BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 July, 2007, 11:33 GMT 16:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عدالت کا ماحول خوشگوار رہا

جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے
نواز شریف اسمبلی کیس کے بعد غالباً یہ پہلا موقعہ تھا کہ کسی فیصلے میں اتنی دلچسپی دیکھی جا رہی تھی۔
چیف جسٹس کی آئینی درخواست کی سماعت کے دوران عدالت کے اندر ماحول زیادہ تر خوشگوار رہا اور کئی مواقع پر فل کورٹ بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے اور بینچ کے سامنے دلائل دینے والے وکلاء کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا۔

تاہم جمعہ کے روز عدالت کا ماحول انتہائی سنجیدہ تھا اور اس کا اثر بنچ اور بار دونوں پر نظر آیا۔ ایک موقع پر جب جسٹس رمدے نے چیف جسٹس کے
وکیل اعتزاز احسن کو چھیڑنا چاہا تو وہ بھی ماحول کی سنجیدگی کے زیر اثر نظر آئے اور کہا کہ ’مائی لارڈ آئی ایم سیریس‘۔

جمعہ جب سپریم کورٹ کے فل کورٹ بینچ کے سامنے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت شروع ہوئی تو اس وقت وکلاء کی ایک بڑی تعداد عدالت میں موجود تھی۔ ان میں بڑی تعداد ملک کی مختلف بار ایسوسی ایشنوں کے نمائندوں کی تھی جو سپریم کورٹ کا فیصلہ سننے کے لیے وفاقی دارالحکومت آئی تھی۔ سماعت ختم ہونے کے بعد کیے گئے وقفے میں کئی نوجوان وکلاء کو چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن سے آٹوگراف لیتے دیکھا گیا۔

سکیورٹی
 سپریم کورٹ کے فیصلے میں ذرائع ابلاغ کی زبردست دلچسپی دیکھی گئی۔ جہاں عدالت کے اندر ملکی اور غیر ملکی میڈیا ے نمائندوں کی بڑی تعداد میں موجود دیکھی گئی وہیں عدالت کے باہر لگائے گئے کیمروں کی تعداد بھی عام دنوں کی نسبت کہیں زیادہ تھی۔
اگرچہ سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس کی سماعت کی طرح سپریم کورٹ کے سامنے سیاسی مجمع تو نہیں تھا لیکن عام شہریوں کی ایک اچھی خاصی تعداد عدالت میں موجود تھی۔ نواز شریف اسمبلی کیس کے بعد غالباً یہ پہلا موقعہ تھا کہ سپریم کورٹ کے کسی فیصلے میں عوامی سطح پر اتنی دلچسپی دیکھی جا رہی تھی۔

عدالت ہجوم کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ساڑھے نو بجے عدالتی کارروائی شروع ہونے سے بہت پہلے ہی سپریم کورٹ کے احاطے میں موجود پارکنگ ایریا بھر چکا تھا اور اس میں مزید گاڑی کھڑی کرنے کی جگہ نہیں تھی۔

ملک بھر میں امن و امان کی خراب صورتِ حال کے پیش نظر سپریم کورٹ میں سکیورٹی انتہائی سخت تھی اور عدالت کے احاطے میں داخل ہونے والے ہر شخص کی میٹل ڈیٹیکٹر اور سکینرز سے چیکنگ کی تھی۔

ملک کی سیاسی صورت حال میں چیف جسٹس کے مقدمے کی اہمیت کے پیشِ نظر سپریم کورٹ کے فیصلے میں ذرائع ابلاغ کی زبردست دلچسپی دیکھی گئی۔ جہاں عدالت کے اندر ملکی اور غیر ملکی میڈیا ے نمائندوں کی بڑی تعداد میں موجودگی دیکھی گئی وہیں عدالت کے باہر لگائے گئے کیمروں کی تعداد بھی عام دنوں کی نسبت کہیں زیادہ تھی۔ فیصلے کے بارے میں براہِ راست نشریات کے لیے کئی نشریاتی اداروں کی او بی وینیں سپریم کورٹ کی عمارت اور پرائم منسٹر سیکریٹیریٹ کے درمیان واقع خالی جگہ پر گھڑی نظر آ رہی تھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد