BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 March, 2006, 13:16 GMT 18:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف سے امریکہ اور کیا چاہتا ہے

کین لونگسٹن
کیا امریکہ کو اب پرویز مشرف پر اتنا ہی اعتماد ہے۔
صدر بش پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر کل پاکستان پہنچے۔آج پاکستان کے صدر مشرف کی سرکاری رہائش گاہ میں ان کے اعزاز میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا ۔جس کے بعد دونوں صدور کے درمیان روبرو گفتگو ہوئی اور پھر باقاعدہ سرکاری سطح پر بات چیت ہوئی۔دونوں رہنماؤں نے ایک مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب بھی کیا۔

اگرچہ اخباری کانفرنس میں دونوں رہنماؤں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ ان کے درمیان بات چیت کامیاب رہی اور دہشت گردی کے خلاف دونوں میں تعاون بدستور جاری رہے گا اور آپس میں تجارت کے فروغ کی مزید کوششیں کی جائیں گی لیکن مشترکہ اخباری کانفرنس میں دیئے گئے جوابات کا بین السطور مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سب ٹھیک نہیں ہے۔

مثلاً دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے تعاون کی صدر بش کی جانب سے تعریف اور مزید تعاون کی ضرورت پر زور اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی تمام یقین دہانیوں کے باوجود امریکہ کے سرکاری حلقوں میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ القاعدہ کی قیادت پاکستان کے سرحدی علاقے میں روپوش ہے اور پاکستان اگر مزید کوشش کرے تو انہیں گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

بش اور مشرف
صدر مشرف قدم ملانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔

ادھر صدر مشرف کی اس بات سے کہ ان کی حکومت اس سلسلے میں ہر ممکن اقدام کر رہی ہے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ اس سلسلے میں امریکی حکومت کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے اب کچھ اکتا سے گئے ہیں۔

صدر بش نے بھارت سے جوہری تعاون سے متعلق ایک سوال کے جواب میں دوٹوک کہا کہ پاکستان سے اس میدان میں اس طرح کا تعاون نہیں ہوسکتا۔

مشکل یہ ہے کہ امریکی حکومت کے حلقوں میں یہ تصور عام ہے کہ جوہری توانائی کے سلسلے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے واقعے کے بعد پاکستان پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا ۔

ایران، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مجوزہ گیس پائپ لائن کے بارے میں بھی صدر بش نے اپنے تحفظات پوشیدہ نہیں رکھے۔ ہاں انہوں نے یہ ضرور کہا کہ پاکستان کی توانائی کی ضرورت کا انہیں احساس ہے اور اس سلسلے میں ان کے سیکرٹری توانائی سام بالڈوین جلد ہی پاکستان کا دورہ کریں گے۔

اسطرح کے دوروں کی منصوبہ بندی بہت پہلے ہوجاتی ہے اور جن امور پر بات چیت ہونی ہوتی ہے ان کے بارے میں فیصلے بھی بہت پہلے کر لیئے جاتے ہیں ان موقعوں پر انہیں ایک باقاعدہ شکل دینے کےلیئے کچھ تکلفات کا اہتمام کیا جاتا ہے جو ظاہر ہے کئے گئے۔

تاہم ایک بات جو طے ہے اور جس کا احساس صدر بش کو بھی ہوگا کہ صدر پرویز مشرف سے ان کے تعلقات کی نوعیت جو بھی ہو پاکستانی عوام ان سے سخت ناراض ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا کہ پاکستانی عوام اس سے زیادہ ناراض ہیں جتنا کہ ملک کی حزب اختلاف اور بالخصوص مذہبی جماعتوں کی جانب سے مظاہرہ کیا جارہا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی عوام امریکہ کے خلاف اپنا غصہ صدر مشرف پر اتارتے ہیں اس لیئے کہ ان کے خیال میں پاکستان کے صدر علاقے میں صدر بش کی پالیسیوں کے علمبردار ہیں۔

میں سمجھتا ہوں اس دورے میں جس بات کو بہت زیادہ بلکہ بنیادی اہمیت حاصل تھی اور ہے وہ ایران اور پاکستان کے تعلقات ہیں۔

صدر بش کی یہ کوشش ہے کہ ایران کے خلاف ان کی پالیسی کا پاکستان اسی طرح ساتھ دے جیسے کہ طالبان کے معاملے میں اس نے دیا تھا یا دے رہا ہے۔

یعنی اگر ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف اقوام متحدہ اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کا فیصلہ کرتی ہے تو پاکستان کے تعاون کے بغیر یہ موثر نہیں ہوسکتیں اور صدر بش یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اس کو موثر بنانے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ رکھے۔

اس سلسلے میں پاکستان تذبذب کا شکار نظر آتا ہے۔لیکن مشکل یہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں پاکستان کی حیثیت ہمیشہ ایک کمزور فریق کی رہی ہے۔

کسی بھی پاکستانی حکومت نے کسی بھی معاملے میں کبھی امریکی حکومت سے’نہ‘ نہیں کی ہے۔

بہت تیر مارا ہے تو ایک ہلکی سی شکایت کردی اور وہ بھی اس خوف کے ساتھ کہ کہیں یہ شکایت بھی ناگوار نہ گزر جائے۔

عام خیال ہے کہ جب کوئی حکومت امریکہ سے اکڑنے کی کوشش کرتی ہے تو اس کے خلاف کسی بھی بہانے سے کوئی تحریک شروع ہوجاتی ہے اور دیکھتے دیکھتے معمولی نوعیت کا احتجاج ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔

بھٹو مرحوم کے آخری دور میں بھی یہ بات عام طور پر کہی جاتی تھی کہ امریکہ بھٹو حکومت سے خوش نہیں ہے۔اب یہ بات کتنی صحیح ہے یہ تو بتانا مشکل ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ بھٹو حکومت اتنی غیرمقبول نہیں تھی جتنی کہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس کا تختہ الٹ دیا گیا۔

پھر جنرل ضیاءالحق مرحوم کے آخری دور میں بھی یہ بات مشہور ہوگئی کہ امریکہ ان سے بہت زیادہ خوش نہیں۔

ادھر پاکستان کے سیاسی رہنما بھی، خواہ حزب اختلاف سے تعلق رکھتے ہوں یا حزب اقتدار سے، یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ امریکہ کی انہیں حمایت حاصل ہے۔

اپنی بی بی بے نظیر کے بارے میں تو یہ خبر بھی آئی تھی کہ ان کی وزارت عظمیٰ کے دور میں ایک بار انہیں بھنک ملی کہ ان کی حکومت کا تحتہ الٹنے کی سازش ہو رہی ہے تو انہوں نے رات کے وقت موجودہ صدر بش کے والد بش اول کو جو اس زمانے میں امریکہ کے صدر تھے رات کو سوتے میں جگا دیا اور اپنی حفاظت کی درخواست کی۔

کارگل کی لڑائی میں بھی صدر کلنٹن نےاس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف کو ہدایت کی کہ فوری طور پر اپنی فوجیں واپس بلاؤ اور انہوں نے بلا لیں اور خیال ہے کہ پرویز مشرف سے یہی مسئلہ تنازعہ کا باعث بنا۔

یہ خبریں بظاہر قصے قصائد کی شکل میں سامنے آتی ہیں اس لیئے ان کے بارے میں وثوق سے تو کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن بقول شخصے مبالغہ کی بھی کوئی بنیاد ضرور ہوتی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر پرویز مشرف اس صورتحال سے جو یقیناً ایک بڑی مشکل صورتحال ہے اپنے آپ کو بہت زیادہ نقصان پہنچائے بغیر کیسے نکالتے ہیں۔

اسی بارے میں
سیاست، پروپیگنڈا کے کارخانے
18 February, 2006 | قلم اور کالم
بش جوچاہتے، دنیا نہیں چاہتی
28 January, 2006 | قلم اور کالم
اپنے مسائل خود مل بیٹھ کر حل کیجئے
04 February, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد