بحالی کا فیصلہ، قابلِ احترام: صدر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فل بنچ کی جانب سے چیف جسٹس کی بحالی کے فیصلے کو مکمل طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق صدرِ مملکت کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’صدر سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں‘۔ ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ’ صدر پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ دے گی وہ قابلِ احترام اور قابلِ عزت ہو گا‘۔ اس سے قبل جمعہ کو وزیراعظم شوکت عزیز نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت جیت یا ہار کے دعویٰ کرنے کا نہیں۔ عدالتی فیصلے کے فوری بعد جاری کیےگئے ایک بیان میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان کا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ عدالت کا فیصلہ سب کو تسلیم کرنا چاہیے اور ’آئین اور قانون ہمیشہ فعال رہنے چاہیں۔‘ ادھر وفاقی وزیر قانون وصی ظفر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کا چیف جسٹس کے خلاف کوئی نیا ریفرنس لانے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں۔ تاہم اس بابت کوئی قدم تفصیلی فیصلہ دیکھنے کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں جس کے تحت افتخار محمد چودھری اب چیف جسٹس ہیں۔ انہوں نے کہا ’یہ عدلیہ کی اپنی دانشمندی ہے۔ صدر، وزیر اعظم اور حکومتی اہلکار آغاز سے کہہ رہے تھے کہ وہ عدالتی فیصلے کا من و عن تسلیم کریں گے۔ ہم اس میں کو کوئی نئی بات نہیں کریں گے‘۔ وصی ظفر کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اب چیف جسٹس کی راہ میں کوئی نئے روڑے نہیں اٹکائیں گے۔ | اسی بارے میں فیصلہ من و عن قبول ہے: حکومت20 July, 2007 | پاکستان ریفرنس کالعدم، جسٹس افتخار بحال20 July, 2007 | پاکستان عدالت کا ماحول خوشگوار رہا20 July, 2007 | پاکستان اہم اقوال: ’ شرات کروگے تو جج بنادوں گا۔۔۔‘20 July, 2007 | پاکستان فیصلہ واضح ہونا چاہیے: اعتزاز19 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||