BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 March, 2006, 11:43 GMT 16:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’شرپسند پھر بچ نکلے‘

عراق
ملک خانہ جنگی کے دہانے پر کھڑا نظر آرہا ہے
عراق کے خلاف فوجی کارروائی کے تین سال 20 مارچ یعنی پیر کے روز مکمل ہو جائیں گے۔ اگر جائزہ لیا جائے کہ اس عرصے میں عراقیوں اور حملہ آور افواج نے کیا کھویا اور کیا پایا تو بڑے مایوس کن نتائج برآمد ہوں گے۔

پہلی بات تو یہ کہ تین سال ہونے کو آئے اور ہنوز روز اول والی کیفیت ہے اور آج بھی یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔ حالانکہ پہلی جنگ عظیم چار سال میں ختم ہوگئی تھی اور دوسری پانچ سال میں، لیکن تین سال کے بعد ہی محوری طاقتوں کی شکست کے آثار نظر آنے لگے تھے۔

اس جنگ کے بارے میں اگر کوئی بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے تو صرف یہ کہ اب تک 23 سو سے زیادہ امریکی فوجی مارے جاچکے ہیں، کوئی 17000 زخمی ہوچکے ہیں، ایک سو برطانوی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں اور ہلاک ہونے والے عراقیوں کی صحیح تعداد کا علم نہیں ہے۔ مختلف اندازوں کے مطابق یہ تعداد ایک لاکھ کے لگ بھگ ہے جبکہ ملک خانہ جنگی کے دہانے پر کھڑا نظر آرہا ہے۔

یہاں تک کہ صدام حسین کو بھی اپنے مقدمے کی سماعت کے دوران یہ اپیل کرنی پڑی کہ ’ آپس میں مت لڑو صرف قابض فوجیوں کو مارو‘ اور تازہ ترین یہ ہے کہ امریکی افواج نے، سامرہ کےقریب مبینہ شرپسندوں کے خلاف جمعرات کے روز ایک بڑی کارروائی شروع کی ہے، اتنی بڑی کہ گزشتہ تین سال میں نہیں ہوئی تھی۔

اطلاعات یہ ہیں کہ اس کارروائی کے پہلے دن 48 افراد گرفتار ہوئے تھے جن میں سے 17 کو ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد رہا کردیا گیا۔ کچھ اسلحہ اور بم وغیرہ بنانے کا سامان بھی ہاتھ آیا ہے۔

امریکی فوجی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور کاروائی کامیاب رہی۔

لیکن دوسرے دن یہ اطلاع آئی کہ شرپسندوں، کے سرغنے بچ نکلے۔

یہ بات میری سمجھ میں آج تک نہیں آسکی کہ گزشتہ تین سال میں عراق میں اور گزشتہ پانچ سال میں افغانستان میں جتنی بھی کارروائیاں ہوئیں وہ سب کامیاب رہیں لیکن شرپسندوں کا سرغنا یا سرغنے اورخود شرپسند بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔

فلوجہ میں اتنی بڑی کارروائی ہوئی، شہر کا کئی دنوں تک محاصرہ رہا، اتنی بمباری اور گولہ باری ہوئی کہ دیکھتے دیکھتے پورا شہر کھنڈر بن گیا۔ لیکن شرپسند اور انکے سرغنے بچ نکلے۔ یہی شام کی سرحد کے قریب ایک کارروائی میں ہوا، یہی تکریت میں ہوا۔غرض جہاں بھی کارروائی ہوتی ہے، وہ کامیاب قرار پاتی ہے ، اس کے نتیجے میں کچھ بے گناہ مارے جاتے ہیں لیکن جن کے خلاف کارروائی ہوتی ہے وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

افغانستان میں بھی اتنی گولہ باری اور بمباری کی گئی کہ تورا بورا کے غارجو پہلے ہی بہت گہرے تھے اور گہرے ہوگئے ہوں گے لیکن اسامہ بن لادن اور ملا عمر بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔

یہی کچھ اس سال جنوری میں پاکستان کے قبائلی علاقے میں ہوا کہ ایک گاؤں پر میزائیل داغ دیئے گئے جس میں کچھ گھر تباہ ہوگئے اور اچھے خاصے لوگ مارے گئے اور جب پاکستان نے شکایت کی تو یہ کہہ دیا گیا کہ وہاں القاعدہ کی بعض اہم شخصیتوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔

اس صورتحال سے اتحادی فوجیوں میں بھی بیزاری بڑھ رہی ہے۔ برطانوی فضائیہ کے ایک ڈاکٹر نے عراق واپس جانے سے انکار کردیا ہے اس پر ایک فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کی تیاری ہورہی ہے۔ فلائٹ لفٹیننٹ مالکم کینڈل اسمتھ کا کہنا ہے کہ یہ جنگ غیر قانونی ہے اوروہ اس میں شرکت نہیں کرسکتے۔

برطانیہ کی خصوصی فوج ایس ۔ اے ۔ایس کا ایک جوان پہلے ہی عراق سے واپس آچکا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ سیاستدانوں نے اس جنگ کو جھوٹے الزامات کی بنیاد پر شروع کیا تھا۔

جنگ کے مخالفین کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے اورآج لندن سمیت دنیا کے بیشتر بڑے شہروں میں جنگ کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں۔

یہاں لندن سے شائع ہونے والے ایک اخبار میں ایک تبصرہ شائع ہوا ہے جس میں عراق کے ایک برطانوی سکیورٹی کنٹریکٹر نے اپنے امریکی ہم منصبوں پر نکتہ چینی کرتے ہو کہا ’میں شر پسندوں سے زیادہ ان بدمعاشوں سے نفرت کرتا ہوں‘۔ تبصرے میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کی خصوصی افواج اور عام فوجیوں میں یہ خیال عام ہے کہ امریکی لوگوں کا دل جیتنے کے بجائے اپنے اسلحے پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

حال ہی میں آسکر ایوارڈ جیتنے والے امریکی اداکار جارج کلونی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ انہیں دھوکے سےاس جنگ کی حمایت پر آمادہ کیا گیا وہ بکواس کرتے ہیں انہوں نے جنگ کی صرف اس لیئے مخالفت نہیں کی کہ کہیں ان کی حب الوطنی نہ مشکوک ہوجائے۔

نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ ایران نے امریکہ کی ایک سابقہ درخواست کو قبول کرتے ہوئے عراق میں امن وامان کے قیام میں مدد دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ امریکہ کی جانب سے یہ درخواست غالباً گزشتہ سال کی گئی تھی۔ اگرچہ عراق میں امریکی سفیر زلمے خلیل زاد ایران کی مدد حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن امریکی حکومت کو کچھ خجالت محسوس ہورہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ کہیں یہ ایران کے جوہری پروگرام سے توجہ ہٹانے کی ترکیب نہ ہو۔

میں نے کہیں ایک لطیفہ پڑھا تھا کہ ایک دن بیربل کو دربار میں آنے میں دیر ہوگئی اکبر بادشاہ سخت غصے میں تھے، پورے دربار میں ایک سناٹے کی کیفیت تھی، ہر درباری گھبرایا ہوا تھا کہ دیکھیئے کس پر غضب نازل ہوتا ہے کہ اتنے میں بیربل داخل ہوئے اور بھانپ گئے کہ آج خیر نہیں ہے۔ بچاؤ کی کوئی ترکیب سوچ ہی رہے تھےکہ بادشاہ کی گرجدار آواز سنائی دی’ اگر تم نے تاخیر سے آنے کا مناسب سبب نہیں بتایا تو تمہارا سر قلم کردیا جائے گا‘۔

بیربل کے ہوش اڑ گئے اور تو کچھ سمجھ میں نہیں آیا، بادشاہ کے پیر پکڑ لیئے اور بڑی لجاجت سے کہا ’ عالم پناہ کیا مروائے بغیر نہیں چھوڑیں گے؟

یہ سنتے ہی بادشاہ مسکرادیا۔اب اس جملے کا بادشاہ نے کیا مطلب لیا یہ تو میں نہیں جانتا لیکن بیربل کی جان بچ گئی اور پورے دربار نے اطمینان کا سانس لیا۔ کبھی کبھی میرا بھی دل چاہتا ہے کہ صدر بش اور وزیراعظم ٹونی بلیئر کے قدموں سے لپٹ جاؤں اور یہی جملہ دہراؤں ممکن ہے کوئی بہتری کی صورت پیدا ہوجائے۔

اسی بارے میں
باہر کے اتحادی کی خوشی اور قیمت
19 June, 2004 | قلم اور کالم
قدم ملا کے چلتے جائیں
26 July, 2004 | قلم اور کالم
آج 14 اگست ہے
14 August, 2004 | قلم اور کالم
دودھ میں مینگنی
28 August, 2004 | قلم اور کالم
ساٹھ سال کی شاعری
25 April, 2005 | قلم اور کالم
کہیں یونہی نہ چلتارہے
13 August, 2005 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد