BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 May, 2007, 14:01 GMT 19:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پرل کیس: اہم ملزم کا انتقال

صحافی ڈینئل پرل کے اغواء اور قتل کے اہم ملزم سعود میمن
کراچی میں امریکی صحافی ڈینئل پرل کے اغواء اور قتل کے اہم ملزم سعود میمن جمعہ کو کراچی کے لیاقت نیشنل ہسپتال میں انتقال کرگئے۔

46 سالہ سعود میمن کراچی میں کپڑے کے تاجر تھے اور ان پر الزام تھا کہ ڈینئل پرل کو اغواء کرنے کے بعد جس مکان میں یرغمال رکھا گیا اور بعد میں قتل کیا گیا، وہ ان کی ملکیت میں تھا۔

سعود میمن کے اہل خانہ کے مطابق انہیں 7 مارچ 2004ء کو امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے جنوبی افریقہ سے گرفتار کیا تھا اور اسکے بعدگوانتاناموبے کیوبا میں واقع امریکی جیل بھیج دیا تھا جہاں وہ طویل عرصہ زیرتفتیش رہے اور اس کے دو سال بعد انہیں پاکستانی حکام کے حوالے کردیا گیا تھا۔

تاہم حیرت انگیز طور پر ہر سال محکمۂ داخلہ حکومت سندھ کی جانب سے سنگین جرائم میں ملوث افراد کے بارے میں ترتیب دی جانے والی خفیہ ریڈ بک میں انہیں انتہائی مطلوب دہشتگرد بتایا جاتا تھا اور ان کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے رکھی گئی تھی۔

حکومت کے مطابق سعود میمن کالعدم تنظیم حرکۃ المجاہدین العالمی سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا القاعدہ سے قریبی تعلق تھا جبکہ وہ تمام جہادی تنظیموں کو خود بھی مالی وسائل فراہم کرتے تھے۔ان کے بھائی نے سپریم کورٹ میں ان کی رہائی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کر رکھی تھی۔

ان کے اہل خانہ کے مطابق گزشتہ ماہ کی 28 تاریخ کو سرکاری اہلکار انہیں انتہائی تشویشناک حالت میں کراچی کے علاقے ناظم آباد میں ان کے گھر کے قریب پھینک کرچلے گئے تھے جس کے بعد انہیں 4 مئی کو سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کے دوران اسٹریچر پر لایا گیا تھا۔

القاعدہ سے قریبی تعلق؟
 حکومت کے مطابق سعود میمن کالعدم تنظیم حرکۃ المجاہدین العالمی سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا القاعدہ سے قریبی تعلق تھا جبکہ وہ تمام جہادی تنظیموں کو خود بھی مالی وسائل فراہم کرتے تھے۔ان کے بھائی نے سپریم کورٹ میں ان کی رہائی کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کر رکھی تھی۔
عدالت کو بتایا گیا تھا کہ سعود میمن طویل عرصے تک تشدد کے باعث ذہنی توازن کھو چکے ہیں اور ہڈیوں کے ڈھانچے میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ عدالت نے سرکاری وکیل کو ان کا طبی معائنہ اور علاج کرانے اور رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت کو بتایا گیا تھا کہ ایک خفیہ سرکاری ایجنسی کی غیرقانونی حراست سے رہا ہونے والے تین دیگر افراد نے بتایا تھا کہ سعود میمن بھی خفیہ ایجنسی کی حراست میں ہیں۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا تھا کہ سعود میمن کو آئندہ عدالت کی اجازت کے بغیر گرفتار نہ کیا جائے۔

یاد رہے کہ امریکی اخبار ’وال سٹریٹ جرنل‘ کے صحافی ڈینیئل پرل کو جنوری دو ہزار دو میں کراچی میں اس وقت اغواء کرکے قتل کردیا گیا تھا جب وہ شدت پسندوں کے بارے میں ایک رپورٹ پر کام کر رہے تھے۔

حیدر آباد میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے دو ہزار دو میں مقدمے کے اہم ملزم احمد عمر شیخ کو سزائے موت سنائی تھی جبکہ تین دیگر ملزمان شیخ عادل، سلمان ثاقب اور فہد نسیم کو عمر قید کا حکم سنایا گیا تھا۔ سزا کے خلاف ملزمان کی اپیلیں سندھ ہائی کورٹ میں زیرالتوا ہیں۔

امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق اس سال قید گیارہ ستمبر کے حملوں کے مبینہ ’ماسٹر مائنڈ‘ خالد شیخ محمد نے مارچ میں گوانتانامو بے جیل میں ایک عدالت کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ امریکی صحافی ڈینیئل پرل کو انہوں نے خود ذبح کیا تھا۔

عمر شیخ اور دیگر ملزمان نے بری ہونے کے لیے اپیل دائر کی تھی جبکہ استغاثہ نے تین ملزمان کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل دائر کی تھی۔

’پرل کا قاتل‘
ڈینیئل پرل کو میں نے قتل کیا: خالد شیخ محمد
خالد شیخ محمد قتل کس نے کیا؟
ڈینئیل پرل کو کس نے قتل کیا؟
انجلینا جولیدی مائٹی ہارٹ
انجلینااور بریڈ پٹ فلمبندی کے لیئےانڈیا میں
اسی بارے میں
ملزم کراچی پولیس کے حوالے
04 August, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد