مظہر زیدی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن |  |
گجرات کے ایک سیاسی گھرانے کی تیسری نسل کے نمائندہ، چوہدری اعتزاز احسن پچھلی تقریباً چار دہائیوں سے سیاست میں ہیں، نامور وکیل ہیں، لکھاری ہیں، کرکٹ بھی کھیلتے ہیں اور اچھی خاصی شاعری بھی کرلیتے ہیں۔ لیکن سب سے بڑھ کر اعتزاز احسن اس وقت ملک کے معتبر ترین سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ہمیشہ پیپلز پارٹی میں رہے اور ضیا دور میں کئی مرتبہ جیل گئے ، قلعے میں بھی قید کاٹی۔انسانی حقوق کمیشن کے بانیوں میں سے ایک ، اعتزاز احسن نے ایچی سن ، گورنمنٹ کالج اور کیمبریج میں تعلیم حاصل کی۔ دو مرتبہ وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں اور پیپلز پارٹی کے دوسرے دور میں سینیٹ میں لیڈر آف دی ہاؤس رہے اور بعد میں لیڈر آف دی اپوزیشن بنے۔ بے نظیر بھٹو کے بعد میاں نواز شریف کی وکالت کر کے بیرسٹر اعتزاز کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ انہوں نے ملک کے دو وزرا اعظم کا عدالت میں دفاع کیا ہے۔ چیف جسٹس کی ابتدائی معطلی کے بعد پہلے دن سے افتخار محمد چوہدری کے ساتھ ہیں۔
بمبئی یونیورسٹی سے 1945 میں لا گریجویٹ ، جناح کے اعزازی سیکریٹری ، پاکستان بننے کے بعد تین مختلف ادوار میں اٹارنی جنرل اور کئی مرتبہ وزیر رہنے والے سید شریف الدین پیرزادہ کی سب سے بڑی وجہِ شہرت پاکستان کی تاریخ کے ہر فوجی حکمران کے لئے اقتدار پر قابض رہنے کا قانونی جواز فراہم کرنا ہی ہے۔وہ پاکستان کے سب سے تجربہ کار وکیل اور آئینی ماہر مانے جاتے ہیں اور جنرل ایوب سے لے کر جنرل مشرف تک ہر فوجی دور میں انہیں اہم مقام حاصل رہا۔ انہیں اب بھی اعزازی سینئیر وفاقی وزیر کا سٹیٹس حاصل ہے۔ محمد علی جناح کی زندگی اور پاکستانی آئین پر کئی کتابوں کے مصنف، شریف الدین پیرزادہ کو نشانِ امتیاز کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ پچاسی سالہ پیرزادہ ، چیف جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف موجودہ کیس میں ابتدا میں تکنیکی بنیادوں پر حکومت کی نمائندگی نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن جنرل مشرف سے ایک ملاقات کے بعد انہوں نے اپنا ارادہ تبدیل کردیا۔
نصیر آباد ڈسٹرکٹ لاڑکانہ کے ہندو محلے میں رانا جیتومل پرتھیانی کے ہاں جنم لینے والے، رانا بھگوان داس نے 1965 میں بار جوائن کرنے کے صرف دو سال بعد پاکستان کے عدالتی نظام میں سروس کا فیصلہ کیا اور سیشن کورٹس میں کام کرنے کے بعد 1994 میں سندھ ہائی کورٹ میں ایلیویٹ کردئے گئے، ان کی تقرری کو مذہبی بنیادوں پر چیلنج بھی کیا گیا لیکن اُس پٹیشن کو رد کردیا گیا اور ججوں اور وکلا نے اس پٹیشن کی مذمت بھی کی۔ سن 2000 میں پی سی او پر حلف اٹھانے کے بعد سپریم کورٹ کے جج بنے۔ اسلامیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل ہے، کاروکاری کے سخت مخالف ہیں اوردیگر سماجی معاملات پر سؤ موٹو ایکشن بھی لے چکے ہیں۔ موجودہ عدالتی بحران کے آغاز پر جب چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری اپنے گھر میں محصور تھے تو جسٹس بھگوان داس لکھنؤ میں نیلو بھگوان کے جاگرن ستسنگ یا مذہبی اجلاس میں شرکت کررہے تھے۔ خاموش طبع ہیں اور سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ انڈیا سے واپسی پر حلف اٹھایا اور پاکستان کے پہلے ہندو قائم مقام چیف جسٹس بنے۔
مرحوم جسٹس محمد صدیقی کے تیسرے بیٹے ، جسٹس رمدے نے لاہور سے 1969 میں لور کورٹس سے وکالت کا آغاز کیا اور پھر 1971 میں ہائی کورٹ اور 1976 میں سپریم کورٹ میں وکالت کی۔ اسی سال انہیں پنجاب میں اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل لگا دیا گیا اور پھر 1984 میں ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بن گئے اور پھر 1987 میں پنجاب کے ایڈوکیٹ جنرل تعینات کئے گئے۔ 1988 میں لاہور ہائی کورٹ میں جج لگا دئیے گئے اور پھر 2002 میں سپریم کورٹ کے جج بنے۔ جوانی میں ٹینس کھیلا کرتے تھے اور اردو اور انگریزی زبانوں کے اچھے مقرر بھی مانے جاتے تھے۔ ان کے بھائی اسد رحمٰن، میاں نواز شریف کے دور میں وزیر بھی رہ چکے ہیں اور دوسرے بھائی چوہدری محمد فاروق ، اٹارنی جنرل رہ چکے ہیں۔ اب تک اپنی پرانی یونیورسٹی آف پنجاب کے علاوہ نیشنل ڈیفینس کالج میں بھی لیکچر دینے جاتے ہیں۔
| جسٹس ریٹائرڈ ملک محمد قیوم |
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس قیوم سب سے پہلے اس وقت منظر عام پر آئے جب ایک متنازعہ فیصلہ میں انہوں نے کوٹیکنا کیس میں سابق وزیرا عظم بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کے خلاف فیصلہ سنایا۔فیصلہ کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ نے جسٹس قیوم کو متعصب جج قرار دیا اور انہیں لاہور ہائی کورٹ سے استعفٰی دینا پڑا۔ ہائی کورٹ سے فراغت کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ میں وکالت شروع کی اور مسلم لیگ کے حامی وکلا کی حمایت سے بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی بنے اور وکلا کی کسی بھی تنظیم کے وہ پہلے عہدیدار ٹھہرے جنہوں نے جنرل مشرف سے ملاقات کی اور تنظیم کے لئے فنڈز بھی حاصل کئے۔ جسٹس قیوم کی دوسری وجہِ شہرت کرکٹ میں میچ فکسنگ کے عدالتی تحقیقاتی کمیشن کے اس فیصلے سے ہوئی جس کے نتیجے میں ملک کے کئی نامور کھلاڑی سٹے بازی میں ملوث قرار پائے اور سلیم ملک اور عطا الحمٰن پر تاحیات پابندی بھی عائد ہوئی۔ چیف جسٹس کے خلاف سرکاری وکیل بننے سے پہلے ملک قیوم ، افتخار محمد چوہدری کو بہترین چیف جسٹس بھی قرار دے چکے ہیں۔
لاہور کے نرم گفتار اور نامور وکیل جو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے علاوہ کئی وکلا تنظیموں کی سربراہی کرچکے ہیں، اپنی جمہوریت دوستی اور ایکٹیو ازم کے لئے مشہور ہیں۔جنرل مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے ایک کیس کی سماعت میں بار کی طرف سے یہ بیان بھی دائر کیا تھا کہ بار کے مطابق موجودہ حالات میں سپریم کورٹ آزاد نہیں ہے۔ وہ ایک وقت میں عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کے نائب صدر بھی رہ چکے ہیں لیکن بعد میں وہ اس پارٹی میں اتنے متحرک نہ رہے۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف کارروائی کے بعد سے اس سارے معاملے میں وکلا کو متحرک کرنے میں ان کا مرکزی کردار رہا اور وکلا کی تحریک کو ملک گیر بنانے میں انہوں نے بہت محنت کی۔ |