جسٹس کیس: ’اگلے دو ہفتے فیصلہ کن‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عملی طور پر معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے اور حکومتی اور چیف جسٹس کے وکلاء کے مطابق یہ مقدمہ اگلے دو ہفتوں میں اختتام پذیر ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی فل کورٹ نے چودہ مئی سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست سمیت چوبیس ایسی درخواستوں کی سماعت شروع کی تھی جن میں سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل، چیف جسٹس کی عملی معطلی سمیت کئی نکات اٹھائے گئے تھے۔ وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم نے جعمرات کو عدالت کو بتایا کہ وہ پیر یا منگل کو اپنے دلائل مکمل کر لیں گے جس کے بعد سید شریف الدین پیرزادہ اور اٹارنی جنرل مخدوم علی خان دلائل دیں گے۔ وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم کے مطابق اٹارنی جنرل مخدوم علی خان دو دن میں اپنے دلائل مکمل کر سکتے ہیں کیونکہ وہ عدالت کے نوٹس پر ہیں اور وہ مقدمے کےحقائق پر نہیں بلکہ قانونی نکات پر ہی دلائل دیں گے۔ صدر پرویز مشرف کے وکیل سید شریف الدین پیزادہ کے بارے میں وفاقی حکومت کے وکیل کا خیال ہے کہ ان کے دلائل بھی زیادہ طویل نہیں ہوں گے اور سرکاری وکلاء اپنے دلائل اگلے ہفتے میں مکمل کر سکتے ہیں۔
حکومت کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کی صورت میں چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن اپنے جوابی دلائل شروع کریں گے۔ اعتزاز احسن کے ساتھی وکیل بیرسٹر گوہر کے مطابق اگر حکومت نے کوئی نیا مواد عدالت کے سامنے نہ رکھا تو اعتزاز احسن چند دنوں میں اپنے جوابی دلائل مکمل کر لیں گے۔ اعتزاز احسن چیف جسٹس کے مقدمے میں مسلسل اٹھارہ روز تک دلائل دے چکے ہیں۔ سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی فل کورٹ نے چیف جسٹس اور تیئس دیگر آئینی درخواستوں کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل سننے کے بعد اعلان کیا تھا کہ وہ صرف چیف جسٹس کی درخواست کا فیصلہ کرے گی اور اس کے علاوہ باقی درخواستیں چیف جسٹس کی آئینی درخواست کی روشنی میں نمٹائی جائیں گی۔ تیرہ رکنی فل کورٹ نےدرخواستوں کے قابل سماعت ہونے سے متعلق اپنا فیصلہ ابھی تک محفوظ رکھا ہوا ہے اور اعلان کیا تھا کہ چیف جسٹس کی آئینی درخواست اور اس کے قابل سماعت ہونے سے متعلق حکومتی اعتراضات پر اکٹھا فیصلہ سنایا جائے گا۔ حکومت کے وکلاء کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ کو سپریم جوڈیشل کونسل کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے اور اس کو اپنا کام مکمل کرنے دیا جانا چاہیے۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے یہ بھی عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ چیف جسٹس کی آئینی درخواست کی سماعت کرنے کے بجائے سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے دائر کیے جانے والے ریفرنس کی سماعت شروع کرے۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے جب عدالت کی اجازت کے بغیر ہی سپریم جوڈیشل کونسل کا ریکارڈ عدالت میں داخل کروایا تو ان کو انتہائی شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑا تھا اور سرکاری ایڈوکیٹ آن ریکارڈ کی معطلی کےعلاوہ سیکرٹری قانون کو بھی ججوں کے متعلق ہتک آمیز مواد عدالت کے سامنے رکھنے کے الزام میں شو کاز نوٹس جاری کیا تھا۔ چیف جسٹس نے سپریم کورٹ سے درخواست کر رکھی ہے کہ وہ ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیجنے کی کارروائی کو بدنیتی پر مبنی کارروائی قرار دے کر اسے ختم کر دے اور انہیں بحال کر دیا جائے۔ چیف جسٹس نے بحالی نہ ہونے کی صورت میں عدالت سے استدعا کر رکھی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے پانچ میں سے تین اراکان کو متعصب قرار دے کر انہیں ہٹا دیا جائے۔ حکومت کے وکیل ملک قیوم نے چیف جسٹس کے وکلاء کی درخواست کو کسی حد تک تسلیم بھی کر لیا اور عدالت سے کہہ چکے ہیں کہ تین کی بجائے پانچوں ممبران کو تبدیل کر دیا جائے۔ |
اسی بارے میں ’چیف جسٹس کے خلاف بغاوت ہوئی‘21 June, 2007 | پاکستان ’مرضی کا فیصلہ نہیں لیا جا سکتا‘20 June, 2007 | پاکستان ’چیف جسٹس نے تب بھی سٹینڈ لیا‘19 June, 2007 | پاکستان ’عدالتیں غلطیوں کی تلافی کریں‘18 June, 2007 | پاکستان چیف جسٹس: بھانجے کےگھر پر ’حملہ‘17 June, 2007 | پاکستان یہ جدوجہد مثالی جدوجہد ہے: افتخار17 June, 2007 | پاکستان ’عدالت فوج جیسا رد عمل ظاہر کرے‘14 June, 2007 | پاکستان چیف جسٹس کے خلاف نیا ریفرنس10 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||