BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 July, 2007, 07:37 GMT 12:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غیر موزوں عدالتی رویہ، الزام واپس

ملک محمد قیوم
پیر کو ملک قیوم نے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس پڑھ کر سنایا
صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کے وکیل نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی درخواست سننے والی فل کورٹ کو بتایا ہے کہ وہ اپنے مؤکل کی ہدایت پر چیف جسٹس کے خلاف عدالتی بے ضابطگی سے متعلق الزامات واپس لے رہے ہیں۔


صدر کے وکیل سید شریف الدین پیرزادہ نے پیر کو سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی فل کورٹ کو بتایا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے دائر کیے جانے والے ریفرنس کے پیرا نمبر چونتیس اور پیرا نمبر چھتیس کے سیکشن جی کو حذف تصور کیا جائے۔

صدارتی ریفرنس کے اس پیرا میں الزام لگایا گیا تھا کہ دو مختلف مقدموں میں چیف جسٹس نے تحریری فیصلے کھلی عدالت میں سنائے گئے فیصلوں سے بالکل متضاد لکھے اور ایک مقدمے میں پچپن ملین روپے کی خطیر رقم کا معاملہ تھا۔

اس پر تیرہ رکنی بینچ کے ایک رکن جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ کسی بھی جج کے خلاف سب سے سنگین الزام عدالتی بے ضابطگی کا لگایا جا سکتا ہے تاہم حکومت نے وہ الزام واپس لے لیا ہے۔

چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے اس موقع پر کہا کہ اگر حکومت ریفرنس واپس لینا چاہتی ہے تو اسے سارا ریفرنس واپس لینا ہوگا اور وہ ٹکڑوں میں ریفرنس کی واپسی کی مخالفت کریں گے۔

سنگین الزام واپس
 تیرہ رکنی بینچ کے ایک رکن جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ کسی بھی جج کے خلاف سب سے زیادہ سنگین الزام جوڈیشل مِسکنڈکٹ کا ہو سکتا ہے تاہم حکومت نے وہ الزام واپس لے لیا ہے

چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ جن عدالتی فیصلوں کا چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس میں ذکر کیا گیا ہے ان کا فیصلہ چیف جسٹس نے اکیلے نہیں کیا تھا ان فیصلوں میں سپریم کورٹ کے پانچ اور جج بھی شامل تھے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ حکومت جسٹس محمد نواز عباسی سمیت کئی دوسرے ججوں کو بچانے کے لیے عدالتی بے ضابطگی کے الزامات واپس لے رہی ہے۔

چیف جسٹس کے خلاف عدالتی بے ضابطگی کے الزامات کی واپسی کے بعد اب چیف جسٹس کے خلاف بیٹے ڈاکٹر ارسلان افتخار کی ترقی میں اپنے عہدے کا ناجائز استعمال، اجازت سے زیادہ پروٹوکول پر اصرار جسیے الزامات کا سامنا ہے۔

اس سے قبل وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم نے چیف جسٹس کے خلاف دائر کیے جانے والے صدرارتی ریفرنس کی مکمل تفصیلات عدالت کو پڑھ کر سنائیں۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی کارروائی بند کمرے میں کرتی رہی ہے لیکن اب حکومت خود اس کو کھلی عدالت میں لے آئی ہے۔

چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کھلی عدالت میں ہو لیکن وہ یہ عدالت کےریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی بند کمرے کی کارروائی کو حکومت خود کھلی عدالت میں لے کر آئی ہے۔

پیر کو جب عدالت کی کارروائی کا آغاز ہوا تو تیرہ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے وفاقی حکومت کے وکیل سے کہا کہ وہ اپنے دلائل دیتے وقت یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اس مقدمے کی سماعت کو رواں ہفتے میں مکمل ہونا ہے۔

 اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر حکومت ریفرنس واپس لینا چاہتی ہے تو اسے سارا ریفرنس واپس لینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ریفرنس کی ٹکڑوں میں واپسی کی مخالفت کریں گے

وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ صدر پاکستان نے ریفرنس وزیراعظم کے مشورے پر سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے دائر کیا تھا اور وزیر اعظم عدالت کے سامنے فریق ہی نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر پاکستان نے ریفرنس میں دی گئی معلومات کا معائنہ کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ اسے سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے بھیجا جانا ضروری ہے تاکہ پتہ لگایا جا سکے کہ کہیں چیف جسٹس اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ تو نہیں اٹھا رہے۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے جب عدالت کو یہ بتانا چاہا کہ نو مارچ کو چیف جسٹس کو صدر ہاؤس میں بلایا نہیں گیا تھا بلکہ وہ اپنی درخواست پر وہاں گئے تھے، تو فل کورٹ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے بیان اور صدر پاکستان کی ویب سائٹ کے مطابق چیف جسٹس کو بلایا گیا تھا۔

اس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ وہ اس نکتے پر مزید کچھ نہیں کہیں گے۔

ملک قیوم کے دلائل کےاختتام پر اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل شروع کیے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر ہو سکتا ہے اور اس کی سماعت کا اختیار بھی سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس ہے۔

اٹارنی جنرل نےکہا اگر چیف جسٹس کے وکیل کی یہ دلیل مان لی گئی کہ چیف جسٹس کے بغیر سپریم جوڈیشل کونسل تشکیل ہی نہیں پا سکتی تو ایسی صورت میں نہ صرف چیف جسٹس کے خلاف کوئی ریفرنس دائر ہو سکے گا بلکہ وہ خود بھی کسی وجہ سے ریفرنس کی سماعت نہ کرنا چاہیں تو بھی ایسا نہیں کر پائیں گے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ چیف جسٹس کسی جج سے اپنی دوستی یا ایسی معلومات کی بنا پر جو بطور چیف جسٹس ان کے علم میں لائی گئی ہو، کسی ریفرنس کی سماعت سے انکار کر سکتے ہیں لیکن عدالت نے اگر یہ تشریح کر دی کہ سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس کے بغیر نامکمل ہے تو وہ مقدمہ نہ سننے کے اختیار سے محروم ہو جائیں گے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر اسی دلیل کو ایک اور انداز سے دیکھیں تو چیف جسٹس کو کسی جج کے خلاف ریفرنس کی سماعت سے متعلق ویٹو پاور حاصل ہو جائے گی اور وہ ریفرنس سننے سے انکار کر کے ریفرنس کی سماعت کو ہمیشہ کے لیے التوا میں ڈال سکیں گے۔

چیف جسٹس کے احتساب کا طریقہ
جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ عدالت اپنے فیصلے میں یہ واضح کرنے کی کوشش کرے گی کہ چیف جسٹس کے خلاف الزام کی صورت میں احتساب کا کونسا سے طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے
جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ ہر ادارے کے سربراہ کو معاملات کو صحیح رکھنے کے لیے کچھ خصوصی اختیارت ہوتے ہیں۔

جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ عدالت اپنے فیصلے میں یہ واضح کرنے کی کوشش کرے گی کہ چیف جسٹس کے خلاف الزام کی صورت میں احتساب کا کونسا سے طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو عام عدالتی وقت سے آدھ گھنٹہ بعد بھی اپنے دلائل جاری رکھنے کی اجازت دی۔ اٹارنی جنرل کے دلائل ابھی جاری تھے کہ سماعت کا وقت ختم ہو گیا۔

واضح رہے کہ عدالت اس سے پہلے کہہ چکی ہے کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی سماعت اس ماہ کی بیس تاریخ تک مکمل ہونی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد