے مرکزی نائب صدر کامران ایڈوکیٹ نے بی بی سی کوبتایا کہ مبینہ طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے لیکن ڈر کے مارے لوگ اس قسم کے واقعات کو رپورٹ کرنے کے لیے آگے نہیں آرہے ہیں۔ تاہم کامران ایڈوکیٹ نے لاپتہ افراد کی صحیح تعداد یہ کہہ کر نہیں بتائی کہ جب تک مکمل شواہد نہ ہوں تب تک اس بارے میں اندازہ لگانا مناسب نہیں ہے۔ چارمئی کو ہونے والی سماعت کے موقع پر پاکستان کی سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے کہا تھا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی نہ ہونے کے برابر ہے اور عدالت لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ایک کمیشن مقرر کرنے پر غور کر رہی ہے۔ |
اسی بارے میں لاپتہ افراد کیس، سماعت ملتوی04 May, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد: عدالت پالیسی بنائےگی27 April, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد کا مقدمہ، سماعت ملتوی10 April, 2007 | پاکستان گمشدہ لوگوں پر بی بی سی کا پروگرام02 July, 2006 | پاکستان ’ہمارے کارکن غائب ہیں‘05 December, 2006 | پاکستان گمشدہ بلوچوں کا معمہ حل نہ ہو سکا01 May, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||