’مشرف کے لیے بینظیر کی اہمیت بڑھ گئی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں کہا جا رہا ہے کہ بیس جولائی سن دو ہزار سات شاید صدر جنرل پرویز مشرف کے آٹھ سالہ دور اقتدار کا اہم ترین دن ہے۔ اس لیے نہیں کہ اس دن وہ ملکی تاریخ کا اہم ترین مقدمہ ملک کی سب سے بڑی عدالت میں ہار گئے ہیں۔ ان کے رفقاء کا پہلے دن سے اصرار تھا کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس میں ان کی حیثیت محض ایک پوسٹ آفس کی ہے اور سارا کیا دھرا اصل میں وزیراعظم شوکت عزیز کا ہے۔ وہ اب بھی یہی کہیں گے۔ کوئی ان کی بات مانے یا نہ مانے اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ سیاسی کھیلوں میں ایسے پینترے ہزار بار بدلے جاتے ہیں اور سچ جھوٹ کا فیصلہ اصول یا حقیقت کی بنیاد پر نہیں بلکہ طاقت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی یہ بھولنا مشکل ہے کہ پاکستان میں سیاسی اور انتظامی اختیار و طاقت ابھی بھی صدر مشرف کے ہاتھ میں ہی ہے۔ تاہم اس میں شک نہیں کہ چیف جسٹس کی بحالی نے ان کے لیے ایک نئی سیاسی مشکل کھڑی کر دی ہے۔ اس کیس کے فیصلے سےدو روز قبل صدر مشرف نے چند گنے چنے مدیران کو بلا کر وردی میں موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہونے کا اپنا باقاعدہ فیصلہ سنایا تھا۔ ان میں سے ایک مدیر کے مطابق وہ خوشگوار موڈ میں تھے اور لگتا یوں تھا کہ ان کی وہ حس ظرافت بھی لوٹ آئی ہے جو عدالتی بحران کے دوران کچھ دیر کے لیے کہیں کھو گئی تھی۔
ایسی صورتحال میں ان کے منصف افتخار محمد چوہدری ہوں گے یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے لیکن اس فیصلے سے عدلیہ کو حاصل ہونے والا آزادی کا ایک نیا احساس یقیناً صدر مشرف کے لیے ایک پریشان کن امر ہو گا۔ لیکن پاکستان کی سیاست اکثر ایسے عجیب و غریب اور ناقابل فہم موڑ مڑتی ہے کہ آج کی حکومتی شکست اور صدر مشرف کے مستقبل پر اس کے ممکنہ مضر اثرات کے باوجود یہ ممکن ہے کہ صدر مشرف جلد ہی دوبارہ مسکرانے لگیں۔ پچھلے چند دنوں کے واقعات نے اور خاص طور پر لال مسجد کے بعد اٹھنے والے خودکش حملوں کے ریلے نے صدر مشرف کی سیاست کے لیے وہ دروازے کھولے ہیں جن کے قفل کھولنے کی تگ ودو میں ان کے اقتدار کے کئی سال گزر گئے۔ امریکہ پر سن دو ہزار ایک میں ہونے والے حملوں کے بعد سے صدر مشرف مسلسل کہتے چلے آ رہے ہیں کہ انہیں پاکستان میں اعتدال پسند قوتوں کی حمایت درکار ہے۔ اس دوران ان کے مغربی حلیفوں کی بھی یہی رائے رہی ہے کہ صدر مشرف اور پاکستان کی سب سے بڑی معتدل مزاج جماعت پاکستان پیپلز پارٹی فطری حلیف ہیں۔ لیکن آٹھ سال کے لمبے عرصے میں نہ تو نو من تیل اکٹھا ہوا اور نہ ہی رادھا ناچی۔
گو پچھلے چند مہینوں میں ان کا یہ سخت گیر رویہ کسی قدر پگھلا ضرور تھا لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہ آنے کے بعد زیادہ تر لوگوں کی یہی رائے تھی کہ شطرنج کی یہ بساط لپٹنے میں ابھی دیر ہے اور یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس میں کس کو شہ ہو گی اور کس کو مات۔ لیکن بینظیر بھٹو کے بارے میں صدر مشرف کے رویے میں تبدیلی سے ایسا محسوس ہونے لگا کہ ملک کی فوجی قیادت میں پی پی پی کے ساتھ مل کر حکومت کرنے کی خواہش تو ضرور ہے لیکن دونوں کے بیچ موجود بداعتمادی ختم کرنے کی دوا دونوں میں سے کسی کے پاس نہیں۔ اب لگتا یوں ہے کہ لال مسجد پر فوجی دھاوے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے خود کش حملوں کی لہر نے اس صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ یہ عین ممکن ہے کے جہاں یہ خود کش حملے درجنوں بیگناہوں کی جانیں لے رہے ہیں وہیں یہ فوج اور پی پی پی کی قیادت کے بیچ بداعتمادی کی دوا بھی بن جائیں۔ لال مسجد کی جنگ ختم ہوتے ہی مذہبی انتہا پسندوں نے اعلان کیا تھا کہ ان کے خود کش بمباروں کو جہاں موقع ملا وہ سرکاری اور خصوصی طور پر فوجی اہداف کو نشانہ بنائیں گے۔ لیکن چیف جسٹس کے اسلام آباد میں ہونے والے جلسے کے لیے قائم کیے جانے والے پی پی پی کے کیمپ پر خود کش حملے نے فوج اور پی پی پی کو ایک ہی کشتی میں لا پھینکا ہے۔
پاکستان میں اس وقت یہ رائے عام ہے کہ آج کل کے حالات میں امریکہ صدر مشرف جیسا حلیف کھونا نہیں چاہے گا کیونکہ اس صورت میں امریکی قیادت کو پاکستان میں ایک ایسے نئے جرنیل کی تلاش ہوگی جو امریکہ کے لیے وہ تمام کام کر سکے جو ابھی تک صدر مشرف کرتے آئے ہیں۔ اور سب جانتے ہیں کے اتنے تابعدار جرنیل پاکستان جیسے ملک میں بھی روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ ان حالات کو جس طرح بھی دیکھیں، تان یہیں آ کر ٹوٹتی ہے کہ فوج کو پاکستان کی لبرل جماعتوں کا حلیف بنانے کے لیے ابھی مغربی دنیا کو صدر مشرف اور پی پی پی کی ضرورت ہے۔ آج کے فیصلے سے فرق صرف اتنا پڑا ہے کہ پہلے یہ الحاق صرف اور صرف صدر مشرف کی شرائط پر ہوتا جبکہ اب پی پی پی بھی اس کے خدوخال پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اگر فیصلے سے پہلے پی پی پی کی تمام تر توجہ بینظیر بھٹو کی واپسی اور ان کے خلاف مقدموں کے خاتمے پر تھی تو اب یہ پارٹی صدر مشرف کی وردی پر بھی پہلے سے زیادہ سخت گیر رویہ اپنا سکتی ہے۔ |
اسی بارے میں ’کچھ معاملات پر ہونٹ سِلے ہیں‘18 July, 2007 | پاکستان یومِ سوگ، عدالتوں کا بائیکاٹ17 July, 2007 | پاکستان ’فیصلہ بیس جولائی تک متوقع‘11 July, 2007 | پاکستان ’تو پھر فیصلہ عوام سے کرا لیں‘09 July, 2007 | پاکستان ’ایڈوائس وزیر اعظم ہی کی تھی‘04 July, 2007 | پاکستان ’سوال ہے احتساب کون کرے گا‘03 July, 2007 | پاکستان سپریم کورٹ میں حکومت کی معافی 02 July, 2007 | پاکستان مقدمہ نہیں بحران ہے: جسٹس رمدے27 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||