BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 June, 2007, 02:53 GMT 07:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشرف امریکہ کی ضرورت‘

ہیلری کلنٹن اور جان ایڈورڈز
چیف جسٹس کو ہٹانے کا معاملہ بھی نظر میں ہے: ہیلری کلنٹن
امریکہ میں عہدۂ صدارت کے لیے ڈیموکریٹ امیدوار کی دوڑ میں شامل سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ مشرف حکومت کمزور ہور ہی ہے تاہم امریکہ کو پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کی ضرورت ہے۔

آئندہ برس کے انتخابات کے حوالے سے ٹی وی پر ہونے والی دوسری لائیو بحث میں ڈیموکریٹ صدارتی امیدواروں نے از سرِ نو امریکی خارجہ پالیسی بنانے اور ایران اور پاکستان کے حوالے سے سفارتکاری کے ذرائع کو استعمال کرنے پر بھی زور دیا۔

بحث کے دوران ایک ووٹر کے اس سوال پر کہ پاکستان میں جمہوریت اور جنرل مشرف کے حوالے سے ڈیموکریٹ کیا پالیسی اپنائیں گے، نارتھ کیرولینا کے سینیٹر جان ایڈورڈز کا کہنا تھا کہ ان کے لیے جمہوریت کا مطلب عام آدمی کے حقوق کا تحفظ ہے لیکن اگر آج جنرل مشرف کو ہٹا دیا جاتا ہے تو ممکن ہے کہ پاکستان میں ابھرنے والی اسلامی شدت پسندی کی وجہ سے کوئی ایسا گروہ اقتدار سنبھال لے جو امریکی پالیسیوں کے لیے مفید ثابت نہ ہو۔

الینوائے کے سینیٹر بارک اوبامہ کا کہنا تھا کہ مشرف حکومت کمزور ہو رہی ہے اور اس کی کمزوری کی ایک اہم وجہ عراق میں امریکی پالیسی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان میں پیدا ہونے والے امریکہ مخالف جذبات حکومت کو کمزور کرنے کی اہم وجہ بنے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’صدر مشرف کے لیے امریکہ کے اتحادی کا کردار ادا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اگر پاکستان کے عوام یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ ایک قابض فوج ہے تو اس کے نتیجے میں ہمیں پاکستان میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘۔

سینیٹر ہیلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ وہ جانتی ہیں کہ پاکستان میں کیا چل رہا ہے اور چیف جسٹس کو ہٹانے کا معاملہ بھی ان کی نظر میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود تناؤ کے خاتمے کے لیے صدارتی نمائندہ بھیجنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دورے کے بعد انہوں نے حکومت کو ایک رپورٹ بھی دی تھی لیکن ان کی سفارشات پر غور نہیں کیا گیا۔

پاکستان میں پیدا ہونے والے امریکہ مخالف جذبات حکومت کو کمزور کرنے کی اہم وجہ بنے :اوبامہ

اس بحث کے دوران میزبان نے تمام ڈیموکریٹ امیدواروں سے سوال کیا کہ اگر انہیں اسامہ کی پاکستان میں موجودگی کی یقینی اطلاع ملے اور ان کے پاس صرف بیس منٹ کا وقت ہو اور حملے کے نتیجے میں معصوم انسانی جانوں کے ضیاع کا خدشہ بھی ہو تو ان کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔

اس سوال کے جواب میں بارک اوبامہ نے کہا کہ وہ اسامہ کو ایک فوجی ہدف سمجھتے ہوئے فوراً حملہ کر دیں گے تاہم ڈینس ککنیچ کا کہنا تھا کہ’بطور صدرِ امریکہ ہمیں قتل کی پالیسی نہیں اپنانی چاہیے کیونکہ اگر ہم آج یہ کریں گے تو کل کوئی ہمارے گھر پر بھی حملہ کر سکتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن کو گرفتار کر کے بین الاقوامی عدالت میں ان پر مقدمہ چلانا چاہیے۔

اسامہ کے بارے میں سوال کے حوالے سے دلچسپ بات یہ رہی کہ جہاں ایک کے سوا تمام ممکنہ امیدوار اسامہ بن لادن کے خلاف فوری ایکشن پر متفق نطر آئے وہیں کسی نے بھی اس امر کا ذکر نہیں کیا کہ آیا وہ ایک خود مختار ملک کی حدود میں کارروائی سے قبل اس ملک سے اجازت حاصل کریں گے یا نہیں۔

یاد رہے کہ پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف با رہا یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکی فوج کو پاکستانی سرزمین پر کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

(فائل فوٹو)وفاداری کا نیا حلف
’حلف‘ کی حیثیت وردی اتارنے کے وعدے جیسی
صدر پرویز مشرف’وردی میری کھال‘
’فوجی وردی پہننے میں فخر محسوس ہوتا ہے‘
رب جانے یا مشرف
’جسٹس ریلی حکومتی ریلیوں کے بیچ سینڈوچ‘
مشرف اور آئین
کیا کوئی3 مرتبہ صدر کا حلف اٹھا سکتا ہے؟
خط کی سیاست
دباؤ بڑھا ہے یا جنرل مشرف کی تنہائی
بُش اور مشرفتقاضے بڑھ گئے
امریکہ کے پاکستان میں نئے گھوڑے:علی احمد
اسی بارے میں
’دہشت گردی سےنمٹا جائےگا‘
18 January, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد