عبادالحق بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | چیف جسٹس کا اپنی بحالی کے بعد یہ پہلا دورہ ہوگا |
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا اٹھائیس جولائی کو کوئٹہ میں وکلاء کی تقریب سے خطاب کا پروگرام منسوخ کردیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ سنیچر کی شام سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک، علی احمد کرد اور جسٹس(ر) طارق محمود نے باہمی صلاح مشورہ کے بعد کیا ہے۔ جسٹس(ر) طارق محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی سے قبل وکلاء کی تقریبات میں سیاسی جماعتوں کے کارکن اور سول سوسائٹی کے لوگ بھرپور طریقے سے شرکت کرتے رہے ہیں لیکن اب چیف جسٹس کے بحالی کے بعد یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ کسی ایسی تقریب میں شرکت کریں جس میں سیاسی جماعتوں کے کارکن اپنی جماعتوں جھنڈوں کے ساتھ موجود ہوں اور چیف جسٹس کو اس تقریب سے خطاب کرنا ہو۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنی وکالت کا آغاز بلوچستان سے کیا تھا اور یہ ان کی ’پیرنٹ بار‘ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی صورت حال کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے دورے کو منسوخ کرنے کے بعد بارے میں بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر کو باقاعدہ آگاہ کر دیا گیا ہے تاہم ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ آیا اب چیف جسٹس کے تقریب میں شرکت نہ کرنے کے باعث اٹھائیس جولائی کو یہ تقریب ہوگی یا نہیں۔
 |  نو مارچ کو عملی طور پر معطل کیے جانے کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اب تک راولپنڈی، سکھر، حیدر آباد، پشاور، لاہور، ایبٹ آباد، فیصل آباد اور ملتان میں وکلاء کی تقاریب میں شرکت کرچکے ہیں  |
قبل ازیں چیف جسٹس کے وکیل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر حامد خان نے سنیچر کی دوپہر کو بتایا تھا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا کوئٹہ کا دورہ اور وہاں وکلا سے خطاب پہلے سے طے شدہ ہے۔تاہم حامد خان نے سنیچر کی شام کو ہونے والے فیصلہ کے بعد اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اب چیف جسٹس کوئٹہ میں وکلاء کی تقریب سے خطاب نہیں کریں گے ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اپنے خلاف ریفرنس کی سماعت کے وقت اکیس جولائی کو کوئٹہ جانا تھا لیکن اس تاریخ کو تبدیل کر کے اٹھائیس کردیا گیا تھا۔ نو مارچ کو عملی طور پر معطل کیے جانے کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اب تک راولپنڈی، سکھر، حیدر آباد، پشاور، لاہور، ایبٹ آباد، فیصل آباد اور ملتان میں وکلاء کی تقاریب میں شرکت کرچکے ہیں۔ چیف جسٹس بارہ مئی کو وکلاء کی دعوت پر کراچی گئے تھے لیکن ان کو ائر پورٹ سے باہر نہیں نکلنے دیا گیا تھا جبکہ چیف جسٹس جلسہ گاہ میں خود کش حملے کی وجہ اسلام آباد میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں وکلاء سےخطاب نہیں کرسکے تھے۔ علاوہ ازیں جسٹس افتخار محمد چودھری نے سندھ اور بلوچستان میں بارشوں کی وجہ سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر راولا کوٹ میں وکلاء کی تقریب میں شرکت کا پروگرام منسوخ کر دیا تھا۔
|