BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 July, 2007, 08:46 GMT 13:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تو پھر فیصلہ عوام سے کرا لیں‘

جسٹس خلیل الرحمن
دوسرے فریق کی کوئی بات سامنے آئی تو عدالت نے سختی سے نوٹس لیا ہے: جسٹس رمدے
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت کرنے والے فل کورٹ نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کو ان کے ایک مبینہ بیان کی وضاحت کرنے کے لیے منگل کو عدالت میں طلب کیا ہے۔

پیر کو صبح کے سیشن میں سپریم کورٹ کے فل بینچ نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سربراہ اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل منیر اے ملک سے کہا کہ وہ اپنے اس مبینہ بیان کی وضاحت کریں کہ’اگر اس مقدمے کا فیصلہ عوامی خواہشات کے مطابق نہیں ہوتا تو ہم عدالت کو جلا دیں گے۔‘


تیرہ رکنی فل کورٹ کے سربراہ خلیل الرحمان رمدے نے کہا کہ عدالت ان حالات میں کام نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ بات ہے تو پھر یہ عدالت مقدمہ نہیں سنے گی اور وکلاء (کو چاہیئے) کہ وہ اس مقدمے کا فیصلہ عوام کی عدالت سے کروا لیں۔

جسٹس رمدے نے کہا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نے اپنے مبینہ بیان میں کہا کہ اس مقدمے میں عوام تو اپنا فیصلہ دے چکے ہیں اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اب عوام کے چیف جسٹس (جسٹس آف دی پیپل) ہیں۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ ہمارے پاس تو ایسی کوئی اتھارٹی نہیں ہے کہ ہم ’عوام کے چیف جسٹس‘ کو بحال کر دیں۔

جسٹس رمدے نے کہا کہ (منیر اے ملک کے بیان) والا معاملہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔

 منیر اے ملک کے اس بیان سے تو لگتا ہے کہ عدالت پہلے آپ (وکلاء) سے پوچھ لے کیا آپ کو کیا فیصلہ پسند ہے ورنہ آپ عدالت کو جلا دیں گے۔
عدالت

عدالت نے چیف جسٹس کے دوسرے وکیل اعتزاز احسن کے رویے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم تمام آپ کے رویے کی قدر کرتے ہیں۔

چودھری اعتزاز احسن نے جب عدالت سے کہا کہ منیر اے ملک کا مذکورہ بیان سیاق و سباق کے بغیر شائع کیا گیا ہے تو جسٹس نواز عباسی نے کہا کہ یہ معاملہ یوں چھوڑ دیے جانے والا نہیں ہے۔

اس موقع پر جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے کہا کہ منیر اے ملک کے اس بیان سے تو لگتا ہے کہ عدالت پہلے آپ (وکلاء) سے پوچھ لے کہ آپ کو کیا فیصلہ پسند ہے ورنہ آپ عدالت کو جلا دیں گے۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ جب دوسرے فریق کی کوئی ایسی بات سامنے آئی تو عدالت نے اس کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے جسٹس رمدے نے یاد دلایا کہ عدالت نے سیکرٹری قانون اور اینٹیلیجنس بیورو کو (ایسے ہی معاملات) پر نوٹس جاری کر رکھے ہیں۔

منیر اے ملک کے مبینہ بیان کے بارے میں بحث سے قبل عدالت نے اینٹیلیجنس بیورو کو حکم دیا کہ وہ سپریم کورٹ کی عمارت میں خفیہ آلات نصب ہونے کے بارے میں اپنی رپورٹ ایک ہفتے کے اندر عدالت میں پیش کریں۔

واضح رہے کہ گزشتہ پیر کو عدالت کے تیرہ رکنی بینچ نے انٹیلیجنس بیورو کو حکم دیا تھا کہ وہ جائزہ لیں کہ سپریم کورٹ کے چیمبرز، کمرہ عدالت اور دوسری جگہوں کو ’بگ‘ تو نہیں کیا گیا ہے۔ آج اٹارنی جنرل نے عدالت سے کہا کہ اس کام میں خاصا وقت لگتا ہے اس لیے انہیں دو ہفتے کا وقت دیا جائے، لیکن عدالت نے ان سے کہا کہ وہ یہ کام دو ہفتے کی بجائے ایک ہفتے میں مکمل کریں۔

ملتان تیاریاںملتان تیار ہے
چیف جسٹس کی آمد کیلیے تیاریاں مکمل
فیصل آباد: تیاریاں
چیف جسٹس کے لیے وکلاء چشم براہ
جسٹس افتخار جسٹس کا بیانِ حلفی
جسٹس افتخار کے بیانِ حلفی کا مکمل متن
جواد ایس خواجہپاکستان اور عدلیہ
’عدلیہ کی آزادی کےلئے نیت صحیح ہو‘۔
 کیا سید شریف الدین پیرزادہ صدر مشرف کی کرسی بچا سکتے ہیں؟’آپ تو ڈرا رہے ہیں‘
حکومتی وکلاء اور ملائیشیا کی مثال
’جنگ‘ کس نے جیتی
’کراچی کی لڑائی سب ہی ہار گئے‘
نیشنل اسمبلینیشنل اسمبلی واچ
چیف جسٹس کا کراچی خطاب اور خدشات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد