چیف جسٹس: بھانجے کےگھر پر ’حملہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے عزیزوں نے کہا ہے کہ ایک درجن سے زائد مسلح افراد نے ان کے گھر میں میں گھس کر انہیں ہراساں کیا ہے۔ چیف جسٹس کے بھانجے عامر رانا ایڈووکیٹ نے بتایا کہ نیم شب کے وقت لگ بھگ چودہ سے پندرہ مسلح افراد نے مکان کا دروازہ اور جنگلہ توڑ کر گھر والوں کو ہراساں کیا۔ کوئٹہ میں عسکری پارک کے قریب رہائشی علاقہ میں مقیم عامر رانا نے الزام عائد کیا کہ ان لوگوں کے حلیے اور باتوں سے لگتا تھا کہ وہ خفیہ ایجنسی کے اہلکار تھے کیونکہ جب سے چیف جسٹس کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کیا گیا ہے تب سے کوئٹہ میں ان کے مکان پر چھاپے مارے گئے ہیں اور وہ خود کافی دنوں تک روپوش رہے ہیں۔ عامر رانا ایڈووکیٹ نے بتایا کہ وہ رات ساڑھے تین بجے کے قریب ٹی وی دیکھ رہے تھے جس پر چیف جسٹس کے فیصل آباد کے دورے کے حوالے سے خبریں نشر کی جا رہی تھیں کہ اچانک جالی سے انہوں نے کچھ لوگوں کو دروازہ توڑتے دیکھا۔ عامر نے بتایا کہ مسلح افراد ان کی والدہ کو پستول کی نوک پر کمرے سے باہر لے آئے۔ اس دوران عامر کے مطابق انہوں نے ایک باتھ روم کے باہر کی طرف کھلنے والے دروازے سے ہوائی فائرنگ کی۔ ہوائی فائر کی آواز سننے کے بعد وہ لوگ جس طرف سے آئے تھے فرار ہو گئے لیکن باہر کی دیوار کے قریب ایک کلاشنکوف چھوڑ گئے۔ انہوں نے کہا کہ نامعلوم افراد نے کوئی چوری نہیں کی اور سارے گھر میں تلاشی لیتے رہے اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یہ ایجنسیوں کے علاوہ کوئی نہیں کرسکتا۔ عامر رانا نے بتایا کہ صدارتی ریفرنس کے بعد سے جسٹس افتخار چودھری کے بچے سکول بھی نہیں جا رہے۔ مکان کے باہر چوکیدار نے بتایا کہ حملہ آوروں نے انہیں مارا پیٹا اور کپڑے سے باندھ کر دور سڑک کے قریب پھینک دیا۔
پولیس اس واقعہ کی تفتیش کر رہی ہے۔ پولیس کے ایک سینئر افسر رہو خان بروہی نے اے ایف پی کو بتایا:’ ہم نے گھر کے رہائشیوں کے بیانات لے لیے ہیں اور نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔‘ واضح رہے کہ چودہ مئی کو چیف جسٹس افتخار چودھری کے ذاتی اسسٹنٹ اور سپریم کورٹ کے ڈپٹی رجسٹرار سید حامد رضا کو مسلح افراد نے ان کے گھر میں گھس کر گولی مار دی تھی۔ یاد رہے گزشتہ روز چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے کوئٹہ کے دورے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وہ اکیس جولائی کو بذریعہ ریل گاڑی کوئٹہ پہنچیں گے۔ بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور پیر کو بلوچستان بھر میں عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ |
اسی بارے میں ’جسٹس افتخار دورہ ملتوی کر دیں‘09 May, 2007 | پاکستان ’خفیہ اداروں کے سربراہ دباؤ ڈالتے رہے‘29 May, 2007 | پاکستان ’جسٹس افتخار سے نہیں مل پایا‘16 March, 2007 | پاکستان کھاریاں آرمی سنٹر پر خودکش حملہ29 March, 2007 | پاکستان کوئٹہ میں ایک اور دھماکہ12 June, 2007 | پاکستان کوئٹہ میں ایک اور دھماکہ31 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||