BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 April, 2006, 09:11 GMT 14:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چونکہ چنانچہ اور اگر مگر کیوں؟

سوال
میرے بعض دوستوں کوشکایت ہے کہ میری تحریر میں’ چونکہ، چنانچہ ، اور’اگر مگر‘ کچھ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ اصل مطلب خبط ہوجاتا ہے اور یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں۔

اس اعتراض کی روشنی میں میں نے جب اپنے کالموں کا جائزہ لیا تومجھے خود بھی احساس ہوا کہ ان دوستوں کی شکایت نہ صرف بجا ہے بلکہ میں اپنے قاریوں تک ( اگر کچھ ہیں) اپنی بات پہنچانے کے بجائے انہیں نادانستہ طور پر ہی سہی، اپنے کالم پڑھنے کی سزا دیتا رہا ہوں۔

میں یہ اعتراف یوں بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ میں جس معاشرے میں زندہ ہوں اس میں عام آدمی بڑے مخدوش حالات میں زندگی گزارتا ہے اور اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ تصور کی جاتی ہے کہ وہ زندگی کے اس سفر میں اپنے آپ کوافسر کی اگاڑی اورگھوڑے کی پچھاڑی سے کیسے بچاتا ہے۔

شاہ ولی اللہ
 امام الہند شاہ ولی اللہ نے جب اپنے وقت کے قدامت پرست مولویوں کے اعتراص کے باوجود قرآن کریم کا ترجمعہ فارسی میں کرنے کا بیڑا اٹھایا تو ان پر بڑے رکیک الزامات لگائے گئے لیکن عدم تحفظ کی اس کیفیت سے انہیں شاید کبھی واسطہ نہیں پڑا جس سے آج ہم دوچار نظر آتے ہیں
عدم تحفظ کا یہ احساس وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ پہلے بھی مختلف عقائد اور نظریات کے حامل افراد میں اختلافات اور بحث مباحثے ہوتے تھے اور ایک دوسرے پر تنقید اور اعتراضات بھی کئے جاتے تھے لیکن اس کا سلسلہ تصنیف و تالیف اور علمی مباحثوں کی حدتک محدود تھا، یہ کیفیت کبھی نہیں تھی کہ چھوٹتے ہی جہنم رسید کردیا۔

امام الہند شاہ ولی اللہ نے جب اپنے وقت کے قدامت پرست مولویوں کے اعتراض کے باوجود قرآن کریم کا ترجمہ فارسی میں کرنے کا بیڑا اٹھایا تو ان پر بڑے رکیک الزامات لگائے گئے لیکن عدم تحفظ کی اس کیفیت سے انہیں شاید کبھی واسطہ نہیں پڑا جس سے آج ہم دوچار نظر آتے ہیں۔

غالب جنت کو دل کے بہلانے کا خیال تصور کرتے تھے اور اپنی شراب نوشی کی بنا پر اپنے آپ کو برملا آدھا مسلمان کہتے تھے لیکن ان کو یہ خطرہ نہیں تھا کہ کوئی ان کا گھر بم سے اڑا دیگا۔

1857 کے غدر کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کے تین مراکز وجود میں آئے علی گڑھ، دیو بند اور ندوہ۔ تینوں میں بعض مذہبی اور سیاسی امور پر شدید اختلافات تھے لیکن ان میں کبھی جوتم بیزار کی نوبت نہیں آئی۔

مولانا عبیداللہ سندھی جیسی شخصیت کی والدہ سکھ تھیں اور مرتے دم تک رہیں اور وہ ایک سعادت مند بیٹے کے طورپر ان کی خدمت کرتے رہے، انہیں یہ خطرہ کبھی محمسوس نہیں ہوا کہ کوئی ان کی والدہ کے عقائد کی بناء پر ان کے اسلام پر شک کرے گا۔

سنتے ہیں کہ ہندو مسلم فسادات کے دوران بھی، دونوں فریق مارنے سے پہلے پاجامہ اتروا کر یہ تصدیق کر لیتے تھے کہ کون کیا ہے، اب تو اس کی بھی گنجائش نہیں، لوگ نام سے ہی دوسروں کے عقائد اورسوچ کے بارے میں از خود رائے قائم کر لیتے ہیں۔

میرے ایک پاکستانی دوست نے مجھ سے میرا ای۔ میل ایڈریس دریافت کیا جو میں نے بتادیا وہ چونک پڑے’ بھئی یہ تو بہت خطرناک ہے‘۔ میں نے کہا ’پاس ورڈ بھی بتا دوں، تو کہنے لگے کہ اس کی ضرورت نہیں‘ ایڈریس ہی آپ کا قصہ پاک کرنے کے لئے کافی ہے‘۔

ایک بار میں بی بی سی کی طرف سے انتخابات کی رپورٹنگ کے لئے پاکستان گیا اور اس سلسلے میں احمدیوں کے مرکز ربوہ بھی جانے کا اتفاق ہوا۔میں نے فیصل آباد سے ایک ٹیکسی لی جس کے ڈرائیور ایک سیدھے سادھے نیک سے آدمی تھے۔ سارے راستے وہ اپنے مسائل اور پریشانیوں کا ذکر کرتے رہے، بڑھتی ہوئی مہنگائی کا رونا روتے رہے اور یہ اصرار کرتے رہے کہ شام تک رہنا ہے تو کرائے کے ساتھ دن کے کھانے کا خرچ بھی دیجیے۔

ہم لوگ کوئی بارہ ساڑھے بارہ بجے ربوہ پہنچے، وہاں باہر سے آنے والوں کے لئے ایک بڑا سا مہمان خانہ ہے۔ اس کےگیٹ پر جو صاحب تھے انہوں نے بڑے تپاک سے ہماراخیرمقدم کیا اورمجھے اور میرے ٹیکسی ڈرائیور کو بڑی محبت سے کھانے کی بھی دعوت دے ڈالی۔

مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ ایسی جگہ پر کوئی مناسب اور صاف ستھرا ہوٹل ڈھونڈنا مشکل ہوتا ہے اور ڈرائیور کو کھانے کے پیسے بھی نہیں دینے پڑیں گے۔ لیکن میرا ڈرائیور بگڑ گیا اور اس نے صاف کہہ دیا ’ آپ کھا ئیں صاحب! میں ان ۔۔۔۔۔ کا کھانا نہیں کھاؤں گا‘۔

اب آپ میری کیفیت کا اندازہ کریں اگر دعوت قبول کروں تو ڈرائیور کے عتاب کا شکار، اگر نہ کروں تو بداخلاق کہلاؤں۔ مجبوراً مجھے اس کو پیسے دے کر فارغ کرنا پڑا۔

مولانا عبیداللہ سندھی
 مولانا عبیداللہ سندھی جیسی شخصیت کی والدہ سکھ تھیں اورمرتے دم تک رہیں اور وہ ایک سعادتمند بیٹے کے طورپر ان کی خدمت کرتے رہے، انہیں یہ خطرہ کبھی محمسوس نہیں ہوا کہ کوئی ان کی والدہ کے عقائد کی بناء پر ان کے اسلام پر شک کریگا
بعد میں مجھے خیال آیا کہ اللہ جو کرتا ہے اچھا ہی کرتا ہے عین ممکن ہے واپس آتے ہوئے وہ غصے کے عالم میں احمدیوں کا کھانا کھانے کے الزام میں، مجھے قتل کرکے کہیں پھینک دیتا۔

ایسے ہی ایک بار جھنگ جانے کا اتفاق ہوا۔ مولانا اعظم طارق مرحوم وہاں سے ایک ضمنی انتخاب میں امیدوار تھے۔ میں بس اسٹاپ پر جو ہوٹل تھا اسی میں ٹھہر گیا اور دوسرے دن ان کے انتخابی مرکز پر پہنچا۔ وہاں غالبا ً کوئی مولانا فاروقی تھے،جومولانا اعظم طارق کی انتخابی مہم کے نگراں تھے۔ انہوں نے تعارف کے فوراً بعد سوال کیا ’ آپ ٹھہرے کہاں ہیں‘۔

میں نے ہوٹل کا پتہ بتایا تو بھڑک اٹھے ’ وہ تو ہمارے دشمنوں کا ہوٹل ہے،
میں گڑ گڑانے لگا ’ حضرت مجھے آپ کے دشمنوں سے کیا لینا دینا میں تو یہاں انتخاب کی رپورٹنگ کرنے آیا ہوں‘۔

کہنے لگے کہ ’ نہیں جب آپ یہاں آئے تھے تو ہم سے رابطہ کرتے ہم آپ کی رہائش کا انتظام کرتے‘۔

بہر حال جب انتخاب میں مولانا اعظم طارق کامیاب قرار دیےگئے تو رات کو ان کا ٹیلیفون آیا ’دیکھیے یہ خبر پاکستان ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر تو آئے گی نہیں آپ کسی طرح بی بی سی کی صبح کی خبروں میں دیدیں‘۔

اتفاق سے اسی دن سندھ کے وزیر اعلیٰ جام صادق علی کا انتقال ہوا تھا۔ میں نے مولانا سے کہا کہ آپ لندن بی بی سی اردو سروس کو ٹیلیفون کرکے بتائیں کہ میں اس نمبر پر ہوں وہ مجھے ٹیلیفون کر لیں ۔

اس روز ہمارے ساتھی وسعت اللہ خان ڈیوٹی پر تھے ان کا ٹیلیفون آیا تو میں نے خبر ریکارڈ کرائی اور یہ درخواست کی کہ اگر آپ میری صحیح سلامت واپسی کے خواہاں ہیں تو پروگرام میں یہ خبر شامل کرلیں، صبح کو مولانا کا ٹیلیفون آیا۔ بڑے خوش تھے انہوں نے دوبارہ ملاقات کی خواہش ظاہر کی لیکن مجھ میں ہمت نہیں تھی کہ کہیں پھر کسی بات کا برا مان گئے تو کیا ہوگا۔

آپ نے عام طور پرلوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہوگا کہ’دو موزیوں میں ہو کھٹ پٹ تو اپنے بچاؤ کی صورت کرو جھٹ پٹ‘۔

اب یہاں یہ عالم ہے کہ جدھر دیکھو دو موزی آپس میں دست وگریبان ہیں۔
آپ کا ضمیر ان کی تعریف کی اجازت نہیں دیتا، ان پر تنقید کرنے کے لئے سرمد و منصور کا دل گردہ چاہئیے۔ جو کہنا چاہتا ہوں اس کی ہمت نہیں ہوتی، نہیں کہتا ہوں تو ضمیر کچوکے لگاتا ہے، مجبوراً چونکہ چنانچہ اور اگر مگر، میں پناہ لینی پڑتی ہے۔

اسی بارے میں
’شرپسند پھر بچ نکلے‘
18 March, 2006 | قلم اور کالم
ہند-پاک مذاکرات صحیح راستے پر
01 April, 2006 | قلم اور کالم
پاک جمہوریت امریکی ایجنڈے پر
08 April, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد