لاپتہ فرد: ’ISI کے ظلم کا شکار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ ایک شخص کو اس لیے غائب کر دیا گیا کہ اس کے آئی ایس آئی کے کسی اہلکار کی خاتون رشتہ دار سے تعلقات تھے۔ عاصمہ جہانگیر نے سپریم کورٹ کی دو رکنی بینچ کو بتایا ہے کہ عمران منیر جس کے بارے میں حکومت نےایک ہفتہ قبل تسلیم کیا تھا کہ ان کو غیر ملک کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے، دراصل وہ آئی ایس آئی کے ایک اہلکار کے غضب کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ عمران منیر کو جو ملائیشیا میں کاروبار کرتے تھے، اٹھائیس جولائی سن دو ہزار چھ کو اسلام آباد سے غائب کر دیا گیا اور جب اس کے والد نے ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی تو وزارتِ دفاع نے کہا کہ وہ سرکاری ادارے کے پاس نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم جاری کیا کہ اتوار تک عمران منیر کے والد کی ان سے ملاقات کرائی جائے۔ سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ لاپتہ افراد کی تعداد 191 تھی تاہم جب سے سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد سے متعلق مقدمہ شروع کیا ہے اس وقت سے اب تک 91 لوگوں کو ڈھونڈا جا چکا ہے جبکہ سو افراد کو ابھی تلاش کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو کہا کہ وہ ان تمام افراد کے بارے میں معلومات فراہم کریں جو حکومتی تحویل میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر نےعدالت کو بتایا کہ اٹامک انرجی کمیشن کے سینئرسائنٹیفک آفیسرعتیق الرحمن کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔ عتیق الرحمن کے والدین کا کہنا ہے کہ عتیق الرحمٰن کو تین سال قبل ان کی شادی کے دن خفیہ ادراوں کے لوگوں نے غائب کر دیا۔
لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کےدوران کمرۂ عدالت میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی اور درجنوں لواحقین روسٹرم کے قریب موجود تھے اور ہر کوئی عدالت کو اپنی داستان سنانے کے لیے بے تاب تھا۔ ایک لاپتہ نوجوان کی والدہ زار و قطار رو رہی تھیں اور ہاتھ باندھ کر ججوں سے کہہ رہی تھیں’ان کو کہیں کہ یہ بتائیں میرے بیٹے کو کیوں غائب کر رکھا ہے‘۔ عدالت کو بتایا گیا کہ کراچی سے گیارہ سال سے قبل لاپتہ ہونے والے چونتیس افراد کے بارے میں بھی ایک درخواست دائر کئی گئی ہے۔ یہ درخواست ایم کیو ایم کے ان کارکنوں سے متعلق ہے جن کے بارے میں الزام لگایا جاتا ہے کہ’ کراچی آپریشن‘ کے دوران ان کو سرکاری اداروں نے تحویل میں لے کر ہلاک کر دیا تھا۔ گوانتاموبے میں دو سال تک قید رہنے والے سعود میمن کے بارے میں عدالت نے حکم جاری کیا کہ سعود میمن کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے جس میں یہ بتایا جائے کہ سعود میمن کی موجودہ حالت کیسے ہوئی۔ سعود میمن کو پچھلی سماعت کے دوران سٹریچر پر عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ ایک اور لاپتہ فرد، عبید اللہ کی بیوی نے عدالت کو بتایا کہ ان کے شوہر کے ساتھ قید رہنے والے ایک شخص نے ان کو بتایا ہے کہ وہ ٹی بی میں مبتلا ہیں اور قریب المرگ ہیں۔ البتہ حکومت نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کیا کہ عبیداللہ ان کی تحویل میں ہیں۔ لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے اور اگلی سماعت پچیس مئی کو ہو گی۔ |
اسی بارے میں لاپتہ افراد کو تلاش کر رہے ہیں: شیرپاؤ06 April, 2007 | پاکستان سپریم کورٹ:وفاقی سیکریٹری طلب20 April, 2007 | پاکستان رپورٹ عدالت میں پیش ہوگی:حکومت24 April, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد: عدالت پالیسی بنائےگی27 April, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد کیس، سماعت ملتوی04 May, 2007 | پاکستان لاپتہ احتجاج: پولیس اہلکاروں پر مقدمہ09 May, 2007 | پاکستان ’باقیوں کو بھی جلد ڈھونڈیں‘08 January, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد، مسلم لیگ(ن) کا احتجاج22 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||