فیصلہ من و عن قبول ہے: حکومت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعظم شوکت عزیز کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت جیت یا ہار کے دعویٰ کرنے کا نہیں۔ عدالتی فیصلے کے فوری بعد جاری کیئے گئے ایک بیان میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان کا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ عدالت کا فیصلہ سب کو تسلیم کرنا چاہیے۔ ’آئین اور قانون ہمیشہ فعال رہنے چاہیں۔‘ ادھر وفاقی وزیر قانون وصی ظفر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کا چیف جسٹس کے خلاف کوئی نیا ریفرنس لانے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں۔ تاہم اس بابت کوئی قدم تفصیلی فیصلہ دیکھنے کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں جس کے تحت افتخار محمد چودھری اب چیف جسٹس ہیں۔ ’یہ عدلیہ کی اپنی دانشمندی ہے۔ صدر، وزیر اعظم اور حکومتی اہلکار آغاز سے کہہ رہے تھے کہ وہ عدالتی فیصلے کا من و عن تسلیم کریں گے۔ ہم اس میں کو کوئی نئی بات نہیں کریں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ اب چیف جسٹس کی راہ میں کوئی نئے روڑے نہیں اٹکائیں گے۔ | اسی بارے میں چیف جسٹس کیس: صدارتی ریفرنس کالعدم، جسٹس افتخار بحال20 July, 2007 | پاکستان عدالت کا ماحول خوشگوار رہا20 July, 2007 | پاکستان اہم اقوال: ’ شرات کروگے تو جج بنادوں گا۔۔۔‘20 July, 2007 | پاکستان فیصلہ واضح ہونا چاہیے: اعتزاز19 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||