’اگر فیصلہ آیا تو تاریخی ہوگا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے مقدمے کی سماعت کرنے والے تیرہ رکنی فل کورٹ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن نےکہا کہ ’اگر‘ چیف جسٹس کے مقدمے کا فیصلہ آیا تو تاریخی ہو گا۔ وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم کے دلائل کے دوران فل کورٹ کے ایک ممبر جسٹس محمد نواز عباسی نے کہا کہ جس انداز سے وفاقی حکومت کے وکیل دلائل دے رہے ہیں اس طرح تو عدالت کسی بھی نتیجے پر نہیں پہنچ پائے گی۔ اس پر جسٹس ایم جاوید بٹر نے کہا کہ عدالت کو بہت’ کانٹ چھانٹ‘ کرنی پڑے گی لیکن اس بار عدالت کا فیصلہ سینکڑوں صفحات پر پھیلا ہوا نہیں ہو گا۔ بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ تاریخی ہوگا اور ہنستے ہوئے کہا کہ ’اگر آیا تو‘۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے جواباً کہا ’انشا اللہ آئے گا اور اچھا آئے گا‘۔ وفاقی حکومت کے وکیل نےکہا کہ ’عدالت کے سامنے مقدمہ یہ ہے کہ کہیں چیف جسٹس کا رویہ ایسا تو نہیں جو ایک جج کے شایان شان نہ ہو‘۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ پاکستان میں پارلیمانی نظام جہموریت ہے جس میں صدر مملکت وزیراعظم کے مشورہ پر عمل کرتے ہیں۔ اس پر جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے وکیل سے کہا کہ سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان میں کونسا نظام رائج ہے۔
جسٹس رمدے نے وکیل سے کہا کہ وہ مقدمے کے حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے دلائل دیں کیونکہ ہر مقدمے کے اپنے حقائق ہوتے ہیں۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے بارہا عدالت سے کہا کہ صدر مملکت وزیراعظم کا مشورہ ماننے کا پابند ہے اور چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ بھی وزیراعظم کے مشورے سے ہی کیا گیا تھا۔ ایک موقع پر وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن انہیں یہ کہہ کر چھیڑ رہے ہیں کہ کیا لال مسجد کے خلاف آپریشن کا فیصلہ بھی وزیراعظم کے مشورے سے کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم نے اپنے دلائل کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ صدر کا پارلیمنٹ سے سالانہ خطاب بھی حکومت لکھتی ہے اور ایک بار تو اسی نکتے پر صدر اسحاق خان اور وزیراعظم بینظیر بھٹو کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔ اس پر چیف جسٹس کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت کے صدر اسحاق خان نے حکومت کی طرف سے تیار کی جانے والی تقریر کو پڑھنے سے انکار کر دیا تھا۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ وہ تو زبردستی کا معاملہ تھا تو اعتزاز احسن نے کہا کہ معاملہ اب بھی زبردستی کا ہے۔ جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کہا کہ جب صدر اسحاق خان اور محترمہ بینظیر بھٹو کے درمیان تنازعہ کھڑا ہوا تو سید شریف الدین پیرزادہ نے صلح کرائی تھی۔ ملک قیوم نے کہا کہ وہ سید شریف الدین پیرزاوہ کو اپنا ’استاد‘ مانتے ہیں لیکن اعتزاز احسن نہیں مانتے۔ اس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ سید شریف الدین پیرزادہ یہ صلح کرواتے وقت بھی ایک ڈکٹیٹر کے ہاتھ مضبوط کر رہے تھے۔ جسٹس خلیل الرحمن نے کہا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ملک قیوم سید شریف الدین پیرزادہ کے دوست ہیں یا دشمن۔ انہوں نے کہا کہ وہ شریف الدین پیرزادہ کی شان میں ایک جملہ کہہ دیتے اور دوسری جانب سے شریف الدین کی مخالفت میں ایک طوفان برپا ہوجاتا ہے۔
جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ عدالتیں ایک ڈاکٹر کی طرح ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا جب کسی شخص کو تکلیف ہوتی ہے تو وہ ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے اور ڈاکٹر کے مشورہ اپنی سرجری کروانے کے لیے بھی تیار ہو جاتا ہے لیکن جب وہ عدالتوں کے سامنے آتے ہیں تو ان کا رویہ مختلف ہوتا ہے۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ عوام کو عدالتوں کو اپنا دشمن نہیں سمجھنا چاہیے اور ان پر بھی اسی طرح بھروسہ کرنا چاہیے جس طرح وہ ڈاکٹر پر کرتے ہیں۔ وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں لوگ اداروں کی عزت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کاب کہنا تھا کہ صدر پر لازم ہے کہ وہ سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش کو من و عن تسلیم کرے۔ جسٹس محمد نواز عباسی نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 209 میں لکھا کہ صدر اگر چاہے تو سفارشات کو مان لے۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ صدر کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارشات کو ماننا لازم ہے۔ اس نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے ملک قیوم نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ ججوں کی تعیناتی کے لیے چیف جسٹس کے ساتھ صدر کے مشورے کو ایسے معنی پہنا سکتی ہے کہ صدر پر لازم ہے کہ وہ چیف جسٹس کے مشورے کو مانے تو پھر عدالت یہ کیوں نہیں مان سکتی کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش کو ماننا بھی صدر کے لیے لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ نے یہ قرار دیا کہ صدر کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش کو ماننا لازم نہیں ہے تو عدلیہ اپنی آزادی پرسمجھوتہ کر رہی ہو گی اور عدلیہ انتظامیہ کے کنٹرول میں آ جائے گی۔ ’میں ایگزیکٹو کا وکیل ہوں، ساری طاقت آپ کو دے رہا ہوں لیکن آپ مانتے ہی نہیں ہیں‘۔
وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ اگر کسی جج پر تعصب کا الزام لگایا جائے تو پھر یہ معاملہ جج پر چھوڑ دینا چاہیے۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ وہ پیر کو اپنے دلائل مکمل کر لیں گے جس کے بعد اٹارنی جنرل مخدوم علی اپنے دلائل دیں گے اور ان کے بعد صدر پرویز مشرف کے وکیل سید شریف الدین پیرزادہ اپنے دلائل شروع کریں گے۔ مقدمے کی آئیندہ سماعت پیر کو ہو گی۔ |
اسی بارے میں ’چیف جسٹس کے خلاف بغاوت ہوئی‘21 June, 2007 | پاکستان ’مرضی کا فیصلہ نہیں لیا جا سکتا‘20 June, 2007 | پاکستان ’چیف جسٹس نے تب بھی سٹینڈ لیا‘19 June, 2007 | پاکستان ’عدالتیں غلطیوں کی تلافی کریں‘18 June, 2007 | پاکستان چیف جسٹس: بھانجے کےگھر پر ’حملہ‘17 June, 2007 | پاکستان یہ جدوجہد مثالی جدوجہد ہے: افتخار17 June, 2007 | پاکستان ’عدالت فوج جیسا رد عمل ظاہر کرے‘14 June, 2007 | پاکستان چیف جسٹس کے خلاف نیا ریفرنس10 June, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||