’ایڈوائس وزیر اعظم ہی کی تھی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے مقدمے کی سماعت کرنے والے تیرہ رکنی فل کورٹ کو بتایا ہے کہ صدر نے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس اپنے صوابیدی اختیارات کے تحت نہیں بلکہ وزیر اعظم کے مشورے پر دائر کیا تھا۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس سے متعلق وزیر اعظم کا مشورہ ماننا صدر پاکستان کی مجبوری ہے اور ان کے پاس اسے سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے بھجوانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں تھا۔ اسلام آباد کے وسط میں واقع لال مسجد کے طلبا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جگھڑے کے بعد چیف جسٹس کے مقدمے میں ذرائع ابلاغ کی دلچسپی کم ہو گئی ہے اور کمرہ عدالت میں جہاں ذرائع ابلاغ کے درجنوں نمائندے موجود ہوتے تھے، بدھ کے روز صرف قومی اخبارات کے چند صحافی موجود تھے۔ پچھلے کئی مہینوں سے جاری چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت کے دوران نجی ٹیلی ویژن چینلز کے ایک درجن سے زیادہ کیمرہ مین ہر وقت سپریم کورٹ کے دورازے کے سامنے کھڑے نظر آتے تھے وہ بھی بدھ کے روز غائب تھے اور صرف پاکستان ٹیلی ویژن اور ایک اس چینل کا کیمرہ مین نظر آیا جو ابھی اپنی نشریات شروع کرنے کے مراحل میں ہے۔
ملک قیوم نے کہا کہ آرٹیکل 209 کے تحت صدر کی رائے کی وہ حثیت نہیں ہوتی جو آئین کے آرٹیکل اٹھاون کے تحت ہوتی ہیں جس کی بنیاد پر وہ اسمبلیوں کو توڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے صدر کی طرف سے سپریم جوڈیشل کو نسل کو ریفرنس بھیجنے کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہے کہ چیف جسٹس کو قصور وار ٹھہرا دیا گیا ہے بلکہ صدر نے یہ جاننے کےلیے ریفرنس بھیجا ہے کہ کہیں وہ قصوروار تو نہیں۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ بدنیتی پر مبنی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر نے وزیراعظم کے مشورے پر ریفرنس بھیجا ہے اور وزیر اعظم کے مشورے پر عدالت میں سوالات نہیں اٹھائے جاسکتے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل اڑتالیس کے تحت وزیر اعظم کی طرف سے دیئے گئے مشورے کو کسی عدالت میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ چیف جسٹس کو کام کرنے سے روکنے کا فیصلہ جائز ہے اور صدر کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی ایسے جج کو کام کرنے سے روک دے جس کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر ہو چکا ہو۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ایک طرف یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کے خلاف ایکشن لینے میں بے جا عجلت کا مظاہرہ کیاگیا ہے لیکن دوسری طرف ان کا موقف ہے کہ ان کے خلاف ایکشن ایک سازش کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں متضاد باتیں ہیں۔ ملک قیوم نے کہا چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بھیجے جانے کے بعد کیے گئے اقدامات کی بنیاد پر بدنیتی کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ ملک قیوم نے چیف جسٹس کی طرف سے سپریم جوڈیشل کونسل کے تین ججوں پر تعصب کا الزام کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس کا فیصلہ ججوں پر چھوڑ دیا جانا چاہیے کہ وہ انصاف کر سکتے ہیں یا نہیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس کی کارروائی کو کھلے عام کرنے سے متعلق وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم نے کہا کہ اصولی طور اگر وہ جج جس کے خلاف کارروائی ہو رہی ہو، مطالبہ کرے کہ کارروائی کھلی عدالت میں ہونا چاہیے تو پھر کارروائی کو بند کمرے میں کرنے کا جواز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریفرنس کے صرف اس حصے کی کارروائی بند کمرے میں ہونی چاہیے جہاں معلومات حساس نوعیت کی ہوں۔ مقدمے کی سماعت کل بھی جاری رہے گی۔ |
اسی بارے میں سپریم کورٹ میں حکومت کی معافی 02 July, 2007 | پاکستان ’صورت حال 9 مارچ پر چلی جائے گی‘28 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||