عدالت کا ماحول خوشگوار رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس کی آئینی درخواست کی سماعت کے دوران عدالت کے اندر ماحول زیادہ تر خوشگوار رہا اور کئی مواقع پر فل کورٹ بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے اور بینچ کے سامنے دلائل دینے والے وکلاء کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا۔ تاہم جمعہ کے روز عدالت کا ماحول انتہائی سنجیدہ تھا اور اس کا اثر بنچ اور بار دونوں پر نظر آیا۔ ایک موقع پر جب جسٹس رمدے نے چیف جسٹس کے جمعہ جب سپریم کورٹ کے فل کورٹ بینچ کے سامنے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت شروع ہوئی تو اس وقت وکلاء کی ایک بڑی تعداد عدالت میں موجود تھی۔ ان میں بڑی تعداد ملک کی مختلف بار ایسوسی ایشنوں کے نمائندوں کی تھی جو سپریم کورٹ کا فیصلہ سننے کے لیے وفاقی دارالحکومت آئی تھی۔ سماعت ختم ہونے کے بعد کیے گئے وقفے میں کئی نوجوان وکلاء کو چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن سے آٹوگراف لیتے دیکھا گیا۔
عدالت ہجوم کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ساڑھے نو بجے عدالتی کارروائی شروع ہونے سے بہت پہلے ہی سپریم کورٹ کے احاطے میں موجود پارکنگ ایریا بھر چکا تھا اور اس میں مزید گاڑی کھڑی کرنے کی جگہ نہیں تھی۔ ملک بھر میں امن و امان کی خراب صورتِ حال کے پیش نظر سپریم کورٹ میں سکیورٹی انتہائی سخت تھی اور عدالت کے احاطے میں داخل ہونے والے ہر شخص کی میٹل ڈیٹیکٹر اور سکینرز سے چیکنگ کی تھی۔ ملک کی سیاسی صورت حال میں چیف جسٹس کے مقدمے کی اہمیت کے پیشِ نظر سپریم کورٹ کے فیصلے میں ذرائع ابلاغ کی زبردست دلچسپی دیکھی گئی۔ جہاں عدالت کے اندر ملکی اور غیر ملکی میڈیا ے نمائندوں کی بڑی تعداد میں موجودگی دیکھی گئی وہیں عدالت کے باہر لگائے گئے کیمروں کی تعداد بھی عام دنوں کی نسبت کہیں زیادہ تھی۔ فیصلے کے بارے میں براہِ راست نشریات کے لیے کئی نشریاتی اداروں کی او بی وینیں سپریم کورٹ کی عمارت اور پرائم منسٹر سیکریٹیریٹ کے درمیان واقع خالی جگہ پر گھڑی نظر آ رہی تھیں۔ | اسی بارے میں جسٹس کیس: سماعت ختم، فیصلے کا انتظار20 July, 2007 | پاکستان فیصلہ واضح ہونا چاہیے: اعتزاز19 July, 2007 | پاکستان ’کچھ معاملات پر ہونٹ سِلے ہیں‘18 July, 2007 | پاکستان جوڈیشل کونسل بدل سکتی ہے: قیوم12 July, 2007 | پاکستان ’ایڈوائس وزیر اعظم ہی کی تھی‘04 July, 2007 | پاکستان غیر موزوں عدالتی رویہ، الزام واپس 16 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||