جنرل پرویز مشرف کا سوشلزم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں کمی، سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں اضافہ، تمام دیہات تک بجلی، غریب نواز بجٹ تجاویز وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کے سرکاری اعلانات کی حد تک تو یوں لگتا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف سوشلسٹ ہوگئے ہیں۔ سولہ مئی کو حکمران جماعت کے لاہور اور قصور سے ارکان قومی اسمبلی نے ان سے ملاقات کے بعد کہا کہ صدر جنرل مشرف نے ان سے کہا ہے کہ حکومت کھانے پینے کی چیزوں پر رعایت دے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عام لوگوں کو یہ چیزیں موجودہ قیمتوں سے آدھی قیمتوں پر دستیاب ہوں۔ ان ارکان اسمبلی نے پریس کو یہ بھی بتایا کہ جنرل مشرف کا کہنا ہے کہ وہ وفاقی بجٹ کے آس پاس کے دنوں میں لوگوں کو پاکستان کے بارے میں اپنی بصیرت سے آگاہ کریں گے جس کا عنوان ہوگا ’پاکستان وژن‘۔ ارکان اسمبلی کے مطابق اس وژن میں عام لوگوں کے فائدے کے لیے اقدامات تجویز کیے جائیں گے اور ملک میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرف لوگوں کو یہ باتیں بتانے کے لیے ملک بھر کے دورے بھی کریں گے۔ وزیراعظم شوکت عزیز نے بھی چند روز پہلے یہ کہا تھا کہ ان کی حکومت نے غربت میں سات فیصد کمی کردی ہے اور قیمتوں میں استحکام ان کا اگلا ہدف ہے۔ وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس کے بارہ مئی کو ہونے والے ایک اجلاس سے خطاب میں صدر جنرل مشرف نے یہ بھی اعلان کیا کہ اگلے برس دسمبر تک ان کی حکومت ملک کے بیشتر ضلعی اور تحصیل کی سطح کے شہروں کو قدرتی گیس فراہم کردے گی۔ اس سے ایک دن پہلے جنرل مشرف نے فیصل آباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ وغیرہ سے ارکان اسمبلی سے ملاقات میں یہ بھی کہا تھا آئندہ مالی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بیس سے پچیس فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ وفاقی سیکریٹری حزانہ تنویر علی آغا نے بھی پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بریفنگ میں یہ بات کہی تھی کہ بجٹ میں سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں اضافہ کامنصوبہ ہے۔ پاکستان کے تقریبا اٹھائیس لاکھ سرکاری ملازمین (تئیس لاکھ سول اور پانچ لاکھ فوجی) کے لیئے یہ اچھی خبر کہی جاسکتی ہے۔ دوسری طرف، حکومت کے امور معاشیات کے مشیر اور ڈی فیکٹو (عملا) وزیر خزانہ سلمان شاہ نے لاہو رمیں ایک سیمینار میں کہا کہ جون میں پیش کیے جانے والے بجٹ میں حکومت کم آمدن والے لوگوں کو فائدہ پہنچائے گی اور یہ بجٹ غریب نواز ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت ٹیکسوں کی شرح کم کرے گی۔ اخبارات میں یہ خبریں بھی آرہی ہیں کہ حکومت دولت ٹیکس دوبارہ نافذ کرنے کے بارے میں غور کررہی ہے جسے کئی سال پہلے ختم کردیا گیا تھا۔ اگر یہ قدم اٹھایا گیا تو گزشتہ پندرہ سولہ برسوں میں پہلی بار حکومت کی جانب سے امیر طبقہ پر کوئی بڑا ٹیکس نافذ ہوگا۔ اب تک تو حکومت بجلی، گیس اور پیٹرول مہنگا کرکے عام لوگوں سے ہی آمدن وصول کرتی آرہی ہے۔ جنرل مشرف اور ان کی قائم کردہ حکومت کے مالی مشیروں کے بیانات سے یوں لگتا ہے کہ عام انتخابات سے ایک سال پہلے جنرل مشرف کوئی ایسا بجٹ پیش کرنا چاہتے ہیں جس سے حکومت کو ان لوگوں کی خیرسگالی حاصل ہوسکے جنہیں عرف عام میں عام لوگ کہا جاتا ہے اور جن کی تعداد پاکستان کی سولہ کروڑ کی آبادی میں تقریبا گیارہ بارہ کروڑ ہے۔ جنرل مشرف کے یہ بظاہر عوام دوست اعلانات کتنی حد تک حقیقت میں تبدیل ہوں گے اس کا اندازہ تو وقت گزرنے کے ساتھ ہی ہوگا۔ اس وقت تک تو انہوں نے ملک میں ایک ’فیل گڈ فیکٹر‘ کی فضا بنانے کی کوشش کی ہے۔ |
اسی بارے میں فاٹا ارکان پارلیمان، مشرف ملاقات13 April, 2004 | پاکستان مشرف ہارڈ ٹاک میں: مکمل متن14 April, 2004 | پاکستان ’لوٹی دولت‘ واپس کی جائے: مشرف22 April, 2004 | پاکستان ’مشرف کو جلسوں سے روکا جائے‘08 April, 2006 | پاکستان زلزلہ متاثرین: صدر مشرف کا وعدہ09 April, 2006 | پاکستان بدعنوانیوں کی تحقیقات کا مطالبہ10 April, 2006 | پاکستان ’پولیٹکل ایجنٹ نظام بہتر کروں گا‘26 April, 2006 | پاکستان ہم جانور دوست قوم نہیں: مشرف13 May, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||