BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 July, 2007, 18:01 GMT 23:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حکمرانوں کیخلاف عدلیہ کا پہلا قدم‘

فخر الدین جی ابراہیم
وکلاء کی مہم ابھی ختم نہیں ہوئی: فخر الدین جی ابراہیم
سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج صاحبان نے صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیے جانے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے فوجی حکمرانوں کے خلاف عدلیہ کا پہلا قدم قرار دیا ہے۔

سابق گورنر سندھ اور سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ فخر الدین جی ابراہیم نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تاریخ کا ایک نیا باب قرار دیا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’وکلاء کی مہم ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یہ انیس سو تہتر کے آئین کی بحالی تک جاری رہے گی۔‘


فخرالدین جی ابراہیم کا کہنا تھا کہ ’آج عدلیہ آزاد ہوئی ہے اور اب پارلیمنٹ کی آزادی ہمارا اگلا قدم ہونا چاہیے۔‘

اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کا اصل مطلب پاکستان کے عوام ہیں،حکمراں نہیں اور اب عوام نے فوجی حکمرانوں کو مسترد کر دیا ہے۔

فخر الدین جی ابراہیم نے کہا کہ ’عوام کو خود طے کرنا ہے کہ کسے لانا ہے ہم (عوام) کب تک بھٹکتے رہیں گے، ایک جنرل آگیا دوسرا آگیا اور اب تیسرا آگیا۔ ان جنرلوں نے ہمیں کون سے باغیچے دیے ہیں۔‘

دو سال پہلے ریفرنس کیوں دائر نہیں کیا گیا: ناصر اسلم زاہد

اُنہوں نے کہا کہ یہی وہ وقت ہے جب عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے۔ ’صدارتی ریفرنس کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ دراصل آغاز ہے بہترمستقبل کا۔‘

سابق چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس ریٹائرڈ ناصر اسلم زاہد نے کہا کہ جنرل مشرف نے غلط وقت پر چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا مگر بیالیس روز میں آنے والا فیصلہ درست تھا۔ اگر چیف جسٹس کے خلاف اتنے ہی الزامات تھے تو سال دو سال پہلے ریفرنس کیوں دائر نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سامنے ابھی دو آئینی سوالات ہیں۔ ’پہلا یہ کہ کیا نگران حکومت کی موجودگی میں بھی جنرل مشرف وردی کے ساتھ ہی موجود رہیں گے اور دوسرا یہ کہ کیا وہ نئی اسمبلیوں سے خود کو صدر منتخب کراتے ہیں یا موجودہ اسمبلیوں سے۔‘

سابق صدر پاکستان جسٹس (ر) رفیق تارڑ نے بھی چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے فیصلہ کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ان کے بقول یہ فیصلہ عوام کی غم زدہ زندگی میں ایک روشن دن ہے۔

عدلیہ نےآمریت سے آزادی حاصل کرلی ہے: جسٹس (ر) رفیق تارڑ

ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلہ سے عدلیہ نے زنجیروں کوتوڑ کر آمریت سے آزادی حاصل کرلی ہے۔ ’سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد آمریت کی لاش دفن ہوجائے گی۔‘

جسٹس (ر) رفیق تارڑ جو لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ہیں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا چیف جسٹس کی بحالی کا فیصلہ انیس ترانوے میں نواز شریف کی برطرف حکومت کی بحالی کے بعد دوسرا بڑا فیصلہ ہے اور سپریم کورٹ نے بغیر کسی خوف کے میرٹ پر فیصلہ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ جدوجہد ملک میں آمریت کے خاتمے تک جاری رہے گی۔

جسٹس (ر) میاں آفتاب فرخ نے کہا کہ ملک کی عدلیہ نے پہلی مرتبہ مضبوط قدم اٹھایا ہے جس کے دور رس نتائج نکلیں گے۔ ان کے بقول ’سپریم کورٹ کے فیصلے سے فوج کو بھی یہ پیغام مل گیا ہے کہ عوام کو ان کا دخل دینا قبول نہیں ہے۔ اس لیے آئندہ کوئی ایسی ہمت نہیں کرے گا جبکہ عدلیہ کو بھی معلوم ہوگیا ہے کہ عوام ان کے ساتھ ہیں۔‘

میاں آفتاب فرخ نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد عدلیہ پر ایک بڑی ذمہ داری آگئی ہے۔ ’یہ فیصلہ آئندہ کی تاریخ کے لیے ایک اہم قدم ہے اس لیے اسکو مخاذ آرائی نہ سمجھا جائے۔‘

 عوام کی آواز کا اثر تو نظر آ گیا ہے لیکن یہ آواز پاکستان کے نظام کو بدلنے کے لیے کبھی نہیں اٹھائی گئی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں اس کے کیا اثرات نظر آتے ہیں
ایم جے اکبر

ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے بعد اداروں کے قانونی اور آئینی اختیار میں رہنے کی ابتدا ہوگئی ہے۔

جسٹس (ر) فخرالنساء کھوکھر نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے اور اس فیصلہ نے عدلیہ کی آزادی کا پیغام دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں عدلیہ نے ایسے فیصلے دیے ہیں جنہوں نے آمروں کے لیے راستوں کو ہموار کیا لیکن سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد اب کسی آمر کو عدلیہ کی طرف دیکھنے کی جرات نہیں ہوگی۔ ’اس فیصلہ سے ملک میں استحکام آئےگا۔‘

سابق جج لاہور ہائی کورٹ زاہد حسین بخاری نے کہا کہ سپریم کورٹ نے چیف جسٹس کی بحالی کا فیصلہ دے کر اپنے آزاد ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔’سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیکر اپنے دھبے دھو ڈالے ہیں۔ اب کسی جرنیل کو عدلیہ کی توہین کرنے کی جرات نہیں ہوگی۔‘

بحالی پر انڈیا میں رد عمل
دلی سے بی بی سی کی نادیہ پرویز کے مطابق جس شدت سے پاکستان میں لوگ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے مقدمہ کے فیصلہ کا انتظار کر رہے تھے اسی شدت سے ہندوستان کا الکٹرونک میڈیا بھی پورے دن اس فیصلہ کا انتظار کرتا رہا۔ فیصلہ آتے ہی تقریبا سبھی ٹیلی وژن چینلز پر براہ راست نشریات اور تجزیہ شروع ہوگئے۔

 اس فیصلے سے پاکستان ميں عدلیہ کی اہمیت، پوزيشن اور آزادی میں اضافہ ہوگا۔
ستیش چندرا

ملک میں پاکستان کے حالات پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار ستیش چندرا نے اسے ایک اہم فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اس فیصلے سے پاکستان ميں عدلیہ کی اہمیت، پوزيشن اور آزادی میں اضافہ ہوگا۔‘

دوسری جانب جواہر لعل یونیورسٹی کے سابق پروفیسر اور بین الاقوامی معاملات کے ماہر ایس ڈی منی کا کہنا ہے کہ اس فیصلہ کے پیچھے کی سیاست کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہو سکتا ہے حکومت نے ایسا سوچا ہو کہ اگر جسٹس کے ساتھ نرم رویہ اختیار کر لیں تو ان کے پیچھے کی طاقتوں کو بھی متحرک کرنے میں مدد ملے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ شاید اب صدر مشرف یہ کوشش کریں کہ جسٹس چودھری ان کی مخالفت نہ کريں۔

انڈیا کے سینئرصحافی اور ایک اخبار کے مدیر ایم جے اکبر نے اس فیصلہ میں عوامی تحریک کی حصہ داری کے اثر کے بارے میں کہا کہ ’عوام کی آواز کا اثر تو نظر آ گیا ہے لیکن یہ آواز پاکستان کے نظام کو بدلنے کے لیے کبھی نہیں اٹھائی گئی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں اس کے کیا اثرات نظر آتے ہیں۔

جسٹس افتخار (فائل فوٹو)چیف جسٹس کیس
اٹھارہ اپریل سے بیس جولائی تک کب کیا ہوا
’جج بنا دوں گا۔۔۔‘
عدالت میں دلچسپ اقوال سننے کو ملے
چیف جسٹسبڑے کردار
چیف جسٹس کیس کی اہم شخصیات کے خاکے
جسٹس افتخار (فائل فوٹو)چیف جسٹس کیس
’مقدمہ اگلےدو ہفتوں میں اختتام پذیرہوسکتا ہے‘
جسٹس افتخار محمد چودھری حکومتی بیاناتِ حلفی
چیف جسٹس پر خفیہ اداروں کے الزامات
 کیا سید شریف الدین پیرزادہ صدر مشرف کی کرسی بچا سکتے ہیں؟’آپ تو ڈرا رہے ہیں‘
حکومتی وکلاء اور ملائیشیا کی مثال
موبائل’گو مشرف گو‘
صدر کے خلاف احتجاج ’موبائل‘ ہو گیا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد