’لوٹی دولت‘ واپس کی جائے: مشرف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے ترقی یافتہ ملکوں پر زور دیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک سے جن لوگوں نے لوٹ کھسوٹ کا جو پیسہ ترقی یافتہ ممالک میں جمع کروا رکھا ہے، اُن کی حکومتیں وہ پیسہ ترقی پذیر ممالک کو واپس کریں۔ جمعرات کے روز بدعنوانی کے خاتمے کے متعلق اقوام متحدہ کے کنوینشن کے عنوان سے منعقد تین روزہ کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مشرف نے کہا کہ کرپشن میں بڑا حصہ حکمرانوں اور لیڈروں کا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، پہلے حکومت یہ سہولیات فراہم کرے پھر ایمانداری کی توقع کرے۔ جنرل مشرف نے کہا کہ دنیا والے کہتے تھے کہ جمہوریت لاؤ، جب انتخابات کرائے تو کرپٹ یا بدعنوان لوگ بھی کافی ووٹ لے کر آگئے اور اب حکومت میں بھی ان کا اہم کردار ہے۔ صدر مشرف کا کہنا تھا کہ وہ اسی لئے یہ کہتے ہیں کہ ہر ملک کی مختلف صورتحال ہوتی ہے جس کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جنرل مشرف نے کہا کہ ان کے متعارف کردہ اصلاحات کی وجہ سے حکومت کی آمدن بڑھی ہے اور اس سے جلد سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ کیا جائے گا، تا کہ ملازمین کا معیار زندگی بہتر ہو سکے۔ جنرل مشرف نے کہا کہ وہ بجلی فراہم کرنے کے ادارے واپڈا سے اکثر کہتے رہتے ہیں کہ بجلی کی تار میں کنڈا لگا کر بجلی چوری کرنے والے کو نہ پکڑو بلکہ جو امیر لوگ گھر میں دس ایئرکنڈیشنر لگا کر بجلی چوری کر رہے ہیں ان کو گرفتار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے سرکاری ملازمین میں سے دس فیصد مکمل طور پر ایماندار اور دس فیصد کرپٹ یا بدعنوان ہیں، جبکہ اسی فیصد ایسے ہیں کہ موقعہ ملنے پر بدعنوانی کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں احتساب کا طریقہ کار، ترقی پذیر ممالک کے لئے ایک بڑی مثال ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے پاکستان کے’ قومی احتساب بیورو‘ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس بیورو کی وجہ سے قومی خزانے میں تین ارب ڈالر کی لوٹی ہوئی رقم واپس جمع ہوئی ہے۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پہلے پاکستان کو دنیا میں دوسرے بڑے بدعنوان ملک کی حیثیت سے جانا جاتا تھا اور اب پاکستان بدعنوان ممالک کی فہرست میں بانوے یا ترانوے نمبر پر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حاضر سروس فوجیوں کے خلاف کارروائی ’قومی احتساب بیورو‘ کے دائرہ کار سے باہر اس لیے ہے کہ فوج کے اندر احتساب کا بہترین نظام موجود ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ریٹائرڈ فوجیوں کو بیورو والے پکڑ سکتے ہیں۔ صدر کا کہنا تھا کہ اب تک ایک سو پینسٹھ سیاستدانوں، تین سو چوالیس سول ملازمین، بارہ ریٹائرڈ فوجیوں اور اکیاسی کاروباری افراد کے خلاف مقدمات درج ہوئے۔ واضع رہے کہ بیس اپریل کو اس کانفرنس کا جب وزیراعظم نے افتتاح کیا تھا، اس وقت ایک ڈرامہ بھی دکھایا گیا تھا جس میں سیاستدانوں کو بڑا بدعنوان قرار دیا گیا تھا۔ افتتاحی تقریب میں اس ڈرامے کا ایک ڈائیلاگ یہ بھی تھا کہ جب وزیراعظم ہی کرپٹ ہو تو باقیوں کا کیا ہوگا۔ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں صدر مشرف کے بنائے ہوئے احتساب کے قانون میں ثالثی کی شق پر، جس کے مطابق بدعنوان شخص کو لوٹی ہوئی رقم واپس کرنے پر چھوڑ دیا جاتا ہے، تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ احتساب کے اس قانون کی یہ شق خود بڑی کرپشن ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||