مشرف نے قیمت بڑھا دی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک حیرت انگیز بات یہ دیکھنے میں آئی ہے کہ صدربش کی عراق اور ایران سے متعلق پالیسیوں کی بنا پر جب خود ان کے ملک میں تنقید بڑھنے لگتی ہے اور ان کی مقبولیت کا گراف گرنے لگتا ہے تو اچانک القاعدہ کے کسی نمبر ایک، دو یا تین رہنما کا ایک بیان آجاتا ہے اور امریکی عوام تقدیر کا لکھا سمجھ کر ایک بار پھر خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ انگریزی کے ایک ناول نگار سر والٹر سکاٹ کا صلیبی جنگ سے متعلق ایک ناول ہے ’دی ٹیلیز مین‘۔ اس میں ایک معرکے کے دوران انگریز بادشاہ رچرڈ شیردل زخمی ہوجاتا ہے اور زخم ایسا لگتا ہے کہ بادشاہ جو کبھی رکاب سے پیر ہی نہیں نکالتا تھا قبر میں پیر لٹکانےپر مجبور ہوجاتا ہے، بڑے بڑے معالجوں کی سر توڑ کوشش کے باوجود بادشاہ کو شفاء نہیں ہوتی۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کو( جو اس ناول کے مطابق طب میں بھی درک رکھتا تھا) جب اس کی اطلاع ملتی ہے تو وہ بھیس بدل کررچرڈ کے کیمپ میں وارد ہوتا ہے اور اس کا کامیاب علاج کرتا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ یہ واقعہ تاریخی حقائق پر مبنی ہے یا والٹر سکاٹ نے صلیبی جنگ میں رچرڈ کی عبرت ناک شکست کا داغ دھونے کے لئے یہ پلاٹ گھڑا تھا لیکن اس سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی اور رچرڈ شیر دل ہر دور میں ایک دوسرے کے لئے لازم اور ملزوم رہے ہیں ، اگر ان میں سے ایک مرجائے تو دوسرا خود بخود دم توڑ دے گا۔ غالباً القاعدہ والوں کو بھی یہ اندازہ ہوگیا ہے کہ ان کا وجود بھی صدربش سے ہی ہے اگر وہ گئے تو ان کا بھی کوئی جواز نہیں رہے گا۔ چنانچہ جب صدر بش کی ساکھ گرنے لگتی ہے تو القاعدہ کے کسی نمبر کا ایک جارحانہ بیان آجاتا ہے جس سے ان کو ایک بار پھر سنبھالہ مل جاتا ہے۔ ویسےاس موقع پر جناب ظواہری کی جانب سے صدر مشرف کے خلاف یہ بیان سمجھ میں نہیں آتا اس لئے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے صدر مشرف صدر بش سے ناراض رہنے لگے ہیں۔ ان کے وزیر خارجہ جناب خورشید محمود قصوری کے بیانات اور ان کے ایک حالیہ انٹرویو سے جو انہوں نے برطانوی اخبار گارڈین کو دیا ہے اندازہ ہوتا ہے کہ جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے انہوں نے اپنی کشتیاں جلانی شروع کردی ہیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ صدر بش کے تقاضے بڑھ گئے ہیں اور صدر مشرف نے اپنی خدمات کی قیمتیں بڑھا دی ہیں ۔ امریکہ چاہتا ہے کہ نیٹو سے باہر کے اتحادی کا درجہ ملنے کے بعد پاکستان کو اپنا تعاون صرف طالبان اور القائدہ تک محدود نہیں رکھنا چاہئیے بلکہ جہاں اور جب ضرورت ہو دوستی کا حق نبھانا چاہئیے۔ پاکستان کا شاید کہنا یہ ہے کہ’ فقط وعدہ حور‘ سے کام نہیں چلے گا اگر تعلقات میں مٹھاس برقرار رکھنی ہے یا اس میں مزید اضافہ کرنا ہے تو اور گڑ ڈالو اور ہندوستان سے جوہری میدان میں جو سمجھوتہ کیا ہے وہ ہم سے بھی کرو۔ اگرچہ ایک حالیہ بریفنگ میں امریکی ترجمان نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ امریکی حکومت صدر پرویز مشرف سے دوری اختیار کررہی ہے لیکن صدر بش کے حالیہ دورے کے بعد پاکستانی حزب اختلاف کے اتحاد اے آر ڈی کی سرگرمیوں میں جو تیزی آئی ہے اور محترمہ بینظیر اور محترم نواز شریف کو مہینوں کے لیت و لعل کے بعد ایک دوسرے سے ملاقات پر جس طرح مجبور ہونا پڑا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ صرف صدر مشرف کے تعاون پرہی تکیہ کئے نہیں بیٹھا ہے بلکہ اس نے پاکستان میں دوسرے گھوڑوں کو بھی سدھانہ شروع کردیا ہے۔ صرف مشکل یہ ہے کہ پاکستان میں’ سول یا فوجی‘ جو بھی حکومت آئے عراق، افغانستان اور ایران سے متعلق اگر اس نے صدر بش کی پالیسیوں کی حمایت کی تو اسے پاکستانی عوام میں پزیرائی حاصل نہیں ہوگی اورشاید اسی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے جن سے آج صدر پرویز مشرف دوچار نظر آتے ہیں۔ | اسی بارے میں ایرانیوں نے اپنا صدر چن لیا25 June, 2005 | قلم اور کالم ایک ذرا دیانتداری چاہیے29 October, 2005 | قلم اور کالم بش جوچاہتے، دنیا نہیں چاہتی 28 January, 2006 | قلم اور کالم چونکہ چنانچہ اور اگر مگر کیوں؟22 April, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||