’تو پھر فیصلہ عوام سے کرا لیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت کرنے والے فل کورٹ نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کو ان کے ایک مبینہ بیان کی وضاحت کرنے کے لیے منگل کو عدالت میں طلب کیا ہے۔ پیر کو صبح کے سیشن میں سپریم کورٹ کے فل بینچ نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سربراہ اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل منیر اے ملک سے کہا کہ وہ اپنے اس مبینہ بیان کی وضاحت کریں کہ’اگر اس مقدمے کا فیصلہ عوامی خواہشات کے مطابق نہیں ہوتا تو ہم عدالت کو جلا دیں گے۔‘ تیرہ رکنی فل کورٹ کے سربراہ خلیل الرحمان رمدے نے کہا کہ عدالت ان حالات میں کام نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ بات ہے تو پھر یہ عدالت مقدمہ نہیں سنے گی اور وکلاء (کو چاہیئے) کہ وہ اس مقدمے کا فیصلہ عوام کی عدالت سے کروا لیں۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نے اپنے مبینہ بیان میں کہا کہ اس مقدمے میں عوام تو اپنا فیصلہ دے چکے ہیں اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اب عوام کے چیف جسٹس (جسٹس آف دی پیپل) ہیں۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ ہمارے پاس تو ایسی کوئی اتھارٹی نہیں ہے کہ ہم ’عوام کے چیف جسٹس‘ کو بحال کر دیں۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ (منیر اے ملک کے بیان) والا معاملہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ عدالت نے چیف جسٹس کے دوسرے وکیل اعتزاز احسن کے رویے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم تمام آپ کے رویے کی قدر کرتے ہیں۔ چودھری اعتزاز احسن نے جب عدالت سے کہا کہ منیر اے ملک کا مذکورہ بیان سیاق و سباق کے بغیر شائع کیا گیا ہے تو جسٹس نواز عباسی نے کہا کہ یہ معاملہ یوں چھوڑ دیے جانے والا نہیں ہے۔ اس موقع پر جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے کہا کہ منیر اے ملک کے اس بیان سے تو لگتا ہے کہ عدالت پہلے آپ (وکلاء) سے پوچھ لے کہ آپ کو کیا فیصلہ پسند ہے ورنہ آپ عدالت کو جلا دیں گے۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ جب دوسرے فریق کی کوئی ایسی بات سامنے آئی تو عدالت نے اس کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے جسٹس رمدے نے یاد دلایا کہ عدالت نے سیکرٹری قانون اور اینٹیلیجنس بیورو کو (ایسے ہی معاملات) پر نوٹس جاری کر رکھے ہیں۔ منیر اے ملک کے مبینہ بیان کے بارے میں بحث سے قبل عدالت نے اینٹیلیجنس بیورو کو حکم دیا کہ وہ سپریم کورٹ کی عمارت میں خفیہ آلات نصب ہونے کے بارے میں اپنی رپورٹ ایک ہفتے کے اندر عدالت میں پیش کریں۔ واضح رہے کہ گزشتہ پیر کو عدالت کے تیرہ رکنی بینچ نے انٹیلیجنس بیورو کو حکم دیا تھا کہ وہ جائزہ لیں کہ سپریم کورٹ کے چیمبرز، کمرہ عدالت اور دوسری جگہوں کو ’بگ‘ تو نہیں کیا گیا ہے۔ آج اٹارنی جنرل نے عدالت سے کہا کہ اس کام میں خاصا وقت لگتا ہے اس لیے انہیں دو ہفتے کا وقت دیا جائے، لیکن عدالت نے ان سے کہا کہ وہ یہ کام دو ہفتے کی بجائے ایک ہفتے میں مکمل کریں۔ |
اسی بارے میں ’چیف جسٹس کے خلاف بغاوت ہوئی‘21 June, 2007 | پاکستان ’مرضی کا فیصلہ نہیں لیا جا سکتا‘20 June, 2007 | پاکستان ’چیف جسٹس نے تب بھی سٹینڈ لیا‘19 June, 2007 | پاکستان ’عدالتیں غلطیوں کی تلافی کریں‘18 June, 2007 | پاکستان چیف جسٹس: بھانجے کےگھر پر ’حملہ‘17 June, 2007 | پاکستان یہ جدوجہد مثالی جدوجہد ہے: افتخار17 June, 2007 | پاکستان ’عدالت فوج جیسا رد عمل ظاہر کرے‘14 June, 2007 | پاکستان چیف جسٹس کے خلاف نیا ریفرنس10 June, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||