پرل کیس: اہم ملزم کا انتقال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں امریکی صحافی ڈینئل پرل کے اغواء اور قتل کے اہم ملزم سعود میمن جمعہ کو کراچی کے لیاقت نیشنل ہسپتال میں انتقال کرگئے۔ 46 سالہ سعود میمن کراچی میں کپڑے کے تاجر تھے اور ان پر الزام تھا کہ ڈینئل پرل کو اغواء کرنے کے بعد جس مکان میں یرغمال رکھا گیا اور بعد میں قتل کیا گیا، وہ ان کی ملکیت میں تھا۔ سعود میمن کے اہل خانہ کے مطابق انہیں 7 مارچ 2004ء کو امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے جنوبی افریقہ سے گرفتار کیا تھا اور اسکے بعدگوانتاناموبے کیوبا میں واقع امریکی جیل بھیج دیا تھا جہاں وہ طویل عرصہ زیرتفتیش رہے اور اس کے دو سال بعد انہیں پاکستانی حکام کے حوالے کردیا گیا تھا۔ تاہم حیرت انگیز طور پر ہر سال محکمۂ داخلہ حکومت سندھ کی جانب سے سنگین جرائم میں ملوث افراد کے بارے میں ترتیب دی جانے والی خفیہ ریڈ بک میں انہیں انتہائی مطلوب دہشتگرد بتایا جاتا تھا اور ان کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے رکھی گئی تھی۔ حکومت کے مطابق سعود میمن کالعدم تنظیم حرکۃ المجاہدین العالمی سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا القاعدہ سے قریبی تعلق تھا جبکہ وہ تمام جہادی تنظیموں کو خود بھی مالی وسائل فراہم کرتے تھے۔ان کے بھائی نے سپریم کورٹ میں ان کی رہائی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کر رکھی تھی۔ ان کے اہل خانہ کے مطابق گزشتہ ماہ کی 28 تاریخ کو سرکاری اہلکار انہیں انتہائی تشویشناک حالت میں کراچی کے علاقے ناظم آباد میں ان کے گھر کے قریب پھینک کرچلے گئے تھے جس کے بعد انہیں 4 مئی کو سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کے دوران اسٹریچر پر لایا گیا تھا۔
عدالت کو بتایا گیا تھا کہ ایک خفیہ سرکاری ایجنسی کی غیرقانونی حراست سے رہا ہونے والے تین دیگر افراد نے بتایا تھا کہ سعود میمن بھی خفیہ ایجنسی کی حراست میں ہیں۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا تھا کہ سعود میمن کو آئندہ عدالت کی اجازت کے بغیر گرفتار نہ کیا جائے۔ یاد رہے کہ امریکی اخبار ’وال سٹریٹ جرنل‘ کے صحافی ڈینیئل پرل کو جنوری دو ہزار دو میں کراچی میں اس وقت اغواء کرکے قتل کردیا گیا تھا جب وہ شدت پسندوں کے بارے میں ایک رپورٹ پر کام کر رہے تھے۔ حیدر آباد میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے دو ہزار دو میں مقدمے کے اہم ملزم احمد عمر شیخ کو سزائے موت سنائی تھی جبکہ تین دیگر ملزمان شیخ عادل، سلمان ثاقب اور فہد نسیم کو عمر قید کا حکم سنایا گیا تھا۔ سزا کے خلاف ملزمان کی اپیلیں سندھ ہائی کورٹ میں زیرالتوا ہیں۔ امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق اس سال قید گیارہ ستمبر کے حملوں کے مبینہ ’ماسٹر مائنڈ‘ خالد شیخ محمد نے مارچ میں گوانتانامو بے جیل میں ایک عدالت کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ امریکی صحافی ڈینیئل پرل کو انہوں نے خود ذبح کیا تھا۔ عمر شیخ اور دیگر ملزمان نے بری ہونے کے لیے اپیل دائر کی تھی جبکہ استغاثہ نے تین ملزمان کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل دائر کی تھی۔ |
اسی بارے میں ملزم کراچی پولیس کے حوالے04 August, 2005 | پاکستان ملزم ہاشم ریمانڈ پر جیل میں17 August, 2005 | پاکستان ہاشم کی پرل کیس میں گرفتاری17 August, 2005 | پاکستان عمر شیخ کراچی جیل میں منتقل18 May, 2006 | پاکستان پرل پر فلم، شوٹنگ روک دی گئی30 July, 2006 | پاکستان ’پرل قتل سے عمر شیخ لاعلم تھے‘27 September, 2006 | پاکستان عمر شیخ اپیل: چار سال بعد سماعت11 December, 2006 | پاکستان عمر شیخ کی اپیل پر سماعت ملتوی12 December, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||