دباؤ بڑھا ہے یا مشرف کی تنہائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی اٹھارہ ممتاز شخصیات کی طرف سے بالواسطہ طور پر صدر مشرف کو فوجی وردی اتارنے کے مشورے پر مبنی خط ملک میں اس وقت ایک بڑا زیر بحث موضوع ہے۔ مختلف حلقے اس خط میں پوشیدہ مفاہیم تلاش کر رہے ہیں۔ صدر، وزیراعظم اور پارلیمانی پارٹیوں کے قائدین کے نام اس خط میں کہا گیا ہے کہ حقیقی اور قابل اعتبار جمہوریت اس صورت میں شروع ہوسکتی ہے جب تمام ریاستی ادارے اپنے آپ کو آئین کے تحت فرائض اور ذمہ داریوں تک محدود رکھیں۔ اس بات کا لازمی مفہوم ہے کہ فوج سیاست سے علیحدہ ہو جائے اور صدر جنرل پرویز مشرف کا فوجی عہدہ چھوڑ دیں۔ پرویزمشرف کے وردی اتارنے کا مطلب یہ ہے کہ انہیں سیاسی طور پر کمزور کیا جائے تا کہ اقتدار پر ان کی گرفت ڈھیلی پڑ جائے۔
فوج کے سربراہ کا عہدہ چھوڑنے کے بعد مشرف کی طاقت کا کوئی منبع نہیں سوائے اس سرکاری جماعت کے جو خود جنرل مشرف کی وردی کی طاقت کے سہارے قائم ہے۔ اگر مشرف کی اپنی سیاسی حیثیت مضبوط ہوتی تو وہ پوری قوم کے سامنے سنہ دو ہزار پانچ کے آخر میں فوجی وردی اتارنے کے اپنے وعدے سے پیچھے نہ ہٹ جاتے۔ امریکہ کے پیسوں سے چلنے والے ایک غیر سرکاری ادارے پلڈیٹ کے زیر اہتمام ان ممتاز شخصیات میں تین سابق جرنیل اور زیادہ تر ایسے لوگ شامل ہیں جو صدر جنرل مشرف کے ساتھ ساتھ امریکہ کے بھی حامی سمجھے جاتے ہیں ماسوائے جنرل (ریٹائرڈ) حمید گل کے۔ جنرل مشرف کے اقتدار میں رہنے کے تقریبا سات سال بعد ان افراد کی جانب سے انہیں وردی اتارنے کا مشورہ دینے کے لیے اس وقت کا انتخاب اہم ہے۔ خط لکھنے والوں میں شامل لوگ جیسے جاوید جبار، جنرل تنویر نقوی اور جنرل (ر) معین الدین حیدر وغیرہ جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں شامل رہے ہیں۔ یہ خط ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب یہ خبریں عام ہیں کہ صدر جنرل پرویز مشرف جس طرح افغانستان اور طالبان کی ابھرتی ہوئی طاقت سے نپٹ رہے ہیں امریکہ اس سے خوش نہیں۔ امریکی میڈیا بھی جنرل مشرف کے بارے میں شکایات سے بھرا ہوا ہے۔ کچھ ہی دنوں پہلے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ(ن) نے ایک میثاق جمہوریت جاری کیا تھا جس کی اتحاد برائے بحالی جمہوریت نے بھی توثیق کی۔ سیاسی جماعتوں نے میثاق جمہوریت میں فوج کی سیاست سے علیحدگی پر اتفاق کیا تھا۔ یوں دیکھا جائے تو موجودہ خط بھی اسی موقف کا اثبات کرتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بےنظیر بھٹو نے اس خط کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایک عبوری حکومت بنا کر آزادانہ الیکشن کرائے جائیں۔ خط میں کہاگیا ہے کہ نازک مسائل کا حل مکالمے، مصالحت اور تعاون کے جذبے سے فوری طور پر تلاش کیا جانا ضروری ہے۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریاست کے تمام ادارے اور سیاسی تنظیموں کے قائدین کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہو۔ اس نکتہ کا عملی سیاست میں یہ مفہوم نکالا جاسکتا ہے کہ جنرل مشرف پیپلز پارٹی جیسی وسیع البنیاد سیاسی جماعت سے معاملات طے کریں اور اسے شریک اقتدار کریں۔
یوں یہ خط اے آر ڈی اور مجلس عمل کے درمیان ممکنہ اشتراک عمل کو روکنے اور جنرل مشرف اور حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں سے جنرل مشرف کی بات چیت کرانے کی ایک کوشش بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ تعجب نہیں کہ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ ریٹائرڈ جرنیل مذاکرات کا مشورہ حزب اختلاف کی جلد شروع کی جانے والی احتجاجی تحریک کو سبوتاز کرنے کے لیے دے رہے ہیں۔ جنرل مشرف نے اب تک خود اس خط پر تبصرہ نہیں کیا۔ ان کے وزراء ان لوگوں پر طعن تشعین کررہے ہیں جو جنرل مشرف کی حکومت کا حصہ رہے اور اب خط لکھنے والوں میں شامل ہیں۔ اس خط کو لکھنے والو ں میں فوجی انٹیلی جنس ادارہ آئی ایس آئی کے دو سابق سربراہ ریٹائرڈ جرنیل اسد درانی اور جنرل (ر) حمید گل اور ایک لبرل دانشور سمجھے جانے والے جرنیل (ر) طلعت مسعود اور قومی تعمیر نو بیورو کے سابق سربراہ جنرل (ر) تنویر نقوی شامل ہیں۔ فوج کے اعلی حلقوں میں ان سابق جرنیلوں کے دوست ہیں، ان کی بات بھی فوجی حلقوں میں سنی جاتی ہے اور اس پر بحث کی جاتی ہے۔ یہ خط فوج کے اندر جنرل مشرف کے مستقبل پر چہ مہ گوئیاں اور کُھس پُھس شروع ہونے کا باعث بن سکتا ہے۔ فوج کی سیاست سے علیحدگی پر پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور ممتاز شخصیات میں اتفاق رائے سے ایک ایسی فضا جنم لے رہی ہے جس میں جنرل پرویز مشرف کو فوجی افسروں کو مطمئن رکھنا اور ان میں اپنا اخلاقی جواز قائم رکھنا خاصا دشوار ہوسکتا ہے۔
پاکستان میں تاریخی طور پر رجحان رہا ہے کہ جب کسی حکمران کے اقتدار کے خاتمہ کا وقت قریب آتا ہے تو اس کے خلاف پہلے رائے عامہ تیار کی جاتی ہے اور سیاسی حلقوں میں اس کے فارغ کیے جانے پر اتفاق رائے قائم ہوتا ہے یوں بھی اس ملک میں حکمراں جمہوری طریقہ سے اقتدار نہیں چھوڑتے۔ کم سے کم اس وقت یہ کہا جاسکتا ہے کہ جنرل مشرف پر بڑی سیاسی جماعتوں سے بات چیت کر کے سمجھوتہ کرنے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے اور ان کی تنہائی میں اضافہ ہوا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||