BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 May, 2007, 13:43 GMT 18:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاپتہ احتجاج: پولیس اہلکاروں پر مقدمہ

پولیس اہلکار محمد بن مسعود کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے
پولیس اہلکاروں نے محمد بن مسعود کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا
راولپنڈی پولیس نے اپنے لاپتہ والد کی بازیابی کے لیے احتجاج کرنے والے لڑکے کو زدوکوب اور سرِ عام برہنہ کرنے پر برطرف کیے جانے والے پانچ پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے تاہم اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

یہ مقدمہ راولپنڈی کے تھانہ سول لائنز میں پولیس آرڈیننس کے تحت درج کیا گیا ہے۔

ملزمان میں راولپنڈی پولیس کے برطرف سب انسپکٹر محمد شریف اور برطرف کانسٹیبلز وسیم خالد، نوید، فراز اور نثار شامل ہیں۔

لاپتہ افراد کے لواحقین نے گزشتہ برس 28 دسمبر کو راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے قریب احتجاجی مظاہرہ کیا تھا جسے پولیس نے زبردستی منتشر کرنے کے لیے شرکاء کو زدوکوب کیا تھا اور اپنے لاپتہ والد مسعود جنجوعہ کی بازیابی کے لیے احتجاج کرنے والے سولہ سالہ محمد بن مسعود کی شلوار اتار دی تھی اور اسی حالت میں اٹھا کر انہیں پولیس کی گاڑی میں پھینک دیا تھا۔

بعد ازاں پولیس نے مظاہرین کے احتجاج پر محمد کو رہا کر دیا تھا۔ ان کے مطابق پولیس نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور گالیاں بھی دیتے رہے تھے۔ اس واقعے کی تحقیقات کرنے والے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راولپنڈی رانا شاہد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ محکمانہ تحقیقات کے بعد پانچوں اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا اور اب ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اس سوال پر کہ اس واقعہ میں صرف نچلے درجے کے پولیس اہلکاروں کے خلاف ہی کارروائی کی گئی اور کیا ان کی سربراہی کرنے والے کسی اعلٰی پولیس افسر کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے تھے، انہوں نے کہا کہ جن اہلکاروں کی تصویر اخبار میں شائع ہوئی تھی ان کے خلاف کارروائی کی گئی تھی’باقی ان کی سربراہی کوئی بھی کررہا ہو وہ انہیں یہ تو نہیں کہے گا کہ تم ایسا کرو‘۔

دریں اثناء تھانہ سول لائنز کے ایس ایچ او اعجاز حسین نے کہا کہ’ کوئی ملزم ابھی گرفتار نہیں کیا گیا کیونکہ محکمے نے انہیں ملازمتوں سے فارغ کردیا تھا اور اس کے بعد وہ سب آگے پیچھے ہوگئے تھے‘۔

انہوں نے بتایا کہ ملزمان کا تعلق فیصل آباد،گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور شیخوپورہ سے ہے اورگرفتاریوں کے لیے پولیس پارٹیاں بھیجی گئی ہیں۔

اسی بارے میں
لاپتہ افراد کے لیے مظاہرہ
09 December, 2006 | پاکستان
لاہور کے عاطف گھر پہنچ گئے
01 December, 2006 | پاکستان
پراسرار گمشدگیاں اور بے بسی
23 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد