| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرف واجپئی ملاقات کا خیر مقدم
بھارت اور پاکستان کے رہنماؤں کے درمیان سن 2002 کے بعد ہونے والی پہلی ملاقات کے بارے میں عمومی طور پر بہت مثبت بین الاقوامی رد عمل ہوا ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی اور پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے سارک کے سر براہ اجلاس کے موقعے پر ایک گھنٹے سے زیادہ علیحدگی میں تبادلۂ خیال کیا۔ امریکہ، برطانیہ، روس اور چین نے اس واقعہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ہمت افزا قراردیا ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک افسر نے کہا کہ یہ ملاقات اعتماد کی بحالی کا ایک اور ایسا قدم ہے جو بھارت اور پاکستان کے تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے اٹھاۓ جارہے ہیں ۔ روس کی وزارت خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ ملاقات دونوں کے درمیان پوری سطح پر مذاکرات کا نقطۂ آغاز ثابت ہوگی۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات کی بحالی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کا خیرمقدم کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ عمل جاری رہے گا۔ بارہویں سارک سربراہ اجلاس کا آج آخری دن ہے جس میں اعلان اسلام آباد جاری کیا جاۓ گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||