جسٹس کیس: سماعت ختم، فیصلے کا انتظار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے فل بنچ نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کی صدر جنرل پرویز مشرف اور وفاقی حکومت کے خلاف آئینی درخواست کی سماعت مکمل کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ فیصلہ آج ہی سنایا جائے گا۔ ابتداء میں وقت کا تعین نہیں کیا گیا تھا لیکن بعد میں ایک اہلکار نے کمرہ عدالت میں آ کر اعلان کیا کہ فل کورٹ اپنا فیصلہ پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر دو بجے کے بعد سنائے گا۔ سپریم کورٹ کی گیلری وکلاء اور صحافیوں سے کھچا کچھ بھری ہوئی ہے جب کہ باہر بھی سینکڑوں کی تعداد میں وکلاء اکٹھے ہیں۔ تاہم چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن اور وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم اپنی اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر سپریم کورٹ سے روانہ ہوچکے ہیں۔ جمعہ کو مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے اپنے جوابی دلائل مکمل کیے۔ دلائل کے دوران اعتزاز احسن نے حکومتی وکیل سید شریف الدین پیرزاد کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بینچ میں شامل ججوں کو یہ دیکھنا چاہیے کہ چیف جسٹس کو غیر فعال بنائے جانے پر انہوں نے کیا کیا تھا۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ شاید سید شریف الدین پیرزادہ نے ٹھیک ہی کہا تھا، اگر اور کچھ نہیں تو چار دن جج بینچ پر نہ بیٹھتے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے۔ اس بات پر تیرہ رکنی فل کورٹ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے برہم ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم کوئی ٹریڈ یونین نہیں کہ احتجاج کرتے پھریں۔
جسٹس رمدے نے اعتزاز احسن کے بیان کہ بینچ کے فیصلے سے فتح اور شکست کا تعین ہو گا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی فرد کی فتح یا شکست نہیں بلکہ پورے ملک کی فتح یا شکست ہو گی۔ فل کورٹ کے سربراہ نے نام لیے بغیر حکمراں جماعت کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اس بیان کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیا جس میں انہوں نے عدالتی بحران کو عدلیہ اور فوج کی لڑائی قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں اداروں کے درمیان کوئی ٹکراؤ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کا کردار ایک ڈاکٹر کی طرح ہوتا ہے جو مریض کو راحت فراہم کرتا ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے نو مارچ کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگاتے ہوئے ایک ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کیا اور انہیں کام کرنےسے روک دیا تھا۔ پندرہ مارچ کو صدر نے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجنے کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا۔ چیف جسٹس نے سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے ایک درجن سے زیادہ مرتبہ پیش ہونے کے بعد سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی جس کی سماعت کے لیے پہلے پانچ رکنی اور بعد میں حکومتی اعتراض پر تیرہ رکنی فل کورٹ تشکیل دی گئی۔ چیف جسٹس نے اپنی آئینی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ان کےخلاف صدارتی ریفرنس بدنیتی کی بنیاد پر دائر کیا گیا ہے، چنانچہ عدالت اسے ختم کر دے۔
جسٹس افتخار محمد چودھری کا موقف تھا کہ چیف جسٹس کی ملک میں موجودگی کی صورت میں قائم مقام چیف جسٹس تعینات نہیں کیا جا سکتا۔ فل کورٹ نے چودہ مئی سے مقدمے کی سماعت شروع کی جو مسلسل بیالیس روز تک جاری رہی۔ چیف جسٹس کی طرف سے بیرسٹر اعتزاز احسن نے دلائل دیئے جبکہ وفاقی حکومت نے تیرہ وکلاء کی خدمات حاصل کیں۔ صدر پرویز مشرف کی طرف سے سینئر وکیل سید شریف الدین پیرزادہ فل کورٹ کے سامنے پیش ہوئے اور انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے مؤکل کو فریقین کی فہرست سے خارج کیا جائے۔ عدالت نے چیف جسٹس کے وکلاء اور تئیس دوسرے درخواست گزاروں کی پیٹشن کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل سننے کے بعد فیصلہ کیا کہ وہ چیف جسٹس کی آئینی درخواست کی باقاعدہ سماعت کرے گی جبکہ باقی درخواستوں کا فیصلہ چیف جسٹس کی درخواست کے فیصلے کی روشنی میں کر دیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ انہیں سپریم جوڈیشل کونسل کے تین ارکان جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس افتخار حسین چودھری سے انصاف کی توقع نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے اپنے حلفیہ بیان میں کہا تھا کہ صدر مشرف نے انہیں نو مارچ کو راولپنڈی میں واقع چیف آف آرمی سٹاف ہاؤس میں بلا کر استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا اور جب انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو انہیں پانچ گھنٹوں کے لیے ’آرمی ہاؤس‘ میں نظر بند رکھا گیا۔
چیف جسٹس پہلی مرتبہ تیرہ مارچ کو سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہوئے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہونے کے لیے جب چیف جسٹس نے پیدل سپریم کورٹ پہنچنا چاہا تو اسلام آباد پولیس نے انہیں زبردستی گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کی اور اسی دوران چیف جسٹس کے ساتھ بد سلوکی کا واقعہ پیش آیا۔ چیف جسٹس کے خلاف کارروائی پر وکلاء اور عوام کے شدید رد عمل کے بعد مختلف ٹی وی انٹرویوز صدر مشرف نے موقف اختیار کیا کہ ان کے چیف جسٹس کے ساتھ خوشگوار مراسم تھے اور ان کے خلاف ریفرنس وزیر اعظم شوکت عزیز کے مشورے پر دائر کیا گیا ہے، کیونکہ وہ آئینی طور پر وزیراعظم کا مشورہ ماننے کے پابند ہیں۔ سپریم کورٹ کا تیرہ رکنی فل کورٹ جسٹس خلیل الرحمن رمدے، جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس شاکر اللہ جان، جسٹس ایم جاوید بٹر، جسٹس تصدق حسین جیلانی، جسٹس سعید اشہد، جسٹس ناصر الملک، جسٹس راجہ فیاض احمد، جسٹس چودھری اعجاز احمد، جسٹس سید جمشید علی، جسٹس حامد علی مرزا اور جسٹس غلام ربانی پر مشتمل تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||