| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
عشقِ عنکبوت: بچپن کے دن بھُلا نہ دینا
محبوب کو پہچاننا یا بھول جانا صرف انسانی خصوصیت سمجھی جاتی ہے لیکن نئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کیڑوں مکوڑوں میں بھی یہ صلاحیّت موجود ہے۔ ماہرین نے مکڑی کی ایک خاص قسم ’بھیڑیا مکڑی‘ کے بارے میں دریافت کیا ہے کہ اسکا نر، مادہ کی نسبت بہت جلدی جوان ہو جاتا ہے چنانچہ بھرپور جوبن پر آنے سے پہلے ایک مادہ کو کئی نر ساتھیوں سے واسطہ پڑتا ہے اور وہ ان سب کواچھی طرح یاد رکھتی ہے۔ اسی لئے جوان ہونے کے بعد جب اسے ساتھی کی طلب ہوتی ہے تو وہ ان مکڑوں کو ترجیح دیتی ہے جن سے بچپن اور نوجوانی کے دنوں میں اسکا تعارف ہو چکا ہوتا ہے۔ اس پرانی جان پہچان کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جنسی عمل کے دوران، عمومی روش کے برعکس، مادہ اپنے نر کو مار کے کھا نہیں جاتی بلکہ اسکی جان بخش دیتی ہے۔ اس دیرینہ واقفیّت کا دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مادہ، ملتی جلتی کسی اور نسل کے مکڑے سے ملاپ نہیں کرتی اور اسطرح اپنی نسل کو کمزور ہونے سے بچاتی ہے۔ نیشنل اکیڈمی آف سائینِسز کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک اہم دریافت ہے اور مکڑیوں کے نسلی ارتقاء کو سمجھنے میں مدد گار ثابت ہوگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||