BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 April, 2006, 13:31 GMT 18:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ میں قربانی کے بکرے کی تلاش

رمزفیلڈ
لگتا ہے کہ اگر سابق جنرلوں کی طرف سے اعتراضات کا یہ سلسلہ جاری رہا تو محض صدر بش کی حمایت پر مسٹر رمزفیلڈ کا اپنے عہدے پر برقرار رہنا مشکل ہوجائے گا
صدر جارج بش نے ایک بار پھر اپنے وزیردفاع مسٹر رمزفیلڈ کو اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے وزیردفاع کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور انہیں یعنی صدر بش کو ان کی صلاحیتوں پر پورا اعتماد ہے۔

صدر بش کو اس یقین دہانی کی دوبارہ ضرورت یوں محسوس ہوئی کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسٹر رمزفیلڈ کے استعفے کے لئے دباؤ بڑھ رہا ہے اور پہلے تو صرف اخبارات اور ٹیلیویژن کے تبصروں تک ہی بات محدود تھی اب سابق فوجیوں نے بھی اعتراضات شروع کردیے ہیں۔

اب تک چھ سابق جنرل مسٹر رمزفیلڈ کی قیادت پر اعتراض کر چکے ہیں اور ایک سابق جنرل بتستے نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ ’ہمیں ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو فوج کا اسی طرح احترام کرے جس طرح وہ فوج سے اپنا احترام کرانا چاہتی ہے‘۔

اخباری اطلاعت کے مطابق جنرل بتستے عراق کی جنگ میں ایک فوجی ڈویژن کی کمان کر چکے ہیں۔ یوں تو اس سے پہلے بھی جو سابق جنرل مسٹر رمزفیلڈ کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں وہ سب کے سب اہم حیثیتوں میں عراق کی جنگ سے وابستہ رہے ہیں لیکن جنرل بتستے کے اس بیان کو اس لئے زیادہ اہمیت دی جارہی ہے کہ وہ سابق نائب وزیردفاع مسٹر ولفووٹز کے بہت قریب بتائے جاتے ہیں اور مسٹر ولفووٹز کا شمار محترمہ کونڈلیزا رائس اور رمزفیلڈ کے ساتھ ان لوگوں میں ہوتا ہے جو عراق سے متعلق پالیسی بنانے میں پیش پیش تھے۔

 ان سابق جنرلوں کے تابڑ توڑ بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ کونڈلیزا رائس کی طرف سےغلطیوں کا اعتراف محض ایک جملہ معترضہ نہیں تھا بلکہ’ روئے سخن‘ مسٹر رمزفیلڈ کی جانب تھا اورغالباً وہ بھی سمجھتی ہیں کہ عراق کی موجودہ صورتحال کی کچھ ذمہ داری مسٹر رمزفیلڈ پر بھی عائد ہوتی ہے
اگرچہ مسٹر ولفووٹز اب امریکی انتظامیہ سے وابستہ نہیں رہے اور عالمی بینک کے صدر بن گئے ہیں لیکن ظاہر ہے امریکی انتظامیہ میں ان کا بھی ایک حلقہ ہوگا اس لئے جنرل بتستے نے جو کچھ کہا ہے اس کو محض ان کی ذاتی رائے سمجھنا غلطی ہوگی۔

اس سے پہلے امریکی وزیرخارجہ محترمہ کونڈلیزا رائس برطانیہ کے دورے پر آئی تھیں اور انہوں نے یہاں ایک تقریر کے دوران یہ اعتراف کیا تھا کہ عراق میں بہت سی غلطیاں ہوئی ہیں لیکن صدام حسین کو اقتدار سے ہٹانے کا اقدام بہت صائب تھا۔

اس وقت کسی نے ان کے اس بیان کو بہت سنجیدگی سے نہیں لیا اور عام خیال تھا کہ غلطی کا اعتراف دراصل عراق سے متعلق اپنی حکومت کی پالیسی کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کی ایک منکسارانہ کوشش ہے لیکن ان کے اس بیان کے کچھ ہی دنوں بعد امریکی وزیرخارجہ ڈونلڈ رمزفیلڈ سے جب کسی صحافی نے ان غلطیوں کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے ذرا ترش روئی سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ وہ کن غلطیوں کا ذکر کررہی تھیں۔

اب ان سابق جنرلوں کے تابڑ توڑ بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ کونڈلیزا رائس کی طرف سےغلطیوں کا اعتراف محض ایک جملہ معترضہ نہیں تھا بلکہ’ روئے سخن‘ مسٹر رمزفیلڈ کی جانب تھا اورغالباً وہ بھی سمجھتی ہیں کہ عراق کی موجودہ صورتحال کی کچھ ذمہ داری مسٹر رمزفیلڈ پر بھی عائد ہوتی ہے۔

اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عراق کے حالات خراب ہوتے جارہے ہیں اور امریکی عوام کو بھی اس کا احساس ہوچلا ہے چنانچہ رائے عامہ کے جائزوں میں صدر بش اور ریپبلیکن پارٹی کی ساکھ بڑی تیزی سے گر رہی ہے اور نہ صرف حکومت بلکہ خود پارٹی کے حلقوں میں یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ اگر اس کو اس مرحلے پر سنبھالا نہیں گیا تو بہت دیر ہوجائے گی اور نہ صرف آئندہ صدارتی انتخابات بلکہ سنیٹ اور ایوان نمائندگان کے انتخابات میں بھی پارٹی کو مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

پھر یہ افواہ بھی زور پکڑتی دکھائی دے رہی ہے کہ امریکی حکومت ایران کے خلاف فوجی کاروائی بلکہ ’جوہری‘ کارروائی کے بارے میں سوچ رہی ہے ۔ عراق کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی کی حمایت میں امریکی رائے عامہ کو ہموار کرنا مشکل ہوگا۔

ایران کو بھی غالباً اس کا اندازہ ہے چنانچہ اس نے نہ صرف اپنے جوہری پروگرام پر کسی سمجھوتے سے انکار کردیا بلکہ اس کے لب ولہجے کی تندی میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

 برطانیہ میں تو گزشتہ عام انتخابات کے بعد بعض لوگوں کو قربانی کا بکرا بنا کر پیچھے دھکیل دیا گیا جن میں سابق وزیر دفاع جیفری ہون اور وزیراعظم کے قریبی مشیر شامل ہیں لیکن امریکہ میں ابھی اس طرح کی کوئی سیاسی ہلاکت سامنے نہیں آئی۔
ایک حالیہ بیان میں پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل یحیٰ رحیم صفوی نے امریکی حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’تم جنگ شروع کر سکتے ہو لیکن اس کو اختتام تک ہم پہنچائیں گے‘ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ تنبیہ بھی کردی کہ’ امریکیوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ علاقے میں ان کی فوج کتنی مشکل صورتحال سے دوچار ہے اس لئے وہ ایران پر حملے کی غلطی نہ کریں‘۔

گو ابھی تک کسی حاضر جنرل نے مسٹر رمزفیلڈ کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کی ہے لیکن لگتا ہے کہ اگر سابق جنرلوں کی طرف سے اعتراضات کا یہ سلسلہ جاری رہا تو محض صدر بش کی حمایت پر مسٹر رمزفیلڈ کا اپنے عہدے پر برقرار رہنا مشکل ہوجائے گا۔ ایسی صورت سے نمٹنے کے لئے دنیا کی ہر حکومت کو قربانی کے ایک بکرے کی ضرورت پڑتی ہے۔ امریکی حکومت اس سے مثتسنیٰ نہیں سمجھی جاسکتی اس کو بھی یقینی اس کی ضرورت محسوس ہورہی ہوگی۔

برطانیہ میں تو گزشتہ عام انتخابات کے بعد بعض لوگوں کو قربانی کا بکرا بنا کر پیچھے دھکیل دیا گیا جن میں سابق وزیر دفاع جیفری ہون اور وزیراعظم کے قریبی مشیر شامل ہیں لیکن امریکہ میں ابھی اس طرح کی کوئی سیاسی ہلاکت سامنے نہیں آئی۔

یوں تو اس مقصد کے لئے کسی کی بھی گردن پر چھری پھیری جاسکتی ہے لیکن فی الحال اس کے لئے مسٹر رمزفیلڈ کی گردن سب سے موزوں دکھائی دیتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد