’حکمرانوں کی بوٹیاں نوچ لوں گی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں مبینہ طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کے لیے سرگرم ڈیفنس آف ہیومن رائٹس نامی تنظیم کی جانب سے ملگ گیر سطح پر احتجاجی مظاہروں کے اعلان کے بعد اس سلسلے کا پہلا مظاہرہ پیر کو پشاور میں ہوا جس میں گمشدہ افراد کے درجنوں لواحقین نے شرکت کی۔ پشاور ہائی کورٹ سے پریس کلب تک اس احتجاجی مظاہرے میں مبینہ طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کے لواحقین نے گمشدہ افراد کی بڑی بڑی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور حکومت کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔ مظاہرے میں صوبہ پنجاب اور صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لاپتہ افراد کے عزیز و اقارب نے شرکت کی جن میں زیادہ تعداد خواتین کی تھی۔ ڈیفنس آف ہیومن رائٹس نامی تنظیم گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے دو ہزار چھ میں بنائی گئی تھی اور بقول آمنہ جنجوعہ وہ اگلے چند دنوں کے دوران احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے پنجاب کے مختلف شہروں سے مظاہروں کاآغاز کریں گے اور اس سلسلے کا اگلا مظاہرہ لاہور ہائی کورٹ کے سامنے منعقد ہوگا۔ بعد میں پشاور پریس کلب میں ایک نیو ز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دو ہزار چھ سے لاپتہ مسعود احمد جنجوعہ کی بیوی اور ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی فعال رہنما آمنہ مسعود نے کہا کہ خفیہ اداروں کی جانب سے مبینہ طور پر اٹھائے گئے تقریباً چھپن افرار کا پتہ چل گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے مقابلے میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران ملک بھر سے تقریباً ساٹھ مزید افراد کو خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے مبینہ طور پر اغواء کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انسانی کمیشن آف پاکستان اور ان کی تنظیم کے اعداد شمار کو اکٹھا کیا جائے تو گمشدگی کے حالیہ واقعات کے ساتھ ہی پاکستان میں مبینہ طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد تین سو تک پہنچ گئی ہے۔ اس موقع پر لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے باری باری اپنی روداد سنائی۔ لاہور سے آئی ہوئی زینت خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ لاہور کی ایک کمپنی میں کام کرنے والا ان کاچوبیس سالہ بیٹا فیصل مرزا تیس جولائی دوہزار پانچ سے لاپتہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کی تلاش کے لیے ہر دروازے پر دستک دی ہے لیکن انہیں کہیں سے بھی کوئی جواب نہیں موصول نہیں ہوا۔ ’اگر مجھے میرا بیٹا نہیں ملا تو میں حکمرانوں کی بو ٹیاں نوچ لوں گی کیونکہ مجھے ویسے بھی ایک نہ ایک دن تو مرنا ہی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا ’جنرل پرویز مشرف غلط بیانی کر رہے ہیں کہ لاپتہ افراد جہاد کے لیے گئے ہیں۔ اگر میرے بیٹے کو جہاد پر جانا ہی تھا تو مجھے سو فیصد یقین ہے کہ وہ ایک تابع فرمان بیٹا ہونے کے ناطے مجھ سے ضرور پوچھتا۔‘
راولپنڈی سے آئی ہوئی عاصمہ نور اپنے فوجی بھائی کے لاپتہ ہونے کی کہانی سناتے وقت بہت نڈھال تھیں اور بمشکل ہی بات کر پارہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے تینتیس سالہ بھائی رانا علی حسن کو بائیس جولائی دو ہزار چار کی رات کو تقریباً دو سو فوجیوں نے اپنے گھر سےگرفتار کر لیا تھا اور انہیں تفتیش کے بہانے اپنے ساتھ لے گئے جس کے بعد وہ گھر واپس نہیں آئے ہیں۔ عاصمہ کا کہنا تھا کہ حکام ان کے بھائی کی گرفتاری سے انکار کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھائی کو اٹھانے جانے کے ایک سال بعد ان کی بھابی کو بھی خفیہ ایجنسیوں والوں نے اغواء کیا تھا اور بقول ان کے آٹھ دن تک حراست میں رکھنے کے بعد انہیں اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے سامنے پھینک دیا گیا۔
عاصمہ کا کہنا تھا کہ ان کی بھابی کو زدوکوب کیا گیا تھا جن کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے اور وہ خون کے سرطان میں مبتلا ہوگئی ہیں اور اس وقت اسلام آباد میں واقع پمز ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان میں لاپتہ افراد سے متعلق انسانی حقوق کمیشن کی درخواست سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور کمیشن نے مبینہ طور پر غائب ہونے والے ایک سو اڑتالیس افراد کی فہرست سپریم کورٹ میں جمع کرادی ہے تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ ان میں سے چھپن افراد کا پتہ چل گیا ہے۔ چارمئی کو ہونے والی سماعت کے موقع پر سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے کہا تھا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی نہ ہونے کے برابر ہے اور عدالت لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ایک کمیشن مقرر کرنے پر غور کر رہی ہے۔ |
اسی بارے میں لاپتہ افراد کو تلاش کر رہے ہیں: شیرپاؤ06 April, 2007 | پاکستان سپریم کورٹ:وفاقی سیکریٹری طلب20 April, 2007 | پاکستان رپورٹ عدالت میں پیش ہوگی:حکومت24 April, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد: عدالت پالیسی بنائےگی27 April, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد کیس، سماعت ملتوی04 May, 2007 | پاکستان لاپتہ احتجاج: پولیس اہلکاروں پر مقدمہ09 May, 2007 | پاکستان ’باقیوں کو بھی جلد ڈھونڈیں‘08 January, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد، مسلم لیگ(ن) کا احتجاج22 February, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||