BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 May, 2007, 14:20 GMT 19:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاپتہ فرد: ’ISI کے ظلم کا شکار‘

فائل فوٹو
لاپتہ افراد کا کیس سپریم کورٹ میں آنے سے 91 لاپتہ افراد کو ڈھونڈا جا چکا ہے (فائل فوٹو)
ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ ایک شخص کو اس لیے غائب کر دیا گیا کہ اس کے آئی ایس آئی کے کسی اہلکار کی خاتون رشتہ دار سے تعلقات تھے۔

عاصمہ جہانگیر نے سپریم کورٹ کی دو رکنی بینچ کو بتایا ہے کہ عمران منیر جس کے بارے میں حکومت نےایک ہفتہ قبل تسلیم کیا تھا کہ ان کو غیر ملک کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے، دراصل وہ آئی ایس آئی کے ایک اہلکار کے غضب کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ عمران منیر کو جو ملائیشیا میں کاروبار کرتے تھے، اٹھائیس جولائی سن دو ہزار چھ کو اسلام آباد سے غائب کر دیا گیا اور جب اس کے والد نے ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی تو وزارتِ دفاع نے کہا کہ وہ سرکاری ادارے کے پاس نہیں ہیں۔

سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم جاری کیا کہ اتوار تک عمران منیر کے والد کی ان سے ملاقات کرائی جائے۔

سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ لاپتہ افراد کی تعداد 191 تھی تاہم جب سے سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد سے متعلق مقدمہ شروع کیا ہے اس وقت سے اب تک 91 لوگوں کو ڈھونڈا جا چکا ہے جبکہ سو افراد کو ابھی تلاش کیا جا رہا ہے۔

عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو کہا کہ وہ ان تمام افراد کے بارے میں معلومات فراہم کریں جو حکومتی تحویل میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر نےعدالت کو بتایا کہ اٹامک انرجی کمیشن کے سینئرسائنٹیفک آفیسرعتیق الرحمن کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔ عتیق الرحمن کے والدین کا کہنا ہے کہ عتیق الرحمٰن کو تین سال قبل ان کی شادی کے دن خفیہ ادراوں کے لوگوں نے غائب کر دیا۔

لاپتہ افراد سے متعلق مقدمے کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے (فائل فوٹو)

لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کےدوران کمرۂ عدالت میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی اور درجنوں لواحقین روسٹرم کے قریب موجود تھے اور ہر کوئی عدالت کو اپنی داستان سنانے کے لیے بے تاب تھا۔ ایک لاپتہ نوجوان کی والدہ زار و قطار رو رہی تھیں اور ہاتھ باندھ کر ججوں سے کہہ رہی تھیں’ان کو کہیں کہ یہ بتائیں میرے بیٹے کو کیوں غائب کر رکھا ہے‘۔

عدالت کو بتایا گیا کہ کراچی سے گیارہ سال سے قبل لاپتہ ہونے والے چونتیس افراد کے بارے میں بھی ایک درخواست دائر کئی گئی ہے۔ یہ درخواست ایم کیو ایم کے ان کارکنوں سے متعلق ہے جن کے بارے میں الزام لگایا جاتا ہے کہ’ کراچی آپریشن‘ کے دوران ان کو سرکاری اداروں نے تحویل میں لے کر ہلاک کر دیا تھا۔

گوانتاموبے میں دو سال تک قید رہنے والے سعود میمن کے بارے میں عدالت نے حکم جاری کیا کہ سعود میمن کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے جس میں یہ بتایا جائے کہ سعود میمن کی موجودہ حالت کیسے ہوئی۔ سعود میمن کو پچھلی سماعت کے دوران سٹریچر پر عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

ایک اور لاپتہ فرد، عبید اللہ کی بیوی نے عدالت کو بتایا کہ ان کے شوہر کے ساتھ قید رہنے والے ایک شخص نے ان کو بتایا ہے کہ وہ ٹی بی میں مبتلا ہیں اور قریب المرگ ہیں۔ البتہ حکومت نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کیا کہ عبیداللہ ان کی تحویل میں ہیں۔

لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے اور اگلی سماعت پچیس مئی کو ہو گی۔

شیرپاؤ’رابطہ کریں‘
لاپتہ افراد کی تلاش کر رہے ہیں: آفتاب شیرپاؤ
لاپتہ افراد کے لواحقین
لواحقین کی جدوجہد
احتجاجاسلام آباد میں مظاہرہ
لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کے احتجاج کی تصاویر
احتجاجی دھرنا
’لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے‘
دیکھیئے لاپتہ افراد
اسلام آباد میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ کی بھوک ہڑتال
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد