پاکستان بھر کے وکلاء کا یومِ تشکر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان بھر کے وکلاء نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی پر سنیچر کو یوم ِ تشکر منایا اور اس حوالے سے ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے جلسے منعقد کیے گئے اور جلوس نکالے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل کورٹ بنچ نے جمعہ کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف صدارتی ریفرنس کو اکثریتی فیصلے میں کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں متفقہ طور پر بحال کر دیا تھا۔ لاہور سے بی بی سی اردو کے نمائندے عباد الحق کے مطابق یوم ِ تشکر کے حوالے سے پنجاب بھر کی بار ایسوسی ایشنوں میں اجلاس منعقد کیے گئے جن میں وکلاء کی تحریک کی کامیابی پر اظہار تشکر کیا گیا۔ لاہور میں وکلاء نے ڈسٹرکٹ بار کونسل سے ایک جلوس نکالا جو مال روڈ سے ہوتا ہوا ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی عمارت میں پہنچا۔ جلوس کے دوران وکلاء ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا ڈالتے رہے اور چیف جسٹس کی بحالی پر نعرے بازی بھی جاری رہی۔ جلوس کے ہائیکورٹ بار پہنچنے پر بار کے ممبران نے عمارت سے باہر آ کر جلوس کا استقبال کیا۔ جلوس میں شامل کچھ وکلاء نے پگڑیاں بھی باندھی ہوئی تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے اس فیصلے سے ان کی عزت بحال ہوئی ہے اور یہ پگڑیاں اس بحالی کی علامت ہیں۔ جلوس میں شامل وکلاء نے اس موقع پر لاہور میں ایوانِ عدل پر تین دن تک چراغاں کرنے کا بھی اعلان کیا جبکہ تحریک کی کامیابی پر شکرانے کے نوافل بھی ادا کیے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بیس جولائی کو’یوم آزادی عدلیہ‘ قرار دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ وکلا آئندہ سے ہر سال اس دن کو منائیں گے۔
جلوس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ ان کی جدوجہد آمریت کے خاتمے اور جمہوریت کی بالا دستی تک جاری رہے گی۔مقررین نے یہ بھی کہا کہ وکلاء عوام کو ان کی منزل تک پہنچا کر دم لیں گے اور عدالت کے اس فیصلے سے فوج کے خوف کا ’بیرئر‘ عبور کر لیا گیا ہے۔ ادھر سپریم کورٹ بار کے نائب صدر صاحبزادہ انور حمید اور سیکرٹری ذوالفقار بخاری نے ایک مشترکہ اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی ملک میں جمہوریت کی طرف پہلا قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلاء تحریک کی مخالفت کرنے والے وکلاء کو معاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہ ’قومی مجرم‘ہیں اور ان کی معافی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ صاحبزادہ انور حمید نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ وکلاء تحریک کے دوران مستعفی ہونے والے ججوں کے معاملہ کا ازخود نوٹس لے اور ان کو عہدوں پر بحال کیا جائے۔ کراچی بی بی سی اردو کے ریاض سہیل کے مطابق جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی پر کراچی بار ایسو سی ایشن کی جانب سے وکلاء نے نوافلِ شکرانہ ادا کیے اور جنرل باڈی کے اجلاس میں سپریم کورٹ فل بینچ کے فیصلے کو سراہا۔ اس موقع پر سندھ ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر ابرار حسن کا کہنا تھا کہ’یہ عدلیہ اور تاریخ کا ی بڑا دن ہے آج وکلا اور عوام کی فتح ہوئی ہے‘۔ ن کا کہنا تھا کہ چار ماہ قبل وکلا نے جو تحریک چلائی تھی اس میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ یومِ تشکر کے موقع پر کراچی بار کےصدر افتخار جاوید قاضی نے کہا کہ اس عدالتی فیصلے کے بہت دور رس نتائج نکلیں گے اور یہ عدلیہ کی آزادی کی طرف پہلا قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلاء تنظیموں کا احتجاج ختم ہوگیا ہے مگر وکلاء عدلیہ کی آزادی کے لیے اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وکلا تنظیمیں یہ چاہتی ہیں کہ عدلیہ کا اپنا بجٹ اور اپنے فنڈز ہوں اور یہ انتظامیہ کی محتاج نہ ہو۔
وکلاء کے یومِ تشکر کے موقع پر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی کے خلاف سراپا احتجاج سیاسی جماعتیں ان کی بحالی پر بیان بازی کی حد تک محدود رہی ہیں۔ کراچی میں صرف تحریک انصاف کی جانب سے گزشتہ روز ریلی نکالی گئی جس میں تنظیم کے صوبائی صدر زبیر خان کا کہنا تھا کہ پاکستان ساٹھ سے پہلے آزاد ہوا تھا مگر آج ساٹھ سال بعد اسے حقیقی آزادی ملی ہے، اس فیصلے کے بعد جمہوریت کی بحالی کی راہ ہموار ہوگی اور آئندہ کوئی ڈکٹیٹر اقتدار پر قابض نہیں ہوگا۔ پشاور بی بی سی اردو کے رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق یومِ تشکر کے موقع پر پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی عمارت میں جشن کا سا سماں تھا اور ملک کے دیگر حصوں کی طرح صوبہ سرحد کے وکلاء نے بھی چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی پر جلوس اور ریلیاں نکال کر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ پشاور میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی وکلاء کے اس یومِ تشکر میں شریک ہیں اور سیاسی جماعتوں کے جلوس بھی وکلاء کے جلوس کا ساتھ دینے کے لیے پشاور ہائی کورٹ کی عمارت میں پہنچے۔ کوئٹہ
کوئٹہ میں ڈسٹرکٹ بار روم سے بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ایک ریلی نکالی گئی جس کی قیادت ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہادی شکیل ایڈووکیٹ، بلوچستان بار کے نائب صدر صابر جمیل ایڈووکیٹ ، ملک سمندر خان کاسی ایڈووکیٹ اور دیگر سینئر وکلاء کر رہے تھے۔ ریلی شارع اقبال، شارع لیاقت، پرنس روڈاور جناح روڈ سے ہوتی ہوئی واپس ڈسٹرکٹ کورٹ پر اختتام پذیر ہوئی جہاں وکلاءنے مٹھائی تقسیم کی اور جشن منایا۔ ریلی کے شرکاءنے تمام راستے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور عدلیہ کی آزادی کے حق میں جبکہ صدر جنرل پرویز مشرف اور آمریت کےخلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے اس بات کا عہد کیا کہ وکلاء کی تحریک عدلیہ کی آزادی کو عملی جامہ پہنانے اور جمہوریت کی بحالی تک جاری رہے گی۔ مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف اور عدلیہ کی آزادی و وکلاءکی تحریک کے حق میں نعرے درج تھے۔ اس کےعلاوہ پشین، لورالائی، ژوب، زیارت، مستونگ، سبی، نصیرآباد، جعفرآباد، خضدار، نوشکی، قلات، خاران، گوادر، تربت، پنجگوراور حب سمیت دیگر شہروں میں بھی وکلاءنے چیف جسٹس کی بحالی پر یوم تشکر منایا اور تحریک کی کامیابی پر شکرانے کے نوافل بھی ادا کیے۔ اس سلسلے میں امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا ہے کہ ہر فرد کی عدل و انصاف تک رسائی کےلیے عدلیہ کی آزادی کی مسلمہ ہےآ ان کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر قوم نے عدلیہ کی آزادی کے لیے وکلاء کا ساتھ دے کر عدل کا راستہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ انصاف کی فراہمی اور ظلم و جبر کے نظام کے خاتمہ کےلیے جدوجہد جاری رکھے اور وکلاء ملک میں ماروائے قانون قتل اور ایجنسیوں کی جانب سے اغواء کیے گئے افراد کی بازیابی اور فوج کو بیرکوں میں واپس بھجوانے کےلیے جدوجہد میں اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں، فوج کے جوان اپنی عوام کے خلاف ناجائز بندوق اٹھانے سے گریز کریں۔ ادھر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد جمعہ کی شام پہلا حکم جاری کرتے ہوئے ایڈیشنل رجسٹرار محمد علی کی جگہ ڈاکٹر فقیر محمد کھوکھر کو تعینات کیا ہے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر فقیر محمد کھوکھر نو مارچ کو چیف جسٹس کی معطلی سے پہلے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے عہدے پر فائز تھے۔ |
اسی بارے میں ریفرنس کالعدم، جسٹس افتخار بحال20 July, 2007 | پاکستان پنجاب بھر میں ہفتے کو یوم تشکر20 July, 2007 | پاکستان وکلاء کا احتجاج تحریک بن گیا20 July, 2007 | پاکستان ’کچھ معاملات پر ہونٹ سِلے ہیں‘18 July, 2007 | پاکستان یومِ سوگ، عدالتوں کا بائیکاٹ17 July, 2007 | پاکستان ’فیصلہ بیس جولائی تک متوقع‘11 July, 2007 | پاکستان ’تو پھر فیصلہ عوام سے کرا لیں‘09 July, 2007 | پاکستان ’ایڈوائس وزیر اعظم ہی کی تھی‘04 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||