پاک جمہوریت امریکی ایجنڈے پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سرکاری اور سیاسی حلقوں میں عام انتخابات کا موضوع یوں تو بہت دنوں سے زیربحث ہے لیکن اب اس کے بارے میں زیادہ سنجیدگی سے بات کی جارہی ہے۔ تاہم عام خیال یہ تھا کہ انتخابات آئندہ سال یعنی 2007 کے دوسرے نصف میں کرادیئے جائیں گے لیکن پاکستان کے وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن نیازی کے تازہ ترین بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ 2007 کے اؤاخر میں صرف انتخابات کا اعلان کیا جائے گا، انتخابات ہوں گے 2008 کے شروع میں۔ صدارتی انتخاب کے بارے میں ڈاکٹر صاحب نے کوئی قطعی بات نہیں بتائی صرف یہ کہا کہ صدر کا انتخاب موجودہ اسمبلیاں بھی کرسکتی ہیں اور نئی اسمبلی بھی۔ اس سے غالباً وہ یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ یہ صدر کی صوابدید پر ہے کہ وہ کن اسمبلیوں سے منتخب ہونا چاہتے ہیں۔ ادھرجنوبی اور وسطی ایشیا سے متعلق امریکہ کےنائب وزیرخارجہ رچرڈ باؤچر بھی گزشتہ دنوں پاکستان آئے تھے اور یہاں قیام کے دوران انہوں نے نہ صرف صدر مشرف اور وزیرخارجہ محمود قصوری سے ملاقات کی بلکہ حزب اختلاف کے اتحاد اے آر ڈی کے نمائندوں یہاں تک کہ چیف الیکشن کمشنر سے بھی مل لیئے۔ ان کے اس دورے سے متعلق اب تک جو خبریں آئی ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا مقصد پاکستانی حکام یا سیاسی رہنماؤں سے دوطرفہ یا بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال نہیں تھا بلکہ پاکستان کے داخلی امور کا جائزہ لینا تھا اور ان کےبارے میں اپنی تسلی کرنی تھی۔ ایک ٹیلیویژن چینل پر ان کا انٹرویوں دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا، اس میں انہوں نے ہر معاملے پر اپنی رائے بہت صاف اور واضح الفاظ میں دی۔ صرف تین امور ایسے تھے جو انہوں نے صدر مشرف کے لیئے چھوڑ دیئے، ایک تو ان کی وردی دوسرا سابق وزراء اعظم نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی اور تیسرا وزیرستان میں گڑ بڑ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کے داخلی معاملات ہیں۔ باقی معاملات جن کے بارے میں انہوں نے اپنی رائے ظاہر کی وہ بھی مجھے ہر اعتبار سے داخلی ہی لگتے ہیں لیکن ان کے بارے میں انہوں نے جوابات دیتے ہوئے کوئی جھجھک محسوس نہیں کی۔ مثلاً پاکستان کے مجوزہ انتخابات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ آزادانہ اور منصفانہ ہونے چاہئیں اور ان میں امریکہ تمام سیاسی جماعتوں کی شرکت ممکن بنانا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان میں سویلین قیادت اور جمہوری عمل کے قیام کا خواہشمند ہے۔ بلوچستان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ امریکہ مسئلے کا سیاسی اور اقتصادی حل چاہتا ہے، فوجی نہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ پاکستان کی معیشت کی ترقی اور یہاں ایک جدید معاشرے اور جمہوری حکومت کے قیام کا متمنی ہے۔ کشمیر کے قضیے کے بارے میں انہوں نے فرمایا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اس سلسلے میں جو مذاکرات ہورہے ہیں امریکہ ان کا خیرمقدم کرتا ہے، مزید یہ کہ اس کی خواہش ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیئے کئے جانے والے اقدامات صحیح سمت میں آگے بڑھتے رہنے چاہئیں۔ حزب اختلاف کے اتحاد اے آر ڈی کے جن رہنماؤں نے ان سے ملاقات کی اس میں پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے مخدوم امین فہیم اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما راجہ ظفرالحق شامل تھے۔ دونوں رہنماؤں نے شفاف انتخابات کے حوالے سے اپنی سفارشات پر مبنی ایک ورکنگ پیپر بھی رچرڈ باؤچر کو پیش کیا اور بعد میں اس ملاقات کو مفید قراردیتے ہوئے انہوں نے بتایا ہے کہ رچرڈ باؤچر سے بات چیت میں جو موضوعات زیرغور آئے ان میں پاکستان میں غیر جمہوری کارروائیاں، اپوزیشن لیڈروں کے خلاف انتقامی اقدامات، جلاوطن رہنماؤں کی وطن واپسی، صدر مشرف کی وردی سمیت دوسرے امور شامل تھے۔ ملاقات کے بعد ان رہنماؤں نے یہ مژدہ بھی سنایا کہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت کی بحالی جو امریکی ایجنڈے میں بہت نیچے چلی گئی تھی، اب اوپر آگئی ہے۔ میں نہیں جانتا کہ اے آر ڈی رہنماؤں کی مصلحتیں کیا ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے سیاسی رہنماؤں کو ایسی باتوں کے لیئے اپنے عوام پر زیادہ اعتماد کرنا چاہیئے۔ اس لیئے کہ کسی بھی ملک میں جمہوریت کی بحالی ہو، اس کا فروغ ہو یا اس کا استحکام عوام کی حمایت سے ہی ہوسکتا ہے اور پاکستان کے عوام نے تو پاکستان کی تحریک سے لے کر جنرل ضیا کے زوال تک جمہوریت کی بحالی کے لیئے بڑی قربانیاں دی ہیں اب یہ دوسری بات ہے کہ سیاسی رہنماہی ان کی توقعات پر پورے نہیں اترے اور ان کو بار بار مایوس کرتے رہے۔ ان رہنماؤں کو چاہیئے کہ وہ باؤچر سے بھی ملیں لیکن اپنے عوام کے سامنے بھی جائیں اور اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ماضی میں ان سے کچھ کوتاہیاں ہوئی ہیں تو ان کا اعتراف کریں اور آئندہ نہ کرنے کا یقین دلائیں اور ان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں کہ یہی صراط مستقیم ہے۔ امریکہ ہو یا کوئی اور ملک، اپنی حمایت کی قیمت وصول کرے گا لیکن پاکستان کے عوام تو صرف یہ چاہیں گے کہ آپ جو کہہ رہے ہیں اس پر قائم بھی رہیں۔ | اسی بارے میں فارورڈ بلاک یا ذاتی اختلافات17 December, 2005 | قلم اور کالم بالا کوٹ: ایک بڑی سی قبر10 October, 2005 | قلم اور کالم ایک ذرا دیانتداری چاہیے29 October, 2005 | قلم اور کالم زلزلے سے کیا سیکھا جا سکتا ہے05 November, 2005 | قلم اور کالم اے خانہ بر اندازِ چمن کچھ تو . . . 19 November, 2005 | قلم اور کالم صدر بش کی عجیب پالیسی03 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||