BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 July, 2007, 17:17 GMT 22:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افتخار چودھری: عوامی چیف جسٹس

جسٹس افتخار
جسٹس افتخار کو تیس جون 2005 کوچیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا
جب جسٹس افتخار محمد چودھری چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر فائز ہوئے تو یہ ملک کی تاریخ کا کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں تھا۔

وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے بیسویں اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پہلے چیف جسٹس تھے۔

تاہم جب بیس جولائی کو سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی فل کورٹ بینچ نے انہیں اپنے عہدے پر بحال کیا تو وہ ممکنہ طور پر ملکی تاریخ کے سب سے مقبول چیف جسٹس بن گئے ہیں۔

ان کی بحالی سے نہ صرف پاکستان میں عدالتی آزادی کے تصور کو ایک نئی زندگی ملی ہے بلکہ وہ اس کی ایک زندہ علامت بن چکے ہیں۔ انہیں نو مارچ سن دو ہزار سات کو اپنے عہدے سے عملی طور پر معطل کر کے ان کے خلاف عدالتی بدعنوانی کا ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوایا گیا تھا۔

جس وقت ملک کے فوجی حکمران نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو عملی طور پر معطل کیا تھا تو انہیں بالکل یہ اندازہ نہیں ہوگا کہ ان کا اقدام ان کو عوام کی نظر میں ہیرو بنا دے گا۔

اس سے پہلے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے کے بعد افتخار محمد چودھری نے متعدد بار عوامی مفاد کے معاملات پر از خود نوٹس لیے تھے، تاہم عوامی چیف جسٹس بننے کی یہ کوششیں بار آور ثابت نہ ہو سکیں تھیں۔

تاہم جب نو مارچ سن دو ہزار سات کو انہوں نے حکومتی دباؤ کے تحت مستعفی ہونے سے انکار کر دیا تو وکلاء برادری اور عوام میں ان کا قد کئی گنا بڑھ گیا۔ بعد میں ان کی سربراہی میں وکلاء نے عدلیہ کی آزادی اور قانون کی بالادستی کے لیے ایک شاندار تحریک کا آغاز کیا جس کے نتیجہ ان کی بحالی کی صورت میں نکلا۔

انہیں تیس جون دو ہزار پانچ کو سپریم کورٹ آف پاکستان کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر انسٹھ سال ہے اور آئین میں ہونے والے ایک حالیہ ترمیم کے تحت انہوں نے پینسٹھ برس کی عمر میں سن دو ہزار تیرہ میں ریٹائر ہونا ہے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنی پیشہ وارانہ کیریئر کا آغاز سن انیس سو چوہتر میں ایک وکیل کی حیثیت سے کیا۔ سال انیس سو نواسی میں انہیں بلوچستان کا ایڈووکیٹ جنرل بنا دیا گیا اور اگلے ہی سال انہیں بلوچستان ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کر دیا گیا۔

سال انیس سو ترانوے میں انہیں بلوچستان ہائی کورٹ کا مستقل جج بنا دیا گیا۔ جسٹس افتخار چودھری بائیس اپریل سال انیس سو ننانوے کو بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے اور اگلے ہی سال چار فروری سال دو ہزار کو انہیں سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کی حیثیت سے ترقی دے دی گئی۔

سال دو ہزار پانچ کو جب انہیں ناظم حسین صدیقی کی جگہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا چیف جسٹس بنایا گیا تو وہ عدالتِ عظمیٰ کے بیسویں سربراہ بنے۔

اس سے پہلے جسٹس سر عبدالرشید، جسٹس محمد منیر، جسٹس محمد شہاب الدین، جسٹس اے آر کارنیلیئس، جسٹس ایس اے رحمان، جسٹس فضل اکبر، جسٹس حمودالرحمن، جسٹس یعقوب علی، جسٹس انوارالحق، جسٹس انوارالحق، جسٹس محمد افضل ظلہ، جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس اجمل میاں، جسٹس سعید الزمان صدیقی، جسٹس ارشاد حسن خان، جسٹس بشیر جہانگیری، جسٹس شیخ ریاض احمد، جسٹس ناظم حسین صدیقی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔

جسٹس افتخار (فائل فوٹو)چیف جسٹس کیس
اٹھارہ اپریل سے بیس جولائی تک کب کیا ہوا
اعتزاز احسنعدالت کا ماحول
’مائی لارڈ آئی ایم سیرئیس۔۔۔‘
’جج بنا دوں گا۔۔۔‘
عدالت میں دلچسپ اقوال سننے کو ملے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد