سندھ میں پولیس افسروں کی لڑائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں صوبائی پولیس سربراہ کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا حکم دینے والے ڈی آئی جی کو نظر بند کردیا گیا ہے، جبکہ مزید چھ اہلکاروں کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا ہے اور انہیں نظر بند ڈی آئی جی کا ساتھی قرار دیا جا رہا ہے۔ کسان منو بھیل کے مقدمہ کے اہم پولیس افسر ڈی آئی جی میرپور خاص سلیم خان کو معطل کر دیا گیا ہے اور ان کی معطلی کا حکم اتوار کو چھٹی کا دن ہونے کے باوجود جاری کیا گیا۔ اسی حکم میں حیدرآباد کے ڈی آئی جی کو میرپورخاص پہنچ کر اضافی چارج لینے کی ہدایت کی گئی اور انہوں نے تین بجے وہاں پہنچ کر بند دفتر کھلوایا اور چارج لیا۔ ڈی آئی جی سلیم اللہ خان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں حکم کی عدولی کی ہے۔ آئی جی سندھ جہانگیر مرزا نے سلیم اللہ کی معطلی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ڈی آئی جی سلیم خان کو بغیر اجازت دفتر نہ چھوڑنے کی ہدایت کی تھی اور قانونی طور پر ایک لیٹر بھی بھیجا تھا۔ آئی جی کے مطابق ڈی آئی جی نے اس لیٹر کے بعد ان کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی کوشش کی جس کا وفاقی حکومت نے نوٹس لیا اور انہیں معطل کردیا گیا۔ میرپورخاص کے سیٹلائیٹ تھانے پر سابق ڈی آئی سلیم خان، ایڈیشنل ڈی آئی جی شاہد باجوہ، پرسنل سیکیورٹی افسر محمد دانش، گارڈ کلیم ، امجد اور رمضان کے خلاف دھمکیاں دینے اور دنگا فساد کرنے کے الزام میں مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔
ایس ایچ او سیٹلائیٹ ٹاؤن پولیس نے ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا ہے کہ ملزمان نے تھانے پہنچ کر غیرقانونی طور پر دباؤ ڈالا کہ آئی جی سندھ جہانگیر مرزا کے خلاف مقدمہ دائر کیا جائے اور انکار پر انہیں گالیاں اور دھمکی دی گئیں۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزمان روزنامچہ اور ایف آئی آر بک اپنے ساتھ لے جانے لگے جس پر انہیں روکا گیا اور رضامندی ظاہر کی گئی کہ آئی جی کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہیں جس کے بعد ایس ایچ او ایف آئی آر بک اور روزنامچہ لیکر فرار ہوگیا۔ میرپورخاص میں ڈی آئی جی سلیم خان کے گھر کے باہر پولیس مقرر کردی گئی ہے اور ان کو گھر میں محصور کردیا گیا ہے جبکہ ٹیلی فون لائینیں منقطع کر کے باہر سے ان کا رابطہ منقطع کردیا گیا ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق سلیم خان حکومت کی ایک اہم شخصیت کو پسند نہیں تھے اس لیے انہیں میرپورخاص سے تبدیل کیا جا رہا تھا۔ اس دوران کسان منو بھیل کے خاندان کی بازیابی کا معاملہ بھی سپریم کورٹ میں پہنچ گیا عدالت نے آئی جی کے خلاف سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے سلیم خان کو میرپورخاص میں ہی مقرر کرنے کی ہدایت کی اور منو بھیل کے خاندان کی بازیابی کی ذمے داری بھی انہیں سونپی۔
سلیم خان نے اعلیٰ عدالت میں پولیس افسران کی سینیارٹی کو بھی چیلنج کیا ہوا ہے، جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ آئی جی سندھ جہانگیر مرزا، کراچی سٹی پولیس چیف نیاز صدیقی، سکھر اور حیدرآْباد کے ریجنل پولیس افسران ان سے جونئیر ہیں اور وہ پاکستان میں سینئرٹی کے اعتبار سے چھٹے نمبر پر ہیں مگر انہیں نظر انداز کیا گیا ہے۔ تین نومبر کو سپریم کورٹ میں منو بھیل کے خاندان کے بازیابی کے حوالے سے سماعت ہے جب کہ سینیارٹی کے مقدمہ کا فیصلہ بھی جلد متوقع ہے دونوں صورتوں میں سلیم اللہ کے مستقبل کا فیصلہ اعلیٰ عدالت کے ہاتھ میں ہے۔ | اسی بارے میں انکوائری، پولیس افسر برطرف19 September, 2005 | پاکستان مجاہد قتل کیس: پولیس افسرگرفتار 30 June, 2005 | پاکستان پولیس افسر حملے میں شدید زخمی27 January, 2005 | پاکستان تین اعلیٰ پولیس افسر مفرور26 January, 2005 | پاکستان سیالکوٹ: پولیس افسران معطل04 October, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||