BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 July, 2007, 16:13 GMT 21:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشرف کے لیے بینظیر کی اہمیت بڑھ گئی‘

اقتدار صرف مغرب کی حمایت پر؟
پاکستان میں کہا جا رہا ہے کہ بیس جولائی سن دو ہزار سات شاید صدر جنرل پرویز مشرف کے آٹھ سالہ دور اقتدار کا اہم ترین دن ہے۔

اس لیے نہیں کہ اس دن وہ ملکی تاریخ کا اہم ترین مقدمہ ملک کی سب سے بڑی عدالت میں ہار گئے ہیں۔ ان کے رفقاء کا پہلے دن سے اصرار تھا کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس میں ان کی حیثیت محض ایک پوسٹ آفس کی ہے اور سارا کیا دھرا اصل میں وزیراعظم شوکت عزیز کا ہے۔

وہ اب بھی یہی کہیں گے۔ کوئی ان کی بات مانے یا نہ مانے اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ سیاسی کھیلوں میں ایسے پینترے ہزار بار بدلے جاتے ہیں اور سچ جھوٹ کا فیصلہ اصول یا حقیقت کی بنیاد پر نہیں بلکہ طاقت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی یہ بھولنا مشکل ہے کہ پاکستان میں سیاسی اور انتظامی اختیار و طاقت ابھی بھی صدر مشرف کے ہاتھ میں ہی ہے۔

تاہم اس میں شک نہیں کہ چیف جسٹس کی بحالی نے ان کے لیے ایک نئی سیاسی مشکل کھڑی کر دی ہے۔

اس کیس کے فیصلے سےدو روز قبل صدر مشرف نے چند گنے چنے مدیران کو بلا کر وردی میں موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہونے کا اپنا باقاعدہ فیصلہ سنایا تھا۔ ان میں سے ایک مدیر کے مطابق وہ خوشگوار موڈ میں تھے اور لگتا یوں تھا کہ ان کی وہ حس ظرافت بھی لوٹ آئی ہے جو عدالتی بحران کے دوران کچھ دیر کے لیے کہیں کھو گئی تھی۔

’صدر مشرف خوشگوار موڈ میں‘
 اس کیس کے فیصلے سےدو روز قبل صدر مشرف نے چند گنے چنے مدیران کو بلا کر وردی میں موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہونے کا اپنا باقاعدہ فیصلہ سنایا تھا۔ ان میں سے ایک مدیر کے مطابق وہ خوشگوار موڈ میں تھے اور لگتا یوں تھا کہ ان کی وہ حس ظرافت بھی لوٹ آئی ہے جو عدالتی بحران کے دوران کچھ دیر کے لیے کہیں کھو گئی تھی۔
یہ ہو سکتا ہے کہ فیصلے کے بعد ان کی حس ظرافت پھر کچھ دیر کے لیے روٹھ جائے کیونکہ اس فیصلے کے بعد یہ بات تقریباً یقینی ہو چکی ہے کہ صدر مشرف کے موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہونے کے ارادوں کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔

ایسی صورتحال میں ان کے منصف افتخار محمد چوہدری ہوں گے یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے لیکن اس فیصلے سے عدلیہ کو حاصل ہونے والا آزادی کا ایک نیا احساس یقیناً صدر مشرف کے لیے ایک پریشان کن امر ہو گا۔

لیکن پاکستان کی سیاست اکثر ایسے عجیب و غریب اور ناقابل فہم موڑ مڑتی ہے کہ آج کی حکومتی شکست اور صدر مشرف کے مستقبل پر اس کے ممکنہ مضر اثرات کے باوجود یہ ممکن ہے کہ صدر مشرف جلد ہی دوبارہ مسکرانے لگیں۔

پچھلے چند دنوں کے واقعات نے اور خاص طور پر لال مسجد کے بعد اٹھنے والے خودکش حملوں کے ریلے نے صدر مشرف کی سیاست کے لیے وہ دروازے کھولے ہیں جن کے قفل کھولنے کی تگ ودو میں ان کے اقتدار کے کئی سال گزر گئے۔

امریکہ پر سن دو ہزار ایک میں ہونے والے حملوں کے بعد سے صدر مشرف مسلسل کہتے چلے آ رہے ہیں کہ انہیں پاکستان میں اعتدال پسند قوتوں کی حمایت درکار ہے۔ اس دوران ان کے مغربی حلیفوں کی بھی یہی رائے رہی ہے کہ صدر مشرف اور پاکستان کی سب سے بڑی معتدل مزاج جماعت پاکستان پیپلز پارٹی فطری حلیف ہیں۔

لیکن آٹھ سال کے لمبے عرصے میں نہ تو نو من تیل اکٹھا ہوا اور نہ ہی رادھا ناچی۔

فوج اور پی پی پی ایک ہی کشتی میں
 لال مسجد کی جنگ ختم ہوتے ہی مذہبی انتہا پسندوں نے اعلان کیا تھا کہ ان کے خود کش بمباروں کو جہاں موقع ملا وہ سرکاری اور خصوصی طور پر فوجی اہداف کو نشانہ بنائیں گے۔ لیکن چیف جسٹس کے اسلام آباد میں ہونے والے جلسے کے لیے قائم کیے جانے والے پی پی پی کے کیمپ پر خود کش حملے نے فوج اور پی پی پی کو ایک ہی کشتی میں لا پھینکا ہے۔
اس کی ایک بڑی وجہ پی پی پی اور فوج کی قیادت میں اعتماد کا شدید فقدان ہے۔ ان دونوں فریقین میں بداعتمادی کا بحران اس قدر شدید تھا کہ صرف ایک سال پہلے تک صدر مشرف مصر تھے کہ پی پی پی کی رہنما بینظیر بھٹو نہ تو واپس آ سکتی ہیں اور نہ ہی ترمیم شدہ آئین کے تحت تیسری بار وزیر اعظم بن سکتی ہیں۔

گو پچھلے چند مہینوں میں ان کا یہ سخت گیر رویہ کسی قدر پگھلا ضرور تھا لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہ آنے کے بعد زیادہ تر لوگوں کی یہی رائے تھی کہ شطرنج کی یہ بساط لپٹنے میں ابھی دیر ہے اور یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس میں کس کو شہ ہو گی اور کس کو مات۔

لیکن بینظیر بھٹو کے بارے میں صدر مشرف کے رویے میں تبدیلی سے ایسا محسوس ہونے لگا کہ ملک کی فوجی قیادت میں پی پی پی کے ساتھ مل کر حکومت کرنے کی خواہش تو ضرور ہے لیکن دونوں کے بیچ موجود بداعتمادی ختم کرنے کی دوا دونوں میں سے کسی کے پاس نہیں۔

اب لگتا یوں ہے کہ لال مسجد پر فوجی دھاوے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے خود کش حملوں کی لہر نے اس صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ یہ عین ممکن ہے کے جہاں یہ خود کش حملے درجنوں بیگناہوں کی جانیں لے رہے ہیں وہیں یہ فوج اور پی پی پی کی قیادت کے بیچ بداعتمادی کی دوا بھی بن جائیں۔

لال مسجد کی جنگ ختم ہوتے ہی مذہبی انتہا پسندوں نے اعلان کیا تھا کہ ان کے خود کش بمباروں کو جہاں موقع ملا وہ سرکاری اور خصوصی طور پر فوجی اہداف کو نشانہ بنائیں گے۔ لیکن چیف جسٹس کے اسلام آباد میں ہونے والے جلسے کے لیے قائم کیے جانے والے پی پی پی کے کیمپ پر خود کش حملے نے فوج اور پی پی پی کو ایک ہی کشتی میں لا پھینکا ہے۔

بینظیر بھٹو کی واپسی کے امکانات؟
یہ ملکی تاریخ کا ایک عجیب موڑ ہے جس میں فوجی قیادت اپنی تاریخی رجعت پسندی کے باوجود بھی لبرل سیاسی قوتوں کا ساتھ دینے پر مجبور ہے۔ اور یہ ساتھ اس وقت پی پی پی سے زیادہ صدر مشرف کی ضرورت ہے کیونکہ مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف اس وقت اگر صدر مشرف لبرل سیاسی قوتوں کے فطری حلیف کے طور پر نہیں ابھرتے تو پھر نہ تو پاکستانی فوج کو ان کی کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی امریکہ کو۔

پاکستان میں اس وقت یہ رائے عام ہے کہ آج کل کے حالات میں امریکہ صدر مشرف جیسا حلیف کھونا نہیں چاہے گا کیونکہ اس صورت میں امریکی قیادت کو پاکستان میں ایک ایسے نئے جرنیل کی تلاش ہوگی جو امریکہ کے لیے وہ تمام کام کر سکے جو ابھی تک صدر مشرف کرتے آئے ہیں۔ اور سب جانتے ہیں کے اتنے تابعدار جرنیل پاکستان جیسے ملک میں بھی روز روز پیدا نہیں ہوتے۔

ان حالات کو جس طرح بھی دیکھیں، تان یہیں آ کر ٹوٹتی ہے کہ فوج کو پاکستان کی لبرل جماعتوں کا حلیف بنانے کے لیے ابھی مغربی دنیا کو صدر مشرف اور پی پی پی کی ضرورت ہے۔ آج کے فیصلے سے فرق صرف اتنا پڑا ہے کہ پہلے یہ الحاق صرف اور صرف صدر مشرف کی شرائط پر ہوتا جبکہ اب پی پی پی بھی اس کے خدوخال پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

دوسرے لفظوں میں اگر فیصلے سے پہلے پی پی پی کی تمام تر توجہ بینظیر بھٹو کی واپسی اور ان کے خلاف مقدموں کے خاتمے پر تھی تو اب یہ پارٹی صدر مشرف کی وردی پر بھی پہلے سے زیادہ سخت گیر رویہ اپنا سکتی ہے۔

جسٹس افتخار (فائل فوٹو)چیف جسٹس کیس
’مقدمہ اگلےدو ہفتوں میں اختتام پذیرہوسکتا ہے‘
جسٹس خلیل الرحمن چیف جسٹس کیس
اگر فیصلہ آیا تو تاریخی ہوگا: سپریم کورٹ
جسٹس افتخار محمد چودھری حکومتی بیاناتِ حلفی
چیف جسٹس پر خفیہ اداروں کے الزامات
 کیا سید شریف الدین پیرزادہ صدر مشرف کی کرسی بچا سکتے ہیں؟’آپ تو ڈرا رہے ہیں‘
حکومتی وکلاء اور ملائیشیا کی مثال
موبائل’گو مشرف گو‘
صدر کے خلاف احتجاج ’موبائل‘ ہو گیا
جسٹس افتخارجسٹس کا قافلہ
جسٹس افتخار کا اسلام آباد تا لاہور سفر
عام آدمی کا جج
چیف جسٹس افتخار اور چھوٹے مسائل کا حل
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد