BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 July, 2007, 12:50 GMT 17:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فیصلہ من و عن قبول ہے: حکومت

شوکت عزیز
’اب چیف جسٹس کی راہ میں نئے روڑے نہیں اٹکائیں گے نہیں‘
وزیراعظم شوکت عزیز کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت جیت یا ہار کے دعویٰ کرنے کا نہیں۔

عدالتی فیصلے کے فوری بعد جاری کیئے گئے ایک بیان میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان کا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ عدالت کا فیصلہ سب کو تسلیم کرنا چاہیے۔ ’آئین اور قانون ہمیشہ فعال رہنے چاہیں۔‘

ادھر وفاقی وزیر قانون وصی ظفر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کا چیف جسٹس کے خلاف کوئی نیا ریفرنس لانے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں۔ تاہم اس بابت کوئی قدم تفصیلی فیصلہ دیکھنے کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں جس کے تحت افتخار محمد چودھری اب چیف جسٹس ہیں۔ ’یہ عدلیہ کی اپنی دانشمندی ہے۔ صدر، وزیر اعظم اور حکومتی اہلکار آغاز سے کہہ رہے تھے کہ وہ عدالتی فیصلے کا من و عن تسلیم کریں گے۔ ہم اس میں کو کوئی نئی بات نہیں کریں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ اب چیف جسٹس کی راہ میں کوئی نئے روڑے نہیں اٹکائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد