BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 April, 2006, 09:28 GMT 14:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہند-پاک مذاکرات صحیح راستے پر

فائل فوٹو: امرتسر۔ننکانہ صاحب بس سروس کا افتتاح
گزشتہ ہفتے کے دوران کوئی ایسی بات نہیں ہوئی جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ دنیا زیادہ خوشگوار جگہ بن گئی ہے یا بننے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ عراق سے روزانہ دس بیس ہلاکتوں کی خبروں کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ اب افغانستان سے بھی اسی طرح کی ایک دو خبریں باقاعدگی سے آنے لگی ہیں۔

ادھر ایران اور امریکہ میں بھی تنا تنی کا ماحول برقرار ہے اور جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق ادارے کے سربراہ جناب محمد البرادعی کے’ ابہام زدہ‘ بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ کبھی ان کے بیان سے یوں لگتا ہے کہ ایران زیادتی کر رہا ہے کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔

عراق کے سلسلے میں بھی ان کے بیانات کچھ ایسے ہی ہوا کرتے تھے۔ میں انکے بارے میں یوں تو کچھ نہیں جانتا لیکن اپنے بیانات کی وجہ سے مجھے ان لوگوں کی طرح لگتے ہیں جو سڑک پار کرتے ہوئے کبھی آگے جاتے ہیں کبھی پیچھے اور عموماً یہ کیفیت ایک ناخوشگوار صورتحال پر ختم ہوتی ہے۔ایران کے بارے میں بھی ان کے بیانات سے مجھے خدشہ ہی محسوس ہوتا۔

بہر حال اس عرصے میں یہ اچھی خبر آئی ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تجارت کےفروغ سے متعلق حالیہ بات چیت بہت کامیاب رہی اور دونوں ملکوں نے آپس میں تجارت بڑھانے کی راہ میں موجود رکاوٹیں دورکرنے سے متعلق بعض سنجیدہ اقدامات کرنے کا فیصلہ کیاہے۔

مثلاً دونوں نے ایک دوسرے کے شیڈول بنکوں کی شاخیں کھولنے پر اتفاق کیا ہے، جہازرانی کے نئے سمجھوتے پر آپس میں اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ دونوں ملکوں نے اپنے باسمتی چاول کے مشترکہ رجسٹریشن کا جائزہ لینے پر بھی اتفاق کیا ہے، اس طرح وہ عالمی منڈی میں اپنی اجارہ داری قائم رکھ سکیں گے۔

دونوں ملک باسمتی چاول کے مشترکہ پیٹنٹ پر غور کررہے ہیں
اگر دونوں ممالک چاول کے مشترکہ رجسٹریشن کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو اس سے دوسرے شعبوں میں بھی مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی راہ کھل جائے گی۔ ہندوستان سے چائے کی درآمد کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیئے دونوں ملکوں میں وفود کے تبادلے بھی ہونگے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں چائے سب سے مقبول مشروب ہے اور ایک اندازے کے مطابق وہ برطانیہ کے بعد چائے درآمد کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے اور خیال ہے کہ چار سال بعد یعنی 2010 تک وہ برطانیہ کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔

اس مد میں پاکستان سالانہ کوئی بارہ ارب روپے سے زیادہ کا زرمبادلہ خرچ کرتا ہے۔ یہ چائے 1971 سے پہلے سابق مشرقی پاکستان سے آتی تھی اور اب بعض افریقی ملکوں سے منگائی جاتی ہے، کچھ سری لنکا سے بھی آنے لگی ہے۔ اگر ہندوستان سے اس سلسلے میں کوئی سمجھوتہ ہوجاتا ہے تو یہ دونوں ملکوں کے لیئے فائدہ مند ہوگا، ہندوستان کو اپنی چائے کےلئے دنیا کی دوسری سب سے بڑی منڈی مل جائے گی اور پاکستان کو سستی چائے۔

پھر دونوں ملکوں نے ویزہ کے حصول کو اور آسان بنانے کے امکانات کا بھی جائزہ لینے پر اتفاق کیا ہے۔ اگرچہ ہر ایسی ملاقات کے بعد ویزے کے بارے میں اسطرح کے اعلانات سننے میں آتے ہیں لیکن یوں لگتا ہے کہ یہ اعلانات رسمی نوعیت کے ہوتے ہیں، دونوں میں سے کوئی بھی اس میں حقیقی دلچسپی نہیں رکھتا۔

اب اس میں کیا قباحت ہے یہ سمجھ میں نہیں آتا۔ اگر یہ خطرہ ہے کہ ویزہ آسان کردیا گیا تو دہشت گرد یا ایک دوسرے کے جاسوسوں کی آمد جامد آسان ہوجائے گی تو عرض ہے کہ دہشت گرد یا جاسوس اگر ویزے اور پاسپورٹ کے چکر میں پھنستے تو سی آئی اے، آئی ایس آئی اور را سمیت دنیا کے سارے جاسوسی ادارے اور ایجنسیاں بند کرنی پڑتیں۔

سوچنا یہ چاہیئے کہ جہاں دوچار لاکھ آدمی آئے جائیں گے وہاں اگر دوچار دہشت گرد یا جاسوس بھی چلے آئے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ وہ جو دوچار لاکھ افراد کی آمدورفت سے آپس میں خیرسگالی فروغ پائے گی اور تجارت بڑھے گی، اس کی مدد سے تخریب کاری کی دو چار وارداتوں سے پیدا ہونے والی بدمزگی پر قابو پالیا جائے گا۔ خوف اور اندیشوں کو مثبت اقدامات کی راہ میں حائل نہیں ہونے دینا چاہیئے۔

انڈین چائے کے لیئے پاکستان بہت بڑا مارکیٹ ہے
یہ بھی ہے کہ ہندوستان نے کوئی دس سال پہلے پاکستان کو انتہائی پسندیدہ ملک کا درجہ دیدیا تھا لیکن پاکستا ن کا کہنا ہے کہ جب تک کشمیر کا مسئلہ طے نہیں ہوجاتا وہ ہندوستان کو یہ اعزاز نہیں دے سکتا۔ یہ گڑ کھانے اور گلگلوں سے پرہیز کرنے والی بات ہے لیکن میرے نزدیک اس کی کوئی زیادہ اہمیت بھی نہیں ہے۔ دونوں ملکوں میں سرکاری سطح پر تجارت بڑھنی چاہیئے، ثقافتی وفود کے تبادلے ہونے چاہئیں اور آمد ورفت پرعائد پابندیاں ختم ہونی چاہیئیں، کشمیر کا مسئلہ بھی طے ہوجائے گا۔ صبح کے انتظار میں رات کو چراغ نہ جلانامیرے نزیک دانشمندی نہیں ہے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس مسئلے کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے ارباب اقتدار اسے اپنی مرضی کے مطابق حل کرنا چاہتے ہیں جس دن وہ اسے اپنے اور کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق حل کرنے کا فیصلہ کرلیں گے اس دن یہ مسئلہ طے ہوجائے گا۔

پاکستان کے ایک ممتاز دانشور خواجہ مسعود کے مطابق دنیا میں ہندوستان پاکستان کا کوئی دشمن نہیں ہے لیکن وہ دونوں خود ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔بہرحال دونوں کے درمیان حالیہ بات چیت اورصدر پرویز مشرف اور وزیراعظم منموہن سنگھ کے حالیہ بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ گزشتہ کوئی ساٹھ سال کی جذباتیت اور نعرے بازی پر سنجیدگی غالب آنے لگی ہے اور دونوں ملکوں کے حکمراں ہندو اور مسلمان کی طرح سوچنے کے بجائے ہندوستانی اور پاکستانی بن کے سوچنے لگے ہیں۔ میرے نزدیک یہ ایک مثبت اور خوش آئند تبدیلی ہے، اس کے نہ صرف ہندوستان اور پاکستان پر بلکہ پوری دنیا پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔

پاکستان ڈونر کانفرنس عالمی برداری کے بعد
کچھ توجہ اپنوں پر بھی ہو جائے: علی احمد خآن
ہوئے تم دوست ۔۔۔
باجوڑ میں بمباری اور پاک امریکہ تعلقات
ابو غریب’سب انتہا پسند‘
مغرب کی انتہا پسندی کی کتنی شکلیں؟
ایران اور امریکہ
امریکہ پاکستان سے اور کیا چاہتا ہے؟
عراق’شر پسند پھر فرار‘
کامیاب فوجی کارروائیاں، مگر شرپسند فرار !
اسی بارے میں
عراق کیلیے بھی ویتانام پالیسی
28 May, 2005 | قلم اور کالم
ایرانیوں نے اپنا صدر چن لیا
25 June, 2005 | قلم اور کالم
ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے
24 September, 2005 | قلم اور کالم
حکومت کی گول مول باتیں
01 October, 2005 | قلم اور کالم
ایک ذرا دیانتداری چاہیے
29 October, 2005 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد