BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 July, 2007, 17:23 GMT 22:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’قوم اس روشنی سے فائدہ اٹھائے‘
نواز شریف
انہوں نے اس جدوجہد میں شامل تمام لوگوں کو مبارک باد پیش کی
سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس افتخار چودھری کو بحال کرنے کے فیصلے پر پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ یہ پاکستانی عوام کے لیے روشنی کی ایک کرن ہے جس سے پوری قوم کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔

اس سلسلے میں بی بی سی اردو سروس کے عمر آفریدی نے نواز شریف سے فون پر بات چیت کی۔ نواز شریف نے کہا کہ ’یہ تاریخ ساز فیصلہ ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ جسٹس رمدے اور ان کی ٹیم مبارک باد کے مستحق ہیں‘۔

’میری نظر میں یہ مایوسی میں گھری ہوئی قوم کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔ اس فیصلے نے نظریۂ ضرورت کے نظریے کو دھچکا پہنچایا ہے اور یہ دھچکا لگنا بھی چاہیے تھا۔ اس نظریے سے چھٹکارا پانے کا یہ وقت ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اس جدوجہد میں شامل وکلاء، سول سوسائٹی، سیاسی پارٹیاں، عوام، میڈیا اور پریس بھی مبارک باد کے مستحق ہیں۔

انہوں نے جسٹس افتخار محمد چوہدری کی اس کوشش کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’انہوں نے ایک ڈکٹیٹر کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے ایک قانونی اور آئینی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا جو کہ جرات اور بہادری کا کام ہے۔‘

ایک اور سوال کے جواب میں میاں نواز شریف نے کہا کہ ’جنرل مشرف صاحب کے پاس اس منصب پر فائز رہنے کا کوئی قانونی ، اخلاقی اور آئینی جواز نہیں ہے۔ ان کے لیے سوائے مستعفی ہونے کے اب کوئی راستہ نہیں ہے۔‘

’اگر اس کے باوجود وہ ضد کرتے ہیں تو یہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی مخالفت ہوگا اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والی بات ہوگی، جسے قوم کا کوئی بھی فرد اب قبول نہیں کرے گا۔‘

وکلاء تحریک پر بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ اب حالات یکسر مختلف ہو گئے ہیں اور چیف جسٹس بحال ہو گئے ہیں۔ ایک جدوجہد کامیاب ہوئی ہے۔

جرات اور بہادری
 جسٹس افتخار محمد چودھری نے ایک ڈکٹیٹر کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے ایک قانونی اور آئینی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا جو کہ جرات اور بہادری کا کام ہے۔
میاں نواز شریف

انہوں نے کہا کہ عدالت نے جو یہ فیصلہ کیا ہے یہ صرف چیف جسٹس کی بحالی کا نہیں ہے۔ عدالت کا ریفرنس کو کلعدم قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ ’مشرف صاحب کے عزائم مکروہ تھے، سازش پر مبنی تھے اور ملک و قوم کے مفاد کے خلاف تھے‘۔ انہوں نے کہا کہ مشرف صاحب کا اقتدار سے چمٹے رہنا اسی قسم کے عزائم کے زمرے میں آتا ہے۔

میاں نواز شریف نے مزید کہا کہ آمریت کو شکست ہوئی ہے اور یہ جمہوری قوتوں کی فتح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’عدلیہ کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے اور اب عدلیہ کے کاندھوں پر یہ ذمہ داری بھی ہے کہ آئندہ شفاف انتخابات کی راہ ہموار ہو، آئندہ پاکستان کے اندر قانون اور آئین کی پابندی ہو، آئین کی بالا دستی ہو اور اگر آئندہ کوئی اپنے مکروہ عزائم کے لیے ایمرجنسی نافذ کرے تو عدلیہ اس ایمرجسنی کے آرڈر کو نکال کر باہر پھینکے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی وطن واپسی کی راہ میں جو رکاوٹیں تھی وہ دور ہو سکیں گی اور کیا اس سلسے میں وہ عدالت سے رجوع کرنا چاہیں گے، میاں نواز شریف نے کہا کہ ’وہ رکاوٹیں مشرف صاحب نے ڈالی ہوئی تھی اور وہ بندوق کے زور پر تھیں۔ اب عدلیہ کی آزادی سے روشنی کی نئی کرنیں کھلیں گی اور اس میں یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ پوری قوم اس روشنی سے فائدہ اٹھائے۔‘

نواز شریف اور بینظیرپی پی پی، نواز لیگ
پی پی پی (ن) لیگ کواعتراضات بتائے گی
بینظیر کی ’ڈیل‘
نواز شریف نے بینظیر پر شدید تنقید کی ہے
نواز شریفوہ وقت کب آئےگا؟
’جب سب متحد تو سیاستدان کیوں نہیں؟‘
اسی بارے میں
آل پارٹیز کانفرنس کی کوششیں
21 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد