’چیف جسٹس کیس: فیصلہ واضح ہو‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کے وکیل اعتزاز احسن نے تیرہ رکنی فل کورٹ سے کہا ہے کہ وہ ’درمیانی راستہ‘ نکالنے کی کوشش نہ کرے بلکہ ایک واضح فیصلہ کرے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس کو اگر بحال کیا جاتا ہے لیکن ان کے خلاف دائر ریفرنس ختم نہیں کیا جاتا تو ملک میں عدم استحکام کی صورتحال جاری رہے گی۔ چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ چیف جسٹس کی بحالی کے بعد بھی اگر ریفرنس جاری رہا تو وہ اپنی بےگناہی کو ثابت کرنے کے لیے صدر اور وزیر اعظم کو بطور گواہ طلب کریں گے اور اگر سپریم جوڈیشل کونسل نے انہیں طلب کرنے کی اجازت نہ دی تو چیف جسٹس کے پاس اس کے سِوا اور کوئی چارہ نہیں ہو گا کہ وہ پھر سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دائر کریں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت مسلسل بیالیس روز سے چیف جسٹس کی آئینی درخواست کو سن رہی ہے اور اسے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کو ختم کرنا چاہیے۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس کے خلاف دائر کیا جانے والا ریفرنس تمام برائیوں کی جڑ ہے اور یہ خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹوں پر دائر کیا گیا ہے۔ اعتزاز احسن نے عدالت سے درخواست کی کہ اگر انہیں آدھا گھنٹہ مزید دیا جائے تو وہ اپنے دلائل آج ہی ختم کر لیں گے۔ عدالت نے چیف جسٹس کے وکیل سے کہا کہ وہ اپنے جوابی دلائل جمعہ کو آدھ گھنٹے میں مکمل کر لیں، جس کے بعد عدالت فیصلے پر غور شروع کرے گی۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل کسی جج کے خلاف رپورٹ دے اور صدر اس جج کو ہٹانے سے پہلے وزیر اعظم سے مشورہ کرنا چاہتے ہوں تو اس دوران وہ (صدر) کسی جج کو معطل کر سکتے ہیں، لیکن ریفرنس ہونے کی بنیاد پر کسی جج کو معطل نہیں کیا جا سکتا۔ چیف جسٹس کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ وہ سپریم جوڈیشل کونسل کو ایسی طاقت دینے سےگریز کرے کہ وہ کسی جج کو کام کرنے سے روک سکے۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کو اپنے طور یہ طے کر لینا چاہیے کہ اگر کسی جج کے خلاف ریفرنس ہو جائے تو اسے کیا کرنا چاہیے، لیکن اس کو فیصلے کا حصہ نہیں بنانا چاہیے۔
جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے نے سماعت کے دوران کہا کہ اخبار نویس ان کی اسی بات کی ہیڈ لائن بناتے ہیں جس میں سپہ سالار کا ذکر ہو اور ہنستے ہوئے اعتزاز احسن کو کہا کہ وہ ان کی ڈرائیونگ کرنے کی بھی تیاری کر لیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر جسٹس خلیل الرحمن رمدے کے خلاف کچھ کارروائی ہوئی تو وہ ایک نئی گاڑی خریدیں گے۔ جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے نے اعتزاز احسن سے پوچھا ’ہم خبریں پڑھتے رہتے ہیں کہ آپ چھبیس گھنٹے کی ڈرائیونگ کے بعد فلاں شہر پہنچ گئے، چھتیس گھنٹے کی ڈرائیونگ میں وہاں پہنچے تو کیا آپ کی گاڑی میں ٹوائیلٹ کی بھی سہولت موجود ہے؟‘ اعتزاز احسن نے کہا عدالت کو شاید یقین نہ آئے لیکن یہ حقیت کہ جب چیف جسٹس پہلی مرتبہ بذریعہ روڈ اسلام آباد سے لاہور پہنچے تو چھبیس گھنٹے بعد ٹوائیلٹ ملا۔ مقدمے کی سماعت کل بھی جاری رہے گی۔ | اسی بارے میں ’کچھ معاملات پر ہونٹ سِلے ہیں‘18 July, 2007 | پاکستان ’فیصلہ بیس جولائی تک متوقع‘11 July, 2007 | پاکستان ’تو پھر فیصلہ عوام سے کرا لیں‘09 July, 2007 | پاکستان جسٹس کیس: ’اگلے دو ہفتے فیصلہ کن‘06 July, 2007 | پاکستان ’ایڈوائس وزیر اعظم ہی کی تھی‘04 July, 2007 | پاکستان ’سوال ہے احتساب کون کرے گا‘03 July, 2007 | پاکستان سپریم کورٹ میں حکومت کی معافی 02 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||