| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہائے وہ بچپن کے دن، وہ مٹی کے کھلونے
پاکستان کے بڑے شہروں میں مٹی کے کھلونوں کا تصور ہی ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ماضی میں بچے مٹی کے بنے ہوئے کھلونوں سے کھیلتے تھے لیکن اب مارکیٹیں غیر ملکی کھلونوں سے بھری پڑی ہیں جہاں جدید تخیلات پر مبنی کھلونے دستیاب ہیں۔ ان میں بغیر تار کے ریموٹ کنٹرول گاڑیاں اور جہاز، ناچنے اور گانے والی گڑیاں اور انتہائی مہارت سے بنائے گئے بچوں کے پستول، بندوقیں اور کلاشنکوف، شامل ہیں۔ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں غیر ملکی کھلونوں کی بھر مار ہے جس وجہ سے پاکستان کے بنے ہوئے کھلونے اپنا مقام کھو رہے ہیں۔
یہ کھلونے سستے داموں فروخت ہوتے ہیں جو ایک متوسط طبقے کے بچے خرید سکتے ہیں۔ پاکستان میں زیادہ تر کھلونے چین سے آتے ہیں جن میں بچے زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ تین سال سے پانچ سال تک کے بچوں سے جب کھلونوں کے بارے میں معلوم کیا تو انھوں نے مٹی کے کھلونوں کے بارے میں لا علمی کا اظہار کیا جبکہ سپائڈرمین، سپرمین بغیر تار کے چلنے والی ریموٹ کنٹرول گاڑیوں اور جدید اسلحے کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کردیں۔ ایک بارہ سالہ بچے شاہد نے بتایا کہ غیر ملکی کھلونوں میں نئے ماڈلز آتے ہیں اور ان میں نئے تخیلات ہوتے ہیں جو بچوں کی توجہ آسانی سے حاصل کر تے ہیں۔
کھلونوں کے ایک تاجر سید خالق داد نے بتایا کہ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں چین کے بنے کھلونے فروخت ہورہے ہیں جو نسبتا سستے اور پائیدار ہیں۔ پاکستان کے بنے ہوئے کھلونے مہنگے ہوتے ہیں ایک اور تاجر عبدالشکور نے بتایا کہ چین کے بنے ہوئے کھلونے باقاعدہ ٹیکس کی ادائیگی کے بعد کراچی کے راستے آتے ہیں جبکہ کچھ کھلونے غیر قانونی طور پر چین اور افغانستان کے راستے پاکستان آتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں کھلونے بنانے والے زیادہ منافع مانگتے ہیں جس وجہ سے وہ مہنگے ہو جاتے ہیں۔ مٹی کے کھلونے دیہاتوں میں اب بھی دستیاب ہیں لیکن پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور قوت خرید نہ ہونے کی وجہ سے غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے بچےان کھلونوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ ان بچوں کا وقت ٹوٹے برتنوں اور چوڑیوں سے ہی گز ر جاتا ہے۔ وہ اکثر دن میں بچوں کو سلا دیتی ہے اس ڈر سے گلی میں پھر کھلونے بیچنے والا نہ آجائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||