ہم جانور دوست قوم نہیں: مشرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ’ہم جانور دوست قوم نہیں ہیں‘ اور کتوں کے ساتھ بہتر سلوک نہ کرنے کی وجہ سے یہ دیکھا گیا ہے کہ پاکستانی کتےضرورت سے زیادہ ہی اطاعت گزار ہوتے ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں غیرملکی کتے زیادہ چوکس اور متحرک دکھائی دیتے ہیں۔ صدرِ پاکستان سنیچر کو لاہورمیں یونیورسٹی آف ویٹرنری سائنسز کے پہلے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ صدر جنرل مشرف نے کہا کہ ’میں نے زلزلہ متاثرہ علاقے میں آنے والے غیرملکی کتوں سے پاکستانی کتوں کا موازنہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ ہمارے کتے انتہائی حد تک دبے دبے یا اطاعت گزار رہتے ہیں۔‘ ’وہ سر جھکا کر تکلیف کے عالم میں بیٹھ جاتے ہیں جبکہ غیر ملکی کتے نہ صرف چوکنے نظر آئے بلکہ ہوشیاری سے ادھر ادھر دیکھتے نظر آئے۔‘ صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ’ہم انہیں مارتے ہیں۔‘ صدر پاکستان نے کہا کہ’ کتے بھی جاندار ہیں انسان کی طرح ان کا بھی ذہن ہوتا ہے، ان کی نفسیات ہوتی ہے، وہ برے سلوک سے متاثر ہوتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’میں جانتا ہوں کہ ہمارے کتوں کے ٹرینر انہیں مارتے ہیں۔‘
صدرِ پاکستان نے کہا کہ ’میں کتوں سے محبت کرتا ہوں اور جب کہیں جاتا ہوں تو کتے بھی ساتھ ہوتے ہیں جو کسی بھی ناپسندیدہ عمل پر نظر رکھتے ہیں، کاروں اور گاڑیوں کو سونگھتے ہیں اور نگرانی کا کام کرتے ہیں۔‘ جنرل مشرف نے اپنی اس تقریر کے دوران انسانی وسائل پر بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کا مسئلہ کرپشن اور اقربا پروری ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر صحیح افراد کو ان کا درست مقام دیا جائے تو پھر پاکستانی قوم میں ترقی کے لیے صلاحیت اور وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے۔‘ صدر پاکستان نے پاکستان سٹیل ملز اور نیشنل شپنگ کارپوریشن کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چھ سات سال میں جو کچھ بھی کامیابی حاصل کی ہے اس کی وجہ صرف اور صرف صحیح آدمی کو درست جگہ پر تعینات کرنا ہے۔ جنرل مشرف نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ’پاکستانی ذہنی استعداد کے حوالے سے کسی سے کمتر نہیں بلکہ ایک نسل کی حثیت سے وہ ذہنی طور پر برتر ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’انہیں دنیا بھر میں مختلف لوگوں سے ملنے کا تجربہ ہوا ہے اور وہ انہیں پاکستانی قوم کی انفرادی صلاحیت میں کوئی کمی محسوس نہیں ہوئی۔‘ تاہم انہوں نے کہا کہ ’ہم منظم نہیں ہیں اور لگن اور ایمانداری کی کمی ہے جس کی وجہ سے ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔‘ انہوں نے کہا: ’انسانی وسائل کی ترقی میں کامیابی کی کنجی ہے۔ علم کے زور پر دنیا پر حکمرانی کی جاتی ہے۔‘
صدر پاکستان نے کہا کہ ’مسلم ممالک میں دینا بھر کی توانائی کے ستر فی صد اور قدرتی وسائل کے چالیس سے پچاس فی صد وسائل پائے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود تمام ستاون مسلمان ممالک کی مجموعی خام پیداوار دو ہزار ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے جو صرف ایک ملک جاپان کی مجموعی خام پیداوار کی نصف سے بھی کم ہے ۔‘ انہں نے کہا کہ ’تمام مسلم امہ کی مجوعی پیداوار مغربی دنیا کے کسی ایک عام ملک کی پیداوار سے بھی کم ہے۔ ‘ صدر مشرف نے کہا کہ ’اس کی صرف ایک وجہ ہے اور وہ یہ کہ علم کی دنیا میں ہمارا کوئی مقام نہیں ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’اب بھی اگر اس جانب توجہ نہیں دی گئی تو مسلم ممالک اپنی معاشی نمو کو برقرار نہیں رکھ پائیں گے۔‘ یونیورسٹی کے کانووکیشن میں گورنر پنجاب نے یونیورسٹی کے چانسلر کے طور پر شرکت کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں پنجابی کے شاعر وارث شاہ کے کچھ شعر ترجمے کے ساتھ سنائے ان شعروں میں رانجھا کی جانوروں سے پیار اور ان کی دیکھ بھال اور ان سے حسن سلوک کا ذکر کیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں پشاور کی’ کتا منڈی‘20 December, 2004 | پاکستان ہائے وہ بچپن کے دن، وہ مٹی کے کھلونے21 December, 2003 | پاکستان بدعنوانیوں کی تحقیقات کا مطالبہ10 April, 2006 | پاکستان ’اماں جی‘ نصابی کتابوں میں30 November, 2005 | پاکستان امریکہ کا پالتو نہیں ہوں: مشرف28 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||