BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 May, 2007, 03:06 GMT 08:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سابق ڈی آئی جی عدالتی تحویل میں

منو بھیل
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے بھیل کے خاندان کے لاپتہ ہونے پر ازخود نوٹس لیا تھا
صوبہ سندہ کے ضلع میرپور خاص کی ایک عدالت نے سابق ڈی آئی جی میرپور خاص رانا سلیم اللہ کوپچیس مئی تک عدالتی تحویل میں ضلعی جیل منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کے خلاف ٹاؤن تھانہ میرپور خاص میں بائیس اکتوبر دو ہزار چھ کو ڈیوٹی میں خلل ڈالنے اور دھمکیاں دے کر تھانے کا روزنامچہ چھین لینے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

پاکستان کے سینیئر پولیس افسر رانا سلیم اللہ کو اسلام آباد کے آبپارہ تھانے سے تیرہ مئی کو سپریم کورٹ جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ایک کسان منو بھیل کے نو ممبران پر مشتمل خاندان کے نو سالوں سے لاپتہ ہونے پر جب ازخود نوٹس لیا تو رانا سلیم اللہ کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا تھا۔

حکومت سندہ نے رانا سلیم اللہ کو ان دنوں میں معطل کردیا تھا مگر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے انہیں بحال کرتے ہوئے منو بھیل کیس کی تفیش جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔

جمعہ کے دن جب ایک پولیس موبائل میں انہیں عدالت پہنچایا گیا تو وکلاء اور شہر کے سیاسی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے ان کو پھولوں کے ہار پہنائے اور انہیں چیف جسٹس کا گواہ قرار دیا۔

عدالتی پیشی کے بعد انہوں نے میڈیا سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کے ایک گواہ کو تو انہوں نے قتل کردیا ہے اور مجھے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ رانا سلیم اللہ نے کہا کہ چیف جسٹس کیس میں وہ گواہی ضرور دیں گے۔ عدالت نے اگر انہیں طلب کیا تو ٹھیک بصورت دیگر وہ خود عدالت کے سامنے پیش ہونا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس ان کے اوپر اعتماد کرتے تھے اور سندہ حکومت کے چند افراد کو خطرہ تھا کہ میں ان کے جھوٹ کی اصل حقیقت عدالت کے سامنے پیش کرونگا۔

میرپور خاص ضلعی بار کے صدر صلاح الدین پنہور کی سربراہی میں وکلاء کا ایک پینل تشکیل دیا گیا ہے جو سابق ڈ ی آئی جی کا مقدمہ لڑے گا۔
مقامی وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ چیف جسٹس کیس کے اہم گواہ کو پولیس کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑیں گے، وہ ان کا دفاع ضرور کریں گے۔

تیرہ مئی کو اسلام آباد سے گرفتاری کے بعد سابق ڈی آئی جی کو جہاز میں کراچی منتقلی کے دوران اچانک نوابشاہ ائرپورٹ پر اتارا گیا۔ نوابشاہ سے انہیں سیدھا میرپور خاص کے سیکنڈ ایڈیشنل سیشن جج احمد لقمان میمن کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

سابق ڈی آئی جی نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں ریمانڈ پر پولیس کے حوالے نہ کیا جائے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ میرپور خاص پولیس انہیں قتل کردے گی۔ عدالت نے انہیں حیدرآباد جیل بھیج دیا مگر حکومت سندھ کے احکامات پر انہیں سنٹرل جیل حیدرآباد سے کہیں چھوٹے میرپور خاص ضلعی جیل بھیج دیا گیا۔جہاں بقول ڈی آئی جی انہیں جرائم پیشہ افراد کے ساتھ رکھا گیا ہے۔

جمعہ کے دن عدالت نے حکم جاری کیا کہ رانا سلیم اللہ کو بیس گریڈ کا افسر ہونے کی وجہ سے جیل میں بہتر سہولیات فراہم کی جائیں مگر میرپور خاص جیل میں اے کلاس کی سہولیات میسر نہیں۔

رانا سلیم اللہ سابق آئی جی جیل خانہ جات سرحد،سابق ڈی آئی جی ریلویز بھی رہ چکے ہیں۔

انہوں نے سندہ کے سابق آئی جی جہانگیر مرزا کے خلاف میرپور خاص میں ایف آئی آر درج کروانے کی بھی کوشش کی تھی۔ سابق ڈی آئی جی رانا سلیم اللہ کے خلاف میرپور خاص کے علاوہ ضلع سانگھڑ کے کھپرو تھانے پر امیرو بھیل کی درخواست پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس میں ان کے اوپر دو لڑکیوں مومل عرف جاماں اور ڈیلی عرف لڈی کو تین ماہ حبس بیجا میں رکھ کر منو بھیل کی بیٹیاں ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔

کھپرو پولیس نے عدالت سے سابق ڈی آئی جی کو ریمانڈ پر ان کے حوالے کرنے کی گزارش کی مگر عدالت نے مسترد کر دی۔

اسی بارے میں
منو بھیل کی کون سنے گا؟
03 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد