BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 July, 2007, 13:11 GMT 18:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فیصلے سے داخلی مسائل کم ہوں گے‘

بے نظیر
’وکلاء کو سلام پیش کرتی ہوں کہ انہوں نے ہمت نہیں ہاری‘
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما بینظیر بھٹو نے چیف جسٹس کی بحالی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما نواز شریف کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ پاکستانی عوام کے لیے روشنی کی ایک کرن ہے جس سے پوری قوم کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔

بے نظیر بھٹو نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اپنے فوری ردعمل میں انہوں نے کہا کہ اس سے پاکستان کے داخلی مسائل کم ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’عدلیہ کی آزادی کی اس مہم میں بہت سارے لوگ شہید ہوئے، بہت سارے وکلاء نے آنسو گیس کے گولے کھائے، ان پر ڈنڈے برسائے گئے میں وکلا کو سلام پیش کرتی ہوں کہ انہوں نے ہمت نہیں ہاری، ساتھ ساتھ میڈیا پھر بھی حملے ہوئے اور ان کی قربانیاں بھی رائیگاں نہیں گئیں‘۔

تاہم بےنظیر بھٹو نے کہا کہ جب تک وہ تفصیلی فیصلہ نہیں دیکھ لیتیں اس پر مزید کچھ نہیں کہہ سکتیں۔ پاکستان کی سابق وزیرِاعظم لندن میں انٹرنیشنل انسٹیٹوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز میں خطاب کر رہیں تھیں۔

اس موقع پر انہوں نے ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ پاکستان میں آمریت کے خاتمے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ضروری ہے پاکستان میں اس سال کے لیے طے عام انتخابات آزادانہ اور منصفانہ کرائے جائیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس افتخار چودھری کو بحال کرنے کے فیصلے پر بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ’یہ تاریخ ساز فیصلہ ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ جسٹس رمدے اور ان کی ٹیم مبارک باد کے مستحق ہیں‘۔

’میری نظر میں یہ مایوسی میں گھری ہوئی قوم کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔ اس فیصلے نے نظریۂ ضرورت کے نظریے کو دھچکا پہنچایا ہے اور یہ دھچکا لگنا بھی چاہیے تھا۔ اس نظریے سے چھٹکارا پانے کا یہ وقت ہے۔‘

’مشرف کے پاس سوائے مستعفی ہونے کے اب کوئی راستہ نہیں‘

انہوں نے کہا کہ اس جدوجہد میں شامل وکلاء، سول سوسائٹی، سیاسی پارٹیاں، عوام، میڈیا اور پریس بھی مبارک باد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے جسٹس افتخار محمد چوہدری کی اس کوشش کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’انہوں نے ایک ڈکٹیٹر کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے ایک قانونی اور آئینی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا جو کہ جرات اور بہادری کا کام ہے۔‘

ایک اور سوال کے جواب میں میاں نواز شریف نے کہا کہ ’جنرل مشرف صاحب کے پاس اس منصب پر فائز رہنے کا کوئی قانونی ، اخلاقی اور آئینی جواز نہیں ہے۔ ان کے لیے سوائے مستعفی ہونے کے اب کوئی راستہ نہیں ہے اور اگر اس کے باوجود وہ ضد کرتے ہیں تو یہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی مخالفت ہوگا اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والی بات ہوگی، جسے قوم کا کوئی بھی فرد اب قبول نہیں کرے گا۔‘

وکلاء تحریک پر بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ اب حالات یکسر مختلف ہوگئے ہیں اور چیف جسٹس بحال ہوگئے ہیں اور ایک جدوجہد کامیاب ہوئی ہے۔

جرات اور بہادری
 جسٹس افتخار محمد چودھری نے ایک ڈکٹیٹر کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے ایک قانونی اور آئینی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا جو کہ جرات اور بہادری کا کام ہے۔
میاں نواز شریف

انہوں نے کہا کہ عدالت نے جو یہ فیصلہ کیا ہے یہ صرف چیف جسٹس کی بحالی کا نہیں ہے۔ عدالت کی جانب سے ریفرنس کو کالعدم قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ ’مشرف صاحب کے عزائم مکروہ تھے، سازش پر مبنی تھے اور ملک و قوم کے مفاد کے خلاف تھے‘۔ انہوں نے کہا کہ مشرف صاحب کا اقتدار سے چمٹے رہنا اسی قسم کے عزائم کے زمرے میں آتا ہے۔

میاں نواز شریف نے مزید کہا کہ آمریت کو شکست ہوئی ہے اور یہ جمہوری قوتوں کی فتح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’عدلیہ کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے اور اب عدلیہ کے کاندھوں پر یہ ذمہ داری بھی ہے کہ آئندہ شفاف انتخابات کی راہ ہموار ہو، آئندہ پاکستان کے اندر قانون اور آئین کی پابندی ہو، آئین کی بالا دستی ہو اور اگر آئندہ کوئی اپنے مکروہ عزائم کے لیے ایمرجنسی نافذ کرے تو عدلیہ اس ایمرجسنی کے آرڈر کو نکال کر باہر پھینکے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی وطن واپسی کی راہ میں جو رکاوٹیں تھی وہ دور ہو سکیں گی اور کیا اس سلسے میں وہ عدالت سے رجوع کرنا چاہیں گے، میاں نواز شریف نے کہا کہ ’وہ رکاوٹیں مشرف صاحب نے ڈالی ہوئی تھی اور وہ بندوق کے زور پر تھیں۔ اب عدلیہ کی آزادی سے روشنی کی نئی کرنیں کھلیں گی اور اس میں یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ پوری قوم اس روشنی سے فائدہ اٹھائے‘۔

جسٹس افتخار (فائل فوٹو)چیف جسٹس کیس
’مقدمہ اگلےدو ہفتوں میں اختتام پذیرہوسکتا ہے‘
جسٹس خلیل الرحمن چیف جسٹس کیس
اگر فیصلہ آیا تو تاریخی ہوگا: سپریم کورٹ
جسٹس افتخار محمد چودھری حکومتی بیاناتِ حلفی
چیف جسٹس پر خفیہ اداروں کے الزامات
 کیا سید شریف الدین پیرزادہ صدر مشرف کی کرسی بچا سکتے ہیں؟’آپ تو ڈرا رہے ہیں‘
حکومتی وکلاء اور ملائیشیا کی مثال
موبائل’گو مشرف گو‘
صدر کے خلاف احتجاج ’موبائل‘ ہو گیا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد